ابتلاء وآزمائش کا قانون الٰہی
علی محمد الصلابیاللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَـنَّةَ وَ لَمَّا يَاۡتِكُمۡ مَّثَلُ الَّذِيۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلِكُمۡ مَسَّتۡهُمُ الۡبَاۡسَآءُ وَالضَّرَّآءُ وَزُلۡزِلُوۡا حَتّٰى يَقُوۡلَ الرَّسُوۡلُ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ مَتٰى نَصۡرُ اللّٰهِ اَلَاۤ اِنَّ نَصۡرَ اللّٰهِ قَرِيۡبٌ ۞ (سورۃ البقرة آیت 214)
ترجمہ: (مسلمانو) کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم جنت میں (یونہی) داخل ہوجاؤ گے، حالانکہ ابھی تمہیں اس جیسے حالات پیش نہیں آئے جیسے ان لوگوں کو پیش آئے تھے جو تم سے پہلے ہو گزرے ہیں۔ ان پر سختیاں اور تکلیفیں آئیں، اور انہیں ہلا ڈالا گیا، یہاں تک کہ رسول اور ان کے ایمان والے ساتھ بول اٹھے کہ “ اللہ کی مدد کب آئے گی؟” یا درکھو! اللہ کی مدد نزدیک ہے۔
فتوحات عراق میں خاص طور پر معرکہ جسر جس میں حضرت ابوعبیدؓ نے دریا عبور کر لیا تھا، مسلمانوں کے سر آزمائش آپڑی، ہزاروں مسلمان شہید کر دیے گئے اور ان کا لشکر شکست سے دوچار ہوا۔ لیکن دوبارہ سنبھلے، صف بندی کی اور فارسیوں پر متعدد معرکوں میں کامیابی پائی، ارشاد الہٰی ہے:
لَـتُبۡلَوُنَّ فِىۡۤ اَمۡوَالِكُمۡ وَاَنۡفُسِكُمۡ ۞ (سورۃ آل عمران آیت 186)
ترجمہ: (مسلمانو) تمہیں اپنے مال و دولت اور جانوں کے معاملے میں (اور) آزمایا جائے گا۔
ان آیات کریمہ کے اندر یہ بات صاف طور سے دیکھی جا سکتی ہے کہ امت مسلمہ پر ابتلاء و آزمائش کے نزول کا بیان نہایت یقینی اور تاکیدی شکل میں ہوا ہے۔
(التمکین للأمۃ الإسلامیۃ فی ضوء القرآن: صفحہ 237)
پس اس قانون الہٰی کی روشنی میں ضروری ہے کہ امت اپنی اعتقادی و دعوتی تحریک میں مشکلات ومصائب کا سامنا کرے، جانی و مالی تکلیفیں برداشت کرے اور ان تمام عوارض کا نہایت صبر وہمت سے مقابلہ کرے۔
(تبصیر المومنین بفقہ النصر والتمکین: الصلابی: صفحہ: 456)