جوہر فرداور معتزلہ اور اشاعرہ کے عقیدہ کا بطلان - ردِ…

جوہر فرداور معتزلہ اور اشاعرہ کے عقیدہ کا بطلان

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 3

لیکن ہم یہ کہتے ہیں : یہ عالم ازل سے حوادث پر مشتمل رہا اور قدیم تو عالم کا اصل ہے جیسے کہ افلاک اور نوعِ حوادث جیسے کہ افلاک کی جنس حرکت ہے ،رہا حوادث کے اشخاص کا معاملہ تو وہ باتفاق حوادث ہیں یعنی معین اشیاء اور ایسی صورت میں ازلی ذات نوعِ حوادث کو مستلزم ہے کسی حادثِ معین کونہیں ،پس تمام حوادث کا قدم لازم نہیں آئے گا نہ تمام کا حدوث بلکہ اس کے ایک نوع کا قدم لازم آئے گا اور ان کے اعیان (یعنی خاص خاص حوادث) کا حدوث جس طرح تم میں سے اہلِ سنت کے علماء اس کے قائل تھے اور ان کا قول یہ ہے کہ رب تعالیٰ ازل سے متکلم ہیں جب چاہیں اور جیسے چاہیں ۔

وہ یہ کہتے ہیں کہ فعل ،حیات کے لواز م میں سے ہے اور رب تعالیٰ ازل سے حی ہے اور زندہ ہے پس وہ ازل سے ہی فعال ہے یعنی افعال صادر کرنے والا ہے اور یہ تو تمہارے ائمہ کا معروف قول ہے جیسے کہ امام احمدبن حنبل ،امام بخاری جو صاحب صحیح ہیں ؛ اور نعیم بن حماد الخزاعی ،عثمان ابن سید الدارمی رحمہم اللہ اور ان کے علاوہ اور لوگ؛ جیسے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور امام جعفر صادق رحمہ اللہ اور ان کے علاوہ دیگر؛ اور بعض وہ علماء جو ان کے بعد آئے ہیں ۔وہ یہ بات اہل سنت کے آئمہ سے نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ: جس نے بھی اس عقیدہ کی مخالفت کی وہ بدعتی اور گمراہ ہے۔ اور یہ لوگ اور ان لوگوں کے امثال تمہارے ہاں آئمہ اہلِ سنت اور آئمہ حدیث ہیں اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ اور تابعین کے قول کو سب سے زیادہ اچھی طرح جاننے والے ہیں ۔اور یہ لوگ اور ان کے علاوہ دیگر جیسے سفیان ابن عیینہ رحمہ اللہ نے اس بات پر کہ اللہ تعالیٰ کا کلام مخلوق نہیں ہے۔ اس طرح استدلال کیا کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی بھی شے پیدا نہیں کی مگر لفظ ’’کن ‘‘کے ذریعے ۔پس اگر لفظِ ’’کن ‘‘بھی مخلوق ہے تو پھر وہ تسلسل لازم آئے گا جو خلق سے مانع ہے۔ پس اگر لفظِ ’’کن ‘‘مخلوق ہوا تو اُس ذات کے اصل خالق ہونے اور فاعل ہونے میں تسلسل لازم آئے گا۔ پس یہ اصل تاثیر میں تسلسل ہے اور وہ باتفاقِ عقلاء ممتنع ہے بخلاف اس تسلسل کے جو معین آثار میں ہوتا ہے۔ اس لیے کہ یقیناً جب وہ ذات صرف اور صرف اپنے لفظِ ’’کن ‘‘کے ذریعے خالق ہے تو یہ بات ممتنع ہوئی کہ اس کا قول مخلوق بنے۔ اور اس کی مثال یہ ہے کہ جیسے یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات صرف اس کے علم اور قدرت ہی کی وجہ سے خالق بنتی ہے تو یہ ممتنع ہے کہ علم اور قدرت یہ بھی مخلوق ہوں اس لیے کہ ایسی صورت میں تو لازم آئے گا کہ اس مخلوق کا وجود ممتنع ہو مگر بعد اس کے وجود کے، اس لیے کہ وہ ذات انہیں صفات کے ذریعے خالق بن رہا ہے تو ضروری ہے کہ اس کا تمام مخلوق پر مقدم ہونا پس اگر وہ خود بھی مخلوق ہے تو اس کا اپنے نفس پر تقدم لازم آئے گا اور یہ ایک ایسی حجت ہے جو عقل اور شرع دونوں اعتبار سے صریح ہے بخلاف اس کے کہ اگر یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ لفظِ ’’کن ‘‘سے پیدا کرتے ہیں اور اس دوسری چیزکو ایک دوسرے لفظِ ’’کن ‘‘سے پیدا کرتے ہیں تو یہ قول اس بات کو مستلزم ہے کہ ایک اثر کا وجود دوسرے اثر کے بعد ہو اور اس کے جواز میں تو عقلاء اور آئمہ اہلِ سنت کے درمیان نزاع اور اختلاف پایا جاتا ہے ۔

پھر فلاسفہ اور بہت سے اہلِ کلام بھی اس کو جائز اور ممکن سمجھتے ہیں اور مقصود یہ ہے کہ جب تم نے ایک قدیم اور ازلی ذات سے اس امرکو ممکن سمجھا کہ وہ ایک حوادث کو یکے بعد دیگرے وجود دے تو اسی طرح یہ لوگ بھی عالم کے اندر ایسے حوادث کے قائل ہیں کہ جو فلک میں دھیرے دھیرے وجود میں آتے ہیں ۔ ا ن کے جواب میں کہا جائے گا کہ یہ تو قیاسِ باطل ہے اور تشریع فاسد ہے اور یہ اس لیے کہ یہ لوگ جب یہ کہتے ہیں کہ رب تعالیٰ بذاتِ خود حوادث کو یکے بعد دیگرے وجود دیتے ہیں یعنی ایک کام دوسرے کے بعد کرتے ہیں یا یہ کہ وہ کسی شے پر کلام کرتے ہیں تو یہ بات ممتنع نہیں بلکہ صریح عقل کے مطابق جائز ہے اس لیے کہ اس سے زیادہ یہ بات ثابت ہو جاتی ہے اس کے نتیجے میں اول حادث کا وجود اور اس کی انتہاء دوسرے کے وجود کے لیے شرط ہو جس طرح کہ والد کا وجود ولد (بیٹے ) کے وجود کیلئے شرط ہے ۔

یہ بات کہ دوسرے (حادث)کی فاعلیت کا تمام پہلے حادث کے عدم کے بعدحاصل ہوتا ہے اور اول کا عدم ثانی میں شرط قرار دیا تو یہ احد الضدین کے عدم کودوسرے ضد کے وجود کیلئے اشتراط کے بمنزلہ ہواباوجود یکہ اس ضد حادث کا فاعل اول کا عدم نہیں پس کیسے وہ اول کے لیے معدم(فنا کرنے والا) بنے گا ۔

اگر یہ کہا جائے کہ دوسرے فعل کو وجود دینا اول کے عدم کے ساتھ مشروط ہے یعنی کہ پہلا منتہی (ختم )ہو اور انتہاء تک پہنچ جائے اور یہ ایک ضد کے وجود کے لیے دوسرے ضد کے اشتراط کی طرح ہوا اور اگر شرط اول کا اعدام اور ختم کر دینا ہے تو اس کا فعل اس کے دوسرے فعل کے ساتھ مشروط ہو جائے گا اور اعدام ایک امرِ وجودی ہے اور یہ بھی کہ ضد ِ مانع (جو کہ دوسرے کے وجود سے مانع ہے )کے عدم کے وقت فاعل کا مرید اور قادر ہونا تام ہو جاتا ہے یعنی ایک ضد اپنی انتہاء کو پہنچا توتب دوسرے کا ارادہ اور قدرت تام ہو جاتا ہے اور وہ تو امورِ وجودیہ ہیں اور وہی اس کا تقاضہ کرنے والی ہے یا بذاتِ خود یا اس صفت کے ساتھ جو اس سے صادر ہو پس کوئی بھی موجود شے حاصل نہیں ہوتا (وجود میں نہیں آتا)مگر اللہ تعالیٰ ہی کی ذات سے اور وہی اس کا منشا ہے ۔

صفحہ 2 از 3