قدمِ عالم کے قول کے بطلان پر ایک دوسری دلیل - ردِ رافضیت |…

قدمِ عالم کے قول کے بطلان پر ایک دوسری دلیل

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 5

انہوں نے کہا اور یہ وہی بات ہے جس پر جمہورِ عقلاء متفق ہیں یہاں تک کہ ارسطوا اور اس کے متقدمین اتباع بھی یہ کہتے ہیں کہ بے شک ممکن وہ صرف اور صرف محدث ہی ہوتا ہے اسی طرح ابن اردس اور اکیل اور اس کے علاوہ دیگر متاثرین کی بھی یہی رائے ہے اور بے شک اس نے یہ کہا کہ ممکن قدیم ہوتا ہے یہ ان میں سے ایک گروہ نے کہا ہے جیسا کہ ہ ابن سینا اور ان کے امثال اور اس بات پر اس کی اتباع امام رازی اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں نے کی ہے اورکہ جن کا ان کے پاس کوئی صحیح جواب نہیں جس طرح کے ان میں بعض امام رازی رحمہ اللہ نے اپنی محصل میں ذکر کیے ہیں اور ان کے محققین اس بات کے قائل نہیں ہیں کہ فاعل کی طرف محتاج محض حدوث ہیں تاکہ وہ اس بات کے قائل ہو جائیں کہ محدث چیز اپنی بقا کی حالت میں فاعل سے مستغنی ہے بلکہ وہ یہ کہتے ہیں کہ وہ فاعل کی طرف حالتِ حدوث اور حالتِ بقا دونوں میں محتاج ہیں اور یقیناً ممکن وہ پیدا ہی نہیں ہو سکتا اور نہ پھر پیدا ہونے کے بعد باقی رہ سکتا ہے مگر کسی موثر کی وجہ سے پس یہ وہ بات ہے کہ جس پر مسلمانوں کے جمہورِ علماء اس کے قائل ہیں بلکہ اس پر جمہورِ عقلاء بھی اس کے قائل ہیں اور وہ بھی یہ نہیں کہتے کہ عالم میں سے کوئی شے ایسی بھی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے غنی ہے اپنی حالتِ بقا میں ، بلکہ وہ یہ کہتے ہیں کہ جب یہ بات فرض کر دی گئی کہ کوئی بھی حادث ایسا نہیں ہے بلکہ یہ بات فرض کر دی گئی کہ وہ حادث نہیں ہیں تو یہ بات ممتنع ہوئی کہ وہ مفعول بنے اور کسی موثری کی طرف محتاج بنیں پس ان کے نزدیک بھی قدم وہ فاعل کی طرف محتاج ہونے کے منافی ہے اور اس طرح اس کا مفعول ہونے کے منافی ہے پس ان کے نزدیک یہ حدوث یہ کسی شے کے مفعول بننے کے لواز م میں سے ہے پس ان کے نزدیک یہ بات ممتنع ہوئی کہ وہ مفعول بنے ،مفعولِ قدیم بنے اور یہ خبریہ اور جبریہ صرف جبریہ وغیرہ کا قول نہیں بلکہ جمہورِ عقلاء کا قول ہے اور یہی جمہورِ عقلاءِ فلاسفہ کا قول بھی ہے۔

رہا فلک کا مفعولِ قدیم بنانا تو یہ فلاسفہ میں سے چھوٹی سی جماعت کا قول ہے اور جمہورِ عقلاء کے نزدیک یہ اس کا فساد بالکل واضح ہے اور بدیہی طور پر معلوم ہے اسی وجہ سے عقلاء میں سے جس نے اس بات کا تصور کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا ہے تو اس کا یہ تصور بھی پیدا ہوا کہ یہ آسمان و زمین یہ وجود میں آئے بعد اس کے کہ معدوم تھے اور جس نے بھی اس بات کا تصور کیا کہ موجودات میں سے کوئی شے ایسی بھی ہے کہ جو مصنوع ہے یعنی اسکو پیدا کیا گیا ہے یعنی اللہ تعالیٰ مفعول ہے تو ا س کا یہ تصور بھی اس کے ساتھ ہوا کہ یہ چیز حادث ہوگی اور رہا اس بات کا تصور کہ وہ مفعول ہے اور وہ قدیم ہے تو یہ باتیں عقل میں آتی ہیں بطورِ فرض کے جس طرح کہ جمع بین النقیضین کو صرف فرض ہی کیا جا سکتا ہے یعنی خارج میں اس کا کوئی وجو دنہیں اور جو لوگ یہ بات کرتے ہیں تو وہ اس بات کو ممکن فرض کرنے میں انتہائی تاب اور مشقت اٹھاتے ہیں جس طرح کے دوسرے ممتنع اقوال کے قائلین بھی بہت ہی مشقت میں پڑے ہوئے ہیں اور پھر اس کے ساتھ ساتھ فطرتِ سلیمہ بھی اس بات کو رد کرتی ہے اور اس کودفع کرتی ہے اور ہر گز اس کو قبول نہیں کرتی اور اس سے زیادہ تعجب کی بات تو ان لوگوں کا عالم کا محدث نام رکھنا ہے اور وہ اس سے مراد لیتے ہیں کہ وہ علتِ قدیمہ کا معلول ہے اور جب ان سے پوچھا جائے کہ کیا عالم حادث ہے یا قدیم تو جواب میں کہتے ہیں کہ وہ حادث اور قدیم دونوں ہیں اور اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ فلک وہ بذاتِ خود قدیم ہے اور ازل سے ہے اور یہ بات بھی کہ حادث ہے تو اس بات سے کہ وہ حادث ہے ان کی مراد اس کے حادث ہونے سے یہ ہے کہ وہ معلول ہے کسی علتِ قدیمہ کا۔

ان لوگوں کے استدلال کا بطلان جو امکان اور حرکت پر لفظ افول سے استدلال کرتے ہیں جو ابراہیم علیہ السلام کے قول میں مذکور ہے :

اور یہ ابن سینا اور باطنیہ میں سے ان کے امثال لوگوں کی عبارت ہے اس لیے کہ وہ مسلمانوں کی عبارات لیتے ہیں اور ان کو اپنے من مانی معانی پر محمول کرتے ہیں جس طرح کہ انہوں نے لفظ ’’افول ‘‘میں بھی کہا ہے کیوں کہ یقیناً اس نئے کلام کے قائلین جب کہ انہوں نے افعال کے حدوث پر استدلال کیا ۔اس جملے کو اس طرح لکھا جائے اس لیے کہ یقیناً اس نئے کلام کے قائلین نے جب افعال کے حدوث کے ذریعے اس فاعل کے حدوث کے پر استدلال کہ جس کے ساتھ افعال قائم ہوتے ہیں اور انہوں نے یہ خیال کیا کہ ابراہیم علیہ السلام نے بھی اس سے استدلال کیا ہے اور یقیناً افول سے ان کے قول میں افول سے مراد حرکت اور اتصال ہے اور یہ کہ یقیناً اس نے اس بات کے ذریعے یعنی لفظِ افول کے ذریعے استدلال کیا ہے متحرک اور منقل کے حدوث پر ابن سینا نے اس مادے کو اس کے اصل کی طرف منتقل کر دیا ہے اور اس نے اپنی اشارات نامی کتا ب میں اس بات کو ذکر کیا ہے پس اس نے اس لفظ افول کو امکان سے عبارت قرار دیا ہے یعنی یہ امکان کے معنی میں ہے اور اس نے کہا کہ جو چیز امکان کے حضیراہ میں یعنی امکان کے حوض میں گر پڑا تو وہ گویا وہ حرکت کے تالاب میں جھنڈ میں گر پڑا اور اس کا لفظ یہ ہے ابن سینا کا لفظ یہ ہے یقیناً ہوا جو ہے حضیرت الامکان میں وہ افول ہی ہے اور انہوں نے یہ بات اس لیے کہ کہ اس کا ارادہ یہ ہے کہ وہ اپنے سے گذشتہ فلاسفہ کے قول کے مطابق جو ہے بات کریں باوجود یہ کہ وہ اس کے بھی قائل ہیں کہ جو متکلمین کے طریقے کے مشابہ ہے اور متکلمین نے تو جسم کے حدوث پر ترکیب کے طریقے پر استدلال کیا ہے پس اس نے اس ترکیب کو امکان پر دلیل قرار دیا اور متکلمین نے اپنی دلیل کو وہی دلیل قرار دی جو ابراہیم علیہ السلام کی دلیل ہے اپنے اس قو ل کے ذریعے:

﴿لَا أُحِبُّ الْآَفِلِینَ ﴾ (انعام:۷۶) 

’’میں ڈوبنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘

صفحہ 2 از 5