جوہر فرداور معتزلہ اور اشاعرہ کے عقیدہ کا بطلان - ردِ…

جوہر فرداور معتزلہ اور اشاعرہ کے عقیدہ کا بطلان

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 3

جوہرِ فرداور معتزلہ اور اشاعرہ کے عقیدہ کا بطلان

وہ متکلمین جو جوہرِ فرد کو ثابت کرتے ہیں یا یہ کہتے ہیں کہ حرکت اور سکون دو امر ِ وجوبی ہیں ؛ جیسے کہ جمہورِ معتزلہ ،اشعریہ اور ان کے علاوہ دیگر لوگ بھی اس بات کے قائل ہیں کہ عالم کبھی بھی حرکت و سکون سے خالی نہیں ہوتا۔ اسی طرح اجتماع او ر افتراق سے اور یہ حادث ہیں ۔ پس یہ عالم حوادث کو مستلزم ہے اور یہ مسئلہ ہم اپنے مقام پر تفصیل کے ساتھ بیان کر چکے ہیں ۔ اور اس میں اہل نظر کے مابین اختلاف پایا جاتا ہے اور اس کے مقدمات میں بہت طول اور تفصیل ہے اوراس میں بہت سے امور مختلف فیہ ہیں ۔اور ان میں سے بعض وہ بھی ہیں جو کسی نتیجے تک نہیں پہنچتے ۔لہٰذا ہم انھیں تفصیل کے ساتھ بیان نہیں کرتے کیونکہ یہاں اس کی ضرورت نہیں ہے ۔

یہ ایک مذموم (ناپسندیدہ)کلام ہے کیونکہ بہت سے اہلِ نظر اس کے قائل ہیں کہ سکونِ امر عدمی ہے اور ہم تو کہتے ہیں کہ: جو ہرِ فرد کا اثبات ایک باطل چیز ہے اور اجسام جوہرِ فردسے مرکب نہیں ہے اور نہ ہیولیٰ اور صورت سے (مرکب ہیں )؛بلکہ جسم تو بذاتِ خود ایک واحد چیز ہے رہا اجسام کا تفریق کو قبول کرنا یا نہ کرنا تو یہ مقام اس کے تفصیل سے بیان کرنے کانہیں ۔ اور اس تقدیر پر کہ وہ اجسام تفریق کو قبول کرتے ہیں تو ضروری نہیں کہ وہ اجسام لامتناہی حدتک تفریق کو قبول کریں ۔ بلکہ ایک خاص حد تک وہ تفریق اور تقسیم کو قبول کرتے ہیں ۔ اور اس کے بعد جسم اتنا چھوٹا اور معمولی ہو جاتا ہے کہ وہ فعلی اور حسی تقسیم کو قبول نہیں کرتا۔ بلکہ وہ ایک اور جسم کی طرف منتقل ہو جاتا ہے یعنی ایک دوسری شکل اختیار کر لیتا ہے جس طرح کے پانی کے اجزاء میں یہ بات پائی جاتی ہے کہ جب وہ بہت چھوٹے ہو جاتے ہیں تو وہ ہوا میں تبدیل ہو جاتے ہیں ۔ باوجود اس کے کہ دونوں جانب میں سے ایک دوسرے سے متمیز ہوتے ہیں ۔ لہٰذا وہاں ایک ایسے جزء کے اثبات کی کوئی حاجت نہیں جس کا ایک جانب دوسرے جانب سے متمیز نہ ہو اور جدا نہ ہو؛ اور نہ کسی ایسے تجزیہ اور تفریق کے اثبات کی حاجت ہوتی ہے جو غیر متناعی حد تک ہو بلکہ اجسام چھوٹے سے چھوٹے ہو جاتے ہیں ۔ اور اس کے بعد پھر جب بہت زیادہ چھوٹی شکل اختیار کر لیتے ہیں تو وہ ایک اور چیز کی طرف تبدیل ہو جاتے ہیں یعنی کوئی اور شکل اختیار کرلیتے ہیں ۔

پس یہ قول دوسرے اقوال کی بہ نسبت عقل کے زیادہ قریب ہے۔

پس چونکہ ان لوگوں کی دلیل ان دو مقدمتین میں سے کسی ایک پر مبنی ہے یعنی جواہرِ فردہ کا اثبات اور یہ کہ اجسام اس سے مرکب ہیں یا اس بات کا اثبات کہ سکون ایک امر وجودی ہے (اوراس میں اختلاف ایک مشہور بات ہے )۔غور اور تحقیق کرنے کے بعد دلیل صرف اور صرف اس کے نقیض پر قائم ہوتی ہے (یعنی یہ کہ جواہر فردہ کی نفی ،اور اجسام کا ان سے عدم ترکیب اور سکون کا امر ووجودی ہونا)۔اس لئے ان کے بیان کرنے میں کلام تفصیل سے ذکر نہیں کیا گیا۔

اللہ تعالیٰ کے انبیاء جو کچھ انسانیت کی طرف لے کر آئے ان میں سے کسی شے کے اثبات کے لیے بھی ان باطل طریقوں کی طرف حاجت نہیں ہے۔ وہ لوگ جو اس جھنجھٹ میں پڑ گئے وہ علم اور عقل والے تھے یعنی مخالفین خودساختہ فلاسفہ اور عقل کے اعتبار سے صریح اور نقل کے اعتبار سے صریح تھے؛ لیکن عقل اور مشاہدے کے اعتبار سے وہ بات غلط ہے جو ان سے صادر ہوئی اور ان میں ان کے ساتھ اہل باطل فلاسفہ بھی شریک ہوگئے۔اور انہوں نے ان کے کلام کے ساتھ کچھ اور امور بھی اپنی طرف سے ملا دیئے جو عقل اور شرع کے اعتبا رسے بہت باریک تھے۔ اور وہ ان متکلمین کے خلاف استدلال کرنے لگے جو عقل اور شرع کے زیادہ اقرب تھے ان کے بہ نسبت اس قول کے بطلان پر جس میں وہ ان کے مخالف تھے اور اس میں انہوں نے حق کے ساتھ مخالفت کی تھی اور وہ اس کو حق کی مخالفت پرحجت قرار دینے لگے، اور وہ یہ فرض کرنے لگے کہ رسولوں کے پاس کوئی حق نہیں ہے اور ان کے اطباء کے پاس بھی سوائے ان باتوں کے جن کے متکلمین قائل ہیں اور یہ لوگ بمنزلہ ان لوگوں کے ہوئے جنھوں نے بعض جاہل مسلمانوں ، مشرکوں اور اہلِ کتاب کے فساق کے پاس وقت گزارا ہو تو وہ ان لوگوں کے جبر و ظلم پر مشتمل بعض اشکالات کو ذکر کرنے لگے اور اس کو مسلمانوں کے دین کے بطلان کے خلاف یہ فرض کرتے ہوئے حجت قرار دینے لگے کہ مسلمانوں کا دین ہی وہ واحدہے جس پر وہ بھی قائم ہیں باوجود یکہ وہ خود ان کی بہ نسبت زیادہ جہل اور ظلم میں پڑا ہوا ہے جس طرح کہ اہلِ کتاب میں سے ایک گروہ یعنی یہود و نصاریٰ میں سے ایک گروہ مسلمانوں کے دین میں اعتراض کرنے کے لیے ان چیزوں سے سہارا پکڑتا ہے جو وہ اپنے بعض افراد میں پاتے ہیں یعنی وہ فواحش جو نکاحِ تحلیل کے ذریعے ہوتے ہیں یا اس کے علاوہ کسی اور طریقے سے ۔

پس جب انصاف کیساتھ ان کاتقابل کیا جائے تو ان میں موجود فواحش ،ظلم ،جھوٹ اور شرک اس سے کئی گنا زیادہ ہے جو جو دین ِ اسلام کی طرف منسوب فساق میں پایا جاتا ہے اور جب ان کے لیے حقیقتِ اسلام کو بیان کر دیا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ان فواحش ،ظلم ،جھوٹ اور شرک میں سے کچھ بھی نہیں ہے اس لیے کہ ہرملت کے بعض افراد میں کچھ نہ کچھ شر داخل ہوتا ہے لیکن وہ شر جو غیر ِ مسلمین میں داخل ہے ۔یہ اس شر کی بہ نسبت زیادہ ہے جو مسلمان فساق میں موجود ہے اور جو شر مسلمانوں میں پایا جاتا ہے وہ کئی گنا زیادہ ہے اس کی بہ نسبت جو غیر میں پایا جاتا ہے اسی طرح اسلام میں اہلِ سنت کی جماعت میں خیر اکثر ہے بہ نسبت اس جماعت کے افراد کے جن میں بدعات پائی جاتی ہیں اور وہ شر جو اہلِ بدعت میں موجود ہے یہ اس شر سے اکثر ہے کہ جو اہل سنت میں موجود ہے ۔

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ:آپ کی بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ عالم کا حوادث سے خالی ہونا ممتنع ہے ۔ اور پھر اس کے بعد اس میں حوادث موجود ہوتے ہیں ؟

صفحہ 1 از 3