بتدریج اعمال کی انجام دہی کا قانون الہٰی
علی محمد الصلابیاللہ تعالیٰ کی یہ سنت رہی ہے کہ کسی چیز کو بتدریج انجام دیتا ہے۔ اسی قانون الہٰی کے تحت عراق و بلاد مشرق (عجم) فتح ہوئے، چنانچہ عہد صدیقی سے پہلے مرحلے کا آغاز ہوا، بایں طور کہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قیادت میں حیرہ کی فتح مکمل ہوئی۔ دوسرا مرحلہ حضرت ابوعبید ثقفی کے ہاتھوں عراقی فوجوں کی قیادت سے شروع ہو کر معرکہ بویب پر اور تیسرا مرحلہ جہاد عراق میں سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی امارت سے لے کر معرکہ نہاوند سے قبل تک ختم ہوتا ہے، جب کہ چوتھا مرحلہ معرکہ نہاوند کا اور پانچواں مرحلہ بلاد عجم میں فتوحات کے عام دروازے کھل جانے کا ہے۔ ان فتوحات اور جنگی تحریکوں کی بتدریج پیش رفت کو مد نظر رکھتے ہوئے اسلام کے جوشیلے نوجوانوں کو یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ اس روئے زمین پر اقامت دین واسلامی اقتدار کے لیے اپنے عمل میں تدریج اور مرحلہ وار پیش رفت ہونی چاہیے کیونکہ یہ سفر بہت طویل ہے، اس لیے خاص طور سے ہمارے جو احباب دعوت اسلام کا کام کر رہے ہیں انہیں اس سنت الہٰی کی ہمہ جہت افادیت اور معنوی قوت کو اچھی طرح سمجھنا چاہیے۔ عراق اور بلاد مشرق (عجم) میں صبح و شام کے چند لمحات میں اسلامی فتوحات کا پرچم نہیں لہرایا تھا، بلکہ بتدریج عمل کی انجام دہی والی سنت الہٰی اس میں کار فرما تھی۔