افکار و اخلاق میں تبدیلی برپا کرنے کی سنت الہٰی
علی محمد الصلابیاللہ کا ارشاد ہے:
اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوۡمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوۡا مَا بِاَنۡفُسِهِمۡ ۞ (سورۃ الرعد آیت 11)
ترجمہ: یقین جانو کہ اللہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے حالات میں تبدیلی نہ لے آئے۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے فتوحات عراق و بلاد مشرق (عجم) کے دوران اس ربانی نظام کو ان اقوام کے ساتھ پورا پورا برتا جو دین الہٰی میں داخل ہونا چاہتی تھیں۔ قرآنی تعلیمات اور ہدایات نبویﷺ پر لوگوں کی تربیت کی اور ان کے دلوں میں صحیح عقائد، درست افکار اور بلند اخلاق کے پودے لگائے۔