جوہر فرداور معتزلہ اور اشاعرہ کے عقیدہ کا بطلان - ردِ…

جوہر فرداور معتزلہ اور اشاعرہ کے عقیدہ کا بطلان

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 3

یہ لوگ تو اس بات کے قائل ہیں کہ فاعلِ اول کے ساتھ کوئی صفت اور فعل قائم نہیں بلکہ وہ تو ایک ذاتِ مجردہ اور بسیطہ ہے، اور حوادثِ مختلفہ اس کی ذات سے صفتِ دوام کے ساتھ حادث (پیدا)ہو رہی ہیں بغیر کسی ایسے امر کے جو اس سے حادث (پیدا)ہو اور یہ صریح عقل کی مخالفت ہے چاہے وہ اُسے مُوجِب بالذات کہیں یا فاعلِ مختار کہیں اس لیے کہ معلولات کا تغیر اور ان کا اختلاف بغیر تغیرِ علت کے اور بغیر اختلافِ علت کے ایک ایسا امر ہے جو صریح عقل کے خلاف ہے اور فاعلِ مختار کا فعل یعنی فاعلِ مختار کا مختلف حوادث کو بغیر کسی ایسے سبب کے وجود دینا جو اس کی ذات کے ساتھ قائم ہو یعنی ارادہ بلکہ مختلف الانواع ارادوں کے بغیر تو یہ بات صریح عقل کے خلاف ہے۔

یہ لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ تمام کے تمام حوادث کی مبدا فلک کی حرکت ہے اور اس کے اوپر کوئی ایسے امورِ حادثہ نہیں جو اس کی حرکت کے لیے مُوجِب (تقاضا کرنے والی )اور سبب ہوں باوجود یکہ فلک کی حرکات تو رفتہ رفتہ حادث ہوتی ہیں (شیئا ًفشیئاً)اور ان کے لیے ایسے اسباب نہیں پائے جاتے جو ان کو وجود یتے ہیں اور افلاک کی حرکات ہی تمام حوادث کے لیے اسباب ہیں پس جب ان کے لیے کوئی محدث اور پیدا کرنے والا نہیں تو ان کے قول کی حقیقت یہی ہوئی کہ حوادث میں سے کسی بھی شے کے لیے کوئی محدث نہیں ہے اور اگر ان کے نزدیک فلک نفسِ ناطقہ کا نام ہے تو تمام حوادث میں ان کا قول قدریہ کے قول کی طرح ہوا، جو کہ فعلِ حیوان میں ان کا قول ہے ،اسی وجہ سے اس جگہ میں اس مقام پر ابن سینا اس بات کی طرف مجبور ہوا کہ وہ حرکت کو ایک ایسی شے مان لیں کہ وہ ایک امر واحد ہے اور ازل سے موجود ہے نہ کہ کوئی ایسی شے ہے جودھیرے دھیرے رفتہ رفتہ وجو دمیں آتی ہے جس طرح کہ ہم نے ان کے الفاظ ذکر کر دیئے ہیں اور اس کے فساد کو بھی بیان کر دیا ہے اور یقیناً اس نے یہ بات اس لیے کہی تاکہ اس کے اوپر اس بات کا الزام نہ آئے کہ علتِ تامہ سے تو تمام حوادث کا حدوث دفعتاً واحدتاً (یکبارگی )نہیں ہوتا بلکہ ایک حادث کے بعد دوسرا یکے بعد دیگرے وجود میں آتا ہے پس اس نے حرکت کے شیئا ًفشیئا ًحدوث میں صریح عقل اور اسی طرح صریح مشاہدہ کی مخالفت کی تاکہ اس کے لیے وہ بات (معارضہ سے )محفوظ رہے جس کا اس نے دعویٰ کیا ہے یعنی کہ رب العالمین نے کسی شے کو وجود نہیں دیا یعنی اس نے کسی شے کو حادث نہیں کیا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ان کے نزدیک علتِ تامہ ہیں اور ان کے ماہرین نے ان کے قول کے فساد کا اعتراف کر لیا ہے۔


صفحہ 3 از 3