قدمِ عالم کے قول کے بطلان پر ایک دوسری دلیل - ردِ رافضیت |…

قدمِ عالم کے قول کے بطلان پر ایک دوسری دلیل

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 5

یہ بھی (ملحوظ رہے )کہ ان دو طائفتین میں سے ہر ایک دو فسادوں میں سے ایک فساد سے فرار اختیار کرتی ہے اور دوسرے امر کو فاسد نہیں سمجھتی اور اس نے من کل الوجوہ الصحیح کو جمع کرنے اورمن کل الوجوہ فاسد سے سلامتی کی طرف سیدھی راہ نہیں پائی پس اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اس گروہ پر اس چیز کا الزام لگائے جس کے فساد کو وہ جانتا ہے ساتھ ان امور کے جن کے فساد کا اسے علم نہیں ،پس وہ اُس کو اس قول کا الزام دے جو من کل الوجوہ فاسد ہے اور اس قول سے اسے نکال لے جو پورا کا پورا صحیح ہے اس لیے کہ اس طائفے کے قول کی مثال اس رنگ برنگ چیز کی ہے جس میں سفید وسیاہ دونوں ہوں اور ظاہر ہے کہ ایسا چت کبرا خالص کالے سے بہتر ہے۔

کیونکہ وہ گروہ جس نے یہ کہا کہ قادر ذات کے لیے اپنے دو مقدورین میں سے ایک کو دوسرے پر ترجیح دینا بغیر کسی مرجح کے ممکن ہے تو اس نے یہ بات اس لیے کہی ہے کہ وہ یہ بات جانتا ہے کہ فاعلِ قادر کے لیے ضروری ہے کہ اس کا فعل حادث ہوا ور اس کا فاعل ہونا باوجود فعل کے قدیم ہونے کے یہ جمع بین النقیضین ہے۔ اور انہوں نے فعل کے نوع اور فعل کے عین کے درمیان فرق کی طرف سیدھی راہ نہیں پائی یعنی اس کو وہ نہیں سمجھے بلکہ ان کا اعقاد یہ بھی ہے کہ یہ بات ممتنع ہے کہ حوادث کے لیے کوئی اول نہ ہو یعنی حوادث کا ازلی ہونا ممتنع ہے پس اس کا لازمی نتیجہ ہے کہ وہ اس کا بھی قائل ہو گا کہ فعل کا دوام بھی ممتنع ہے لہٰذا لازم آئے گا کہ وہ ذات فاعل تھا بعد اس کے کہ وہ فاعل نہیں تھالہٰذاقادر کا اپنے دو مقدورین میں ایک کا دوسرے پر بلا مرجح کے ترجیح دینا لازم آئے گا ،کیونکہ قادریت یعنی کسی فعل پر قادر ہونا ،یہ خاص نہیں ہے اور ازل سے نہیں ہے ۔

اگر اس کے اختصاص کا یا اس کے حدوث کا قول اختیار کیا جائے تو صفتِ قدرت کا حدوث لازم آئے گا بغیر کسی محدث کے یعنی بغیر کسی موجب کے اور اس کا تخصیص بلا کسی مخصص کے لازم آئے گا اور یہ بات بھی (لازم آئیگی )کہ وہ بغیر کسی سبب کے قادر بنا بعد اس کے کہ وہ قادر نہیں تھا اور امتناع کی صفت سے امکان کی طرف فعل منتقل ہوا بغیر کسی ایسے سبب کے جو اس انتقال کا موجب ہواور تقاضا کرتا ہو اور جب یہ بات ممکن ہوئی تو اس کا اپنے دو مقدورین میں سے کسی ایک کے لیے مرجح ہونے کا امکان تو بطریقِ اولیٰ ثابت ہو جائے گا اور یہ جو لوازم ہم نے ذکر کر لیے اگرچہ جمہور ان کے بطلان کے قائل ہیں اور وہ یہ کہتے ہیں کہ ہمیں ان لوازم کی طرف ان ملزومات نے مجبور کردیا جو ہم نے پیچھے ذکر کر دیئے یعنی ان کا یہ گمان کر نا کہ نوعِ حوادث اور عینِ حوادث کے درمیان کوئی فرق نہیں اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ان لوازم کے ساتھ ان ملزومات کے انتفاء کے بھی قائل ہو جاؤ تو وہ کہتے ہیں کہ قادر اپنے دو مقدورین میں سے ایک کو بغیر کسی مرجح کے ترجیح دیتا ہے اور حوادث کو بغیر کسی سبب کے پیدا کرتا ہے باوجود یہ کہ فاعلِ قادر کے ساتھ اس کا ساتھ مفعولِ متعین مقارن اور متصل ہوتا ہے ۔

یہ بات بھی کہ عینِ فعل اور عینِ مفعول کے لیے کوئی اول ثابت نہیں یعنی وہ ازلی ہیں پس ان کے ذہن میں یہ بات لازم آتی ہے کہ وہ ایسے لوازم کے قائل ہو جائیں کہ جن کا بطلان ان کے اُن ملزومات کی نفی کے ساتھ ظاہر ہے جو ان کے اس نظر سے ثابت ہوتے ہیں اور واضح طور پر باطل ہیں اورا س میں بھی جس کا بطلان مخفی ہے پس تحقیق ان پر اس بات کا الزام آتا ہے کہ وہ ایسے لازمِ باطل کے قائل ہو گئے ہیں جس کی طلب کوئی حاجت ہی نہیں اور ساتھ ساتھ اس چیز کی نفی کے جس چیز نے ان کو ان کی طرف محتاج کر دیا باوجود اس میں کچھ حق تھا اور باطل بھی تھا اوراسی طرح وہ گروہ جو عالم کے قدم کے قائل ہیں ۔

انہوں نے جب اس بات کا اعتقاد کر لیا کہ فاعل کافاعل بننا بعد اس کے کہ وہ فاعل نہیں تھا یہ بات ممتنع ہے اور یہ بھی (ممتنع ہے )کہ وہ کسی حادث کو وجود دے لیکن وہ (وجود دینا )کسی خاص وقت میں نہ ہو اور عدمِ محض میں وقت کا پایا جاناممتنع ہے تو وہ بھی دوامِ نوع اور دوامِ عین کے درمیان فرق کی طرف راہ نہ پا سکے ۔ اور انہوں نے یہ گمان کیا کہ یہ عین ِ مفعول کے قدم کو مستلزم ہے پس ان کے قول پر ایک ایسے مفعولِ قدیم کا وجود لازم آتا ہے کہ جو ازلی ہو اور فاعل کے ساتھ مقارن ہو

پھر ان میں سے بعضوں نے یہ کہا کہ کسی فاعل کا اپنے اختیار کے ساتھ اس طور پر فاعل ہونامعقول نہیں کہ اس کے ساتھ اس کا مفعول قدیم اسکے ساتھ مقارن ہو (پس اس سے فرار کیلئے )انہوں نے کہا کہ وہ تو موجب بالذات ہیں ،اختیار کے ساتھ فاعل نہیں ہیں اور انہوں نے التزام کیا ایک ایسے لازم کا جو جمہورِ عقلاء کے نزدیک معلوم الفساد ہے یعنی ایک ایسے مفعولِ معین کا وجود جو اپنے فاعل کے ساتھ مقارن ہو ازلاً و ابداً اور وہ (اس محذور کے اثبات سے بچنے کیلئے )اس کے قائل ہوئے کہ اس کافاعل ہونا ثابت ہوگا بعد اس کے کہ وہ فاعل نہیں تھا ۔

صفحہ 4 از 5