Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

فتوحات عراق و بلاد مشرق میں اللہ کی سنتوں کا ظہور

  علی محمد الصلابی

فتوحات عراق اور بلاد مشرق (عجم) کا گہری نظر سے مطالعہ کرنے والا ہر شخص یہ محسوس کرے گا کہ اللہ کی بعض سنتیں ہیں جن کا ظہور انسانی سماج اور رعایا، حکام اور حکومتوں میں ہوتا رہتا ہے۔ ان الہٰی سنتوں کا مختصر بیان یوں ہے:

 اسباب و وسائل کا استعمال

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

 وَاَعِدُّوۡا لَهُمۡ مَّا اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ قُوَّةٍ وَّمِنۡ رِّبَاطِ الۡخَـيۡلِ تُرۡهِبُوۡنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَعَدُوَّكُمۡ وَاٰخَرِيۡنَ مِنۡ دُوۡنِهِمۡ‌ لَا تَعۡلَمُوۡنَهُمُ‌ اَللّٰهُ يَعۡلَمُهُمۡ‌وَمَا تُـنۡفِقُوۡا مِنۡ شَىۡءٍ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ يُوَفَّ اِلَيۡكُمۡ وَاَنۡـتُمۡ لَا تُظۡلَمُوۡنَ‏ ۞ (سورۃ الأنفال آیت 60)

ترجمہ: اور (مسلمانو) جس قدر طاقت اور گھوڑوں کی جتنی چھاؤنیاں تم سے بن پڑیں ان سے مقابلے کے لیے تیار کرو جن کے ذریعے تم اللہ کے دشمن اور اپنے (موجودہ) دشمن پر بھی ہیبت طاری کرسکو، اور ان کے علاوہ دوسروں پر بھی نہیں ابھی تم نہیں جانتے، (مگر) اللہ انہیں جانتا ہے۔ اور اللہ کے راستے میں تم جو کچھ خرچ کرو گے، وہ تمہیں پورا پورا دے دیا جائے گا، اور تمہارے لیے کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں اس آیت کے وسیع مفہوم اور تقاضوں کو بالکلیہ نافذ کیا اور اس وقت کے تمام تر مادی و معنوی اسباب کو استعمال کیا، جیسا کہ پچھلے مباحث میں ہم نے دیکھ لیا۔