Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

خوشحالوں اور عیش پرستوں کے بارے میں قانون الہٰی

  علی محمد الصلابی

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَاِذَاۤ اَرَدۡنَاۤ اَنۡ نُّهۡلِكَ قَرۡيَةً اَمَرۡنَا مُتۡرَفِيۡهَا فَفَسَقُوۡا فِيۡهَا فَحَقَّ عَلَيۡهَا الۡقَوۡلُ فَدَمَّرۡنٰهَا تَدۡمِيۡرًا ۞(سورۃ الإسراء آیت 16)

ترجمہ: اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے خوش حال لوگوں کو (ایمان اور اطاعت کا) حکم دیتے ہیں، پھر وہ وہاں نافرمانیاں کرتے ہیں، تو ان پر بات پوری ہوجاتی ہے، چنانچہ ہم انہیں تباہ و برباد کر ڈالتے ہیں۔

اس آیت کریمہ کی تفسیر یہ ہے کہ جب کسی بستی کی ہلاکت کا وقت قریب آجاتا ہے تو اس کے خوشحال لوگوں یعنی عیش پرستوں، سرداروں اور حکام کو اپنی اطاعت کا حکم دیتے ہیں، لیکن وہ اپنی بد اعمالیوں پر اڑے ہوتے ہیں، پھر ہم ان پر اپنا فیصلہ نافذ کر کے ان کو ہلاک کر دیتے ہیں۔ اس آیت میں باوجودیہ کہ سارے انسانوں کو اطاعت الہٰی کا حکم دیا گیا ہے، لیکن خوشحال لوگوں کا ذکر خاص طور سے اس لیے ہوا ہے کہ وہی فسق وفجور اور بدکاریوں کے ٹھیکیدار اور گمراہیوں کے سردار ہوتے ہیں اور ان کے پیچھے عوام جو کچھ کرتی ہے وہ دیکھا دیکھی کرتی ہے، لہٰذا ان کو تاکیدی طور پر اطاعت کا حکم دیا گیا۔

(تفسیر الآلوسی: جلد 15 صفحہ 42)

یہ حقیقت فارس کے سرداروں اور بادشاہوں میں دیکھی جا سکتی ہے جو اپنی انہی بد اعمالیوں کی وجہ سے قانون الہٰی کی گرفت میں آئے۔