قدمِ عالم کے قول کے بطلان پر ایک دوسری دلیل - ردِ رافضیت |…

قدمِ عالم کے قول کے بطلان پر ایک دوسری دلیل

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 5

اس کی تفسیر یوں کی ہے کہ اس میں آیت اُفُوْل حرکت ہے۔ پس ابن سینا نے کہہ دیا کہ ایک قوم اس بات کی قائل ہے کہ یہ شے محصوص موجود لذاتہ ہے اور واجب بنفسہ ہے لیکن جب تو یاد کرے گا وہ بات جو واجب الاوجود بننے کے لیے شرط ہے تو پھر تم اس محصوص کو واجب نہیں سمجھو گے اور تو اللہ تعالی کے اس قول ’’لَا أُحِبُّ الْآَفِلِینَ‘‘ (انعام:۷۶)کی اطلاع کرو گے اس لیے کہ امکان کے حوض میں جو ہے گرجانا یہی افول ہے۔ اور شر سے اس کی مراد یہ ہے کہ وہ ذات مرکب نہیں اور جو چیز مرکب ہو تو وہ ممکن ہوتی ہے واجب نہیں ہوتی اور ممکن ہی عاقل ہے یعنی غروب ہونے والا ہے یا متحرک ہے۔ اس لیے کہ امکان ہی تو افول ہے اور ان کے نزدیک آخر یہ وہی ذات ہے جو موجود بغیریہی ہو یعنی اس کا وجود کسی غیر کے سبب ہو اور وہ اس بات کے قائل ہیں کہ ہم ممکنات کے امکان کے ذریعے واجب پر استدلال کرتے ہیں اور ہم کہتے ہیں کہ عالم قدیم ہے ،ازل سے ہے اور ہمیشہ کے لیے رہے گا اور اہم اللہ تعالی کے اس قول ’’لَا أُحِبُّ الْآَفِلِینَ کا معنی یہ بتلاتے ہیں کہ ’’میں ممکن کو پسند نہیں کرتا ہوں ‘‘اگرچہ ممکن واجب الاوجود لغیریہی ہے قدیم اور ازلی ہے اور ازل سے ہے اور ہمیشہ رہے اور اور یہ بات تو معلوم ہے کہ دونوں باتوں میں سے ہر ایک تحریف کے قبیل سے ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے کلمات کو اپنے اصل مراد سے ہٹا دینا ہے اور افول تو افک میں غائب ہونا ہے پردہ کے پیچھے چلے جانا ہے نہ کہ امکان کے معنی میں ہے اور نہ حصر کے معنی میں ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے اس قول کے ذریعے حدوث ِ کواکب پر استدلال نہیں کیا اور نہ سامنے کی اس بات پر؛ بلکہ اس نے اس لفظ افو ل کے ذریعے استدلال کیا ان کی عبادت کے بطلان پر؛ اس لیے کہ یہ عقیدہ مشرکین کا تھا جو کواکب کی عبادت کرتے تھے اور اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکارتے تھے۔

وہ یہ نہیں کہتے تھے کہ یہی کواکب جو ہیں انہوں نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے اس لیے کہ اس کا تو کوئی بھی عاقل عقلمند قائل نہیں اسی وجہ سے انہوں نے یہ کہا

﴿یَا قَوْمِ إِنِّی بَرِیء ٌ مِمَّا تُشْرِکُونَ ﴾( انعام: ۷۸)

’’ اے میری قوم ! میں تمہارے ان شرکیہ اعمال سے بری ہوں ۔‘‘

اور یہ بھی کہا:

﴿ أَفَرَأَیْتُمْ مَا کُنْتُمْ تَعْبُدُونَ ۰أَنْتُمْ وَآَبَاؤُکُمُ الْأَقْدَمُونَ ۰ فَإِنَّہُمْ عَدُوٌّ لِی إِلَّا رَبَّ الْعَالَمِینَ ﴾( شعراء : ۷۵ )

’’کہا تو کیا تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے۔ تم اور تمھارے پہلے باپ دادا۔سو بلاشبہ وہ میرے دشمن ہیں ، سوائے رب العالمین کے۔‘‘

اور اس بات پر کلام اس کے علاوہ کئی جگہ تفصیل سے گزر چکا ہے۔

مقصود تویہاں پر یہ ہے کہ یہ قوم ان مسلمانوں کی عبارات لیتے ہیں جنھوں نے ان عبارات سے کوئی ایک معنی مراد لیا ہے تو یہ ان الفاظ سے ایک دوسرا معنی مراد لیتے ہیں جو مسلمانوں کے دین کے منافذ اور الٹ ہوتا ہے تاکہ اس کے ذریعے یہ بات ظاہر ہو جائے کہ یہ مسلمانوں کے موافق ہیں ان کے اقوال میں اور یہ کہ وہ اس بات کے بھی قائل ہیں کہ عالم حادث ہے اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ جتنے بھی ماسوا ہیں تو وہ ہمارے نزدیک بھی عافل ہیں اور محدث ہیں اس معنی پر کہ وہ اس کے لیے معلول ہیں اگرچہ وہ خود قدیم اور ازلی ہیں اس کی ذات کے ساتھ اور واجب ہیں اس کی وجہ سے یعنی واجب لغیریہی اور ازل سے ہیں اور ہمیشہ کے لیے رہیں گے اور جب جمہورِ عقلاء اس بات کے قائل ہیں کہ مفعول صرف اور صرف حادث ہی بن سکتا ہے خاص طور پر۔

پس ان کے[قدم کے قائلین] قول سے یہ بات لازم آتی ہے کہ حوادث کا حدوث بغیر کسی سبب کے ممکن ہے۔ اور یہ بات بھی کہ اصل موثر تام کی طرف محتاج نہیں ہے؛جو اپنے وجود میں بلکہ قادر ذات اپنے دو مقدورین میں سے کسی ایک کو بغیر کسی مرجع کے ترجیح دیتا ہے اور عالم کے حدوث کے قائلین کا قول اس بات کو مستلزم ہے کہ مفعول مطلق یا مفعول جو کہ قدرت اور ارادے اور اختیار سے وجود میں آتا ہے وہ ازل سے قدیم اور ازلی ہے۔ اپنے فاعل کے ساتھ اور اس فعل کے ساتھ مقارن ہے پس ان دونوں گروہوں کے قول پر جو دو باتیں لازم آتی ہیں ؛ ان میں سے ایک تو بات لازم آگئی کہ کوئی فاعل قادرِ مختار ہو اور بغیر کسی مرجح کے اپنے دو مقدورین میں سے ایک کو ترجیح دے اور اس کے باوجود اس کا مفعول قدیم اور ازلی بھی ہو؛ لیکن عقلاء میں سے ہمارے علم کے مطابق کسی نے بھی ان دو لازم آنے والی باتوں کا التزا م نہیں کیا ہے یعنی اس کا کوئی قائل نہیں ۔

اگر یہ بات فرض کر لی جائے کہ اس کا کوئی قائل ہے تو تحقیق اس نے دو ایسے ملزومین کا اقرار کر لیا کہ جو دونوں باطل ہیں اور ان میں سے ہر ایک برہان اور دلیل کے ساتھ باطل ہے اور عقلاء میں سے کوئی بھی ایسے دو باطل ملزومین کے درمیان جمع (کرنے کے جواز )کا قائل نہیں ہے۔ اور تمام کے تمام عقلاء اس بات پر برہانِ قاطع کے ساتھ رد کرتے ہیں لیکن دو گروہوں میں سے ہر ایک گروہ کے کلام کامعارضہ اور مقابلہ دوسرے گروہ کے کلام کے ساتھ کرتے ہیں ۔ اور اس کا زیادہ سے زیادہ نتیجہ یہ نکلتاہے کہ ایک گروہ کے عقیدہ کا کچھ حصہ فاسد ہو جاتا ہے اور دوسرے گروہ کے عقیدہ کاکچھ حصہ بھی فاسد ہو جاتا ہے۔ لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ دونوں قولین میں سے ہر ایک کے فساد کو وہ جمع کرے اور نہ ان دونوں قسم کے تصادم کے ساتھ جمع عطاء ہے بلکہ یہ تو اس کے قول کے رد کرنے پر بہت زیادہ ابلغ ہے۔

صفحہ 3 از 5