تدافع ایک گروہ کے ذریعہ سے دوسرے گروہ کو ہٹانے کا قانون الہٰی
علی محمد الصلابیاللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَلَوۡلَا دَفۡعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعۡضَهُمۡ بِبَعۡضٍ لَّفَسَدَتِ الۡاَرۡضُ وَلٰـکِنَّ اللّٰهَ ذُوۡ فَضۡلٍ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ۞(سورۃ البقرة آیت 251)
ترجمہ: اگر اللہ لوگوں کا ایک دوسرے کے ذریعے دفاع نہ کرے تو زمین میں فساد پھیل جائے، لیکن اللہ تمام جہانوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے۔
ہمیں یہ سنت الہٰی عموماً تمام فتوحات میں نظر آتی ہے، ایک فرد، گروہ اور حکومت کے ذریعہ سے دوسرے فرد، گروہ اور حکومت کو ہٹانے کی یہ سنت الہٰی کائنات میں اللہ کے اہم اور عظیم اصولوں میں سے ایک ہے، اس کا تعلق امت اسلامیہ کو غلبہ واقتدار دینے سے ہے۔ امت مسلمہ کے ہر اول دستے نے اس الہٰی سنت کے ہمہ جہت مثبت اثرات کو نگاہوں کے سامنے رکھا، انہیں عملی جامہ پہنایا اور جان لیا کہ حق کی سربلندی کے لیے پختہ عزائم، مضبوط بازوؤں، پر سوز دلوں اور زندہ اعصاب کی ضرورت ہے۔ وہ انسانوں سے قربانیاں چاہتا ہے۔ اس لیے کہ ہمیشہ سے دنیوی زندگی میں اللہ کا یہی قانون چلا آرہا ہے اور قیامت تک باقی رہے گا۔
(لقاء المومنین: عدنان النحوی: جلد 2 صفحہ 117)