قدمِ عالم کے قول کے بطلان پر ایک دوسری دلیل - ردِ رافضیت |…

قدمِ عالم کے قول کے بطلان پر ایک دوسری دلیل

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 5 از 5

جب ان سے کہا جائے کہ تم اپنے اس قول کے قائل بن جاؤ ساتھ تمہارے اس قول کے بھی کہ یہ بات ممکن ہے کہ وہ ذات فاعل بن جائے بعداس کے کہ وہ فاعل نہیں تھا اور پھر وہ اپنے دو مقدورین میں سے ایک کو بلا کسی مرجح کے ترجیح دیتا ہے تو تحقیق ان کے ذمے یہ بات لازم آتی ہے کہ وہ ایک ایسے امر کے قائل ہو جائیں جو پورا کا پورا باطل ہے اور یہ بھی (لازم آئیگا)کہ وہ قائل ہو جائیں ایک ایسے لازم کا جس کا (کلی طور پر)بطلان ظاہر ہے بغیر اس ملزوم کے جس میں کچھ حق اور کچھ باطل ہے جس نے ان کو اس لازم کی طرف مجبور کر دیا اور یہ بھی (لازم آئیگا)کہ اس تقدیر پر جس طرح ابھی ہم بات کر رہے ہیں اور وہ یہ (تقدیر )ہے کہ کوئی ازلی ان حوادث کو مستلزم نہیں ہوتا بلکہ وہ حادث موجود ہوتے ہیں بعد اس کے کہ وہ معدوم تھے تو اس تقدیر پر لازم آئے گا کہ یہ عالم تمام کسی زمانے حوادث سے میں خالی تھا اور اس کے بعد اس میں بلا کسی سببِ حادث کے یہ حوادث موجود ہوئے اور یہ تو ان حرَّانیین کے قول کی طرح ہے جو کہ پانچ اشیاء کے قدیم ہونے کے قائل ہیں اور ان کو واجب بنفسہ مانتے ہیں ۔ایک واجب بنفسہ ،دوسرا مادہ ،تیسرا مدت ،چوتھا نفس اور پانچواں ھیولیٰ ،جس طرح کہ دیموقراطیس ،ابن زکریا طبیب اور جو ان دونوں کے موافقین ہیں ،اس کے قائل ہیں یا اس قول کے مشابہ ہے جو بعض قدماء سے منقول ہے اور وہ یہ ہے کہ عالم کے جواہر (اجسام)ازلیہ ہیں (اور یہی تو قدم ِ مادہ کا قول ہے)اور (یہ ازلی اجسام ) بغیر کسی نظم و ضبط کے متحرک تھے پھر اتفاقاً (بغیر کسی سبب موجب کے )یہ آپس میں ایک خاص ترتیب سے ملے جس سے یہ عالم وجود میں آیا۔




صفحہ 5 از 5