سرکشی اور سرکشوں کے بارے میں قانون الہٰی
علی محمد الصلابیاللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
اِنَّ رَبَّكَ لَبِالۡمِرۡصَادِ ۞ (سورة الفجر آیت 14)
ترجمہ: یقین رکھو تمہارا پروردگار سب کو نظر میں رکھے ہوئے ہے۔
اس آیت کریمہ میں تمام گناہ گاروں کو وعید الہٰی ہے اور بعض کے نزدیک صرف کافروں کو وعید ہے۔
(السنن الإلٰہیۃ فی الأمم والجماعات والأفراد: صفحہ 193)
اور تفسیر قرطبی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر انسان پر نگاہ لگائے ہوئے ہے تاکہ وہ انہیں پورا پورا بدلہ دے۔
(السنن الإلٰہیۃ فی الأمم والجماعات والأفراد: صفحہ 193، بحوالہ تفسیر قرطبی)
یہ اور اس طرح کی تمام آیات میں مفسرین کے اقوال سے یہ ظاہر ہے کہ سرکش اقوام پر دنیا ہی میں اللہ کا عذاب نازل ہوتا ہے۔ یہ ہمیشہ سے اللہ کی سنت رہی ہے، ماضی میں سرکش اقوام نے اس کا مزہ چکھا، حال میں چکھ رہی ہیں اور مستقبل میں بھی چکھیں گی۔ دنیا کا کوئی سرکش عذاب الہٰی سے نہ دنیا میں بچ پائے گا اور نہ آخرت میں۔
(السنن الإلٰہیۃ: صفحہ 194)
سرکشوں کے بارے میں عذاب الہٰی کی جو سنت ہمیشہ سے جاری ہے اس سے صرف اللہ سے ڈرنے والا اور اس پر کامل ایمان رکھنے والا ہی عبرت پکڑتا ہے اور وہ شخص نصیحت پکڑتا ہے جسے یقین ہے کہ اللہ کا قانون اٹل ہے وہ کسی کے ساتھ ناانصافی کرنے والا نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرعون کے برے انجام کا ذکر کرنے کے بعد سرکشوں کے لیے متعین کردہ قانون الہٰی سے عبرت پکڑنے والوں کو اس طرح ذکر کیا ہے۔
فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَڪَالَ الۡاٰخِرَةِ وَالۡاُوۡلٰى ۞ اِنَّ فِىۡ ذٰلِكَ لَعِبۡرَةً لِّمَنۡ يَّخۡشٰى ۞ (سورۃ النازعات آیت نمبر 25، 26)
ترجمہ: نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے اسے آخرت اور دنیا کے عذاب میں پکڑ لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس واقعے میں اس شخص کے لیے بڑی عبرت ہے جو اللہ کا خوف دل میں رکھتا ہو۔
اسی نظام الہٰی کے تحت متمرد شاہان فارس عذاب الہٰی میں گرفتار ہوئے۔