ظلم اور ظالموں کے بارے میں قانون الہٰی
علی محمد الصلابیاللہ تعالیٰ کا فرمان الہٰی ہے
ذٰلِكَ مِنۡ اَنۡۢبَآءِ الۡـقُرٰى نَقُصُّهٗ عَلَيۡكَ مِنۡهَا قَآئِمٌ وَّحَصِيۡدٌ ۞ وَمَا ظَلَمۡنٰهُمۡ وَلٰـكِنۡ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ فَمَاۤ اَغۡنَتۡ عَنۡهُمۡ اٰلِهَتُهُمُ الَّتِىۡ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ شَىۡءٍ لَّمَّا جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ وَمَا زَادُوۡهُمۡ غَيۡرَ تَتۡبِيۡبٍ۞ وَكَذٰلِكَ اَخۡذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الۡقُرٰى وَهِىَ ظَالِمَةٌ اِنَّ اَخۡذَهٗۤ اَلِيۡمٌ شَدِيۡدٌ ۞(سورۃ هود آیت 100، 101 102)
ترجمہ: یہ ان بستیوں کے کچھ حالات ہیں جو ہم تمہیں سنا رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ (بستیاں) وہ ہیں جو ابھی اپنی جگہ کھڑی ہیں، اور کچھ کٹی ہوئی فصل (کی طرح بےنشان) بن چکی ہیں۔ اور ان پر ہم نے کوئی ظلم نہیں کیا، بلکہ انہوں نے خود اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب تمہارے پروردگار کا حکم آیا تو جن معبودوں کو وہ اللہ کے بجائے پکارا کرتے تھے، وہ ان کے ذرا بھی کام نہ آئے، اور انہوں نے ان کو تباہی کے سوا اور کچھ نہیں دیا۔ اور جو بستیاں ظالم ہوتی ہیں، تمہارا رب جب ان کو گرفت میں لیتا ہے تو اس کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے۔ واقعی اس کی پکڑ بڑی دردناک، بڑی سخت ہے۔
ظالم اقوام کو تباہ و برباد کرنے کا نظام الہٰی ہمیشہ سے جاری ہے، فارسی بادشاہت نے اپنی رعایا پر ظلم کی تمام تدبیروں کو آزمایا تھا، اللہ کے بتائے ہوئے قانون اور نظام زندگی کو چیلنج کیا تھا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان پر سنت الہٰی نافذ ہوئی، اس نے فارسیوں پر مسلمانوں کو مسلط کر دیا اور مسلمانوں نے انہیں اس صفحہ ہستی سے نابود کر دیا۔
(السنن الإلٰہیہ فی الأمم والجماعات والأفراد: صفحہ 119 تا
121)