فصل:....اہل سنت پر اللہ کی طرف سفاہت کے انتساب کا الزام…

فصل:....اہل سنت پر اللہ کی طرف سفاہت کے انتساب کا الزام اوراس پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 4

لیٹگیا۔ پس جب وہ بیدار ہوا تو اس کی سواری اس کے پاس کھڑی تھی؛ ور اس پر اس کا کھانا پینا بھی تھا۔پس اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ پر اس انسان کی سواری مل جانے کی خوشی سے بڑھ کر خوش ہوتے ہیں ۔‘‘[اس کی تخریج گزرچکی ہے]

اب یہ فلاسفہ فرح و محبت کی تعبیر، سرور، لذت اور عشق سے کرتے ہیں ۔ اب اگر یہ بات ہے تو رب تعالیٰ بعض اشیاء کے وجود کو اس لیے چاہتا ہے کہ وہ اس کی محبت و رضا تک پہنچاتی ہیں اور بسا اوقات رب تعالیٰ کسی محبوب کو اس لیے نہیں کرتا کہ وہ کسی مبغوض و مکروہ کے وجود کو مستلزم ہوتی ہے۔ سو رب تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ ہر نطفہ سے مراد پیدا کر لے جو مومن ہو اور اسے اس کا ایمان اور وہ مومن محبوب ہو۔ لیکن وہ کسی حکمت کے تحت ایسا نہیں کرتا۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ کسی مبغوض و مکروہ تک لے جائے گا۔

اگر یہ کہا جائے گا کہ پھر وہ یہ کیوں نہیں کرتا اور مبغوض کو روک کیوں نہیں دیتا؟

تو اس کا جواب یہ ہے : متعدد اشیاء ممتنع لذاتہ ہوتی ہیں اور بعض ممتنع لغیرہ ہوتی ہیں ۔ کھانے سے حاصل ہونے والی لذت پینے، سونگھنے اور سننے وغیرہ سے حاصل نہیں ہوتی۔ ان سے حاصل ہونے والی لذت اور ہے۔

پھر منہ میں کھانے کی لذت پینے کی لذت سے جدا ہے۔ پھر ایک آواز کی لذت دوسری آواز کی لذت سے مختلف ہوتی ہے لہٰذا ضروری نہیں کہ بندے کو ہر محبوب اور لذیذ چیز آنِ واحد میں یکجا ہو جائے۔ بلکہ ایک کا حصول تب ہی ہو گا جب اس کی ضد کو فوت کیا جائے گا۔

پھر ہر مخلوق کے لوازم بھی ہیں اور اضداد بھی۔ سو وہ شی تب ہی پائی جائے گی جب اس کے لوازم پائے جائیں اور اضداد غیر موجود ہوں اب اللہ کو بندے سے جہاد بھی محبوب ہے اور حج بھی۔ وہ جو بھی کرے محبوب ہو گا۔ لیکن بندہ بیک وقت مشرق اور مغرب دونوں کا مضر نہیں کر سکتا۔ بلکہ بیک وقت حج اور جہاد دونوں کو نہیں کر سکتا۔ کہ دونوں میں سے ایک دوسرے کے نہ کرنے سے ہی حاصل ہو گا۔ حج فرض اور جہاد نفل ہی ہو۔ تو حج زیادہ محبوب ہو گی اور اگر دونوں نفل دونوں فرض ہوں گے پھر اگر تو اسے جہاد زیادہ محبوب ہو گا۔

اب رب تعالیٰ کو دونوں میں سے ایک محبوب جو دوسرے کو نہ کر کے حاصل ہوا ہے، پسند ہے۔ کیونکہ اگر دوسرے کو فوت کیے بغیر اس کا وجود ممکن ہوتا تو یہ بھی محبوب ہوتا اور اگر اس کا وجود اس دوسرے زیادہ محبوب کو فوت کر کے حاصل ہوتا تو بھی ایک اعتبار محبوب ہوتا تو دوسرے اعتبار سے مکروہ ہوتا۔

اب رب تعالیٰ نے جو بعض لوگوں میں طاعت کو مقدر نہیں کیا تو اس میں اس کی حکمت ہے۔ جیسا کہ جب اس نے دو میں ادنیٰ محبوب کا حکم نہیں دیا تو اس میں بھی اس کی حکمت ہے اور وہ ہر بات پر قادر ہے۔لیکن اجتماعِ ضدین عمومِ اشیاء میں داخل نہیں ۔ کیونکہ یہ بالذات محال ہے۔ یہ ایسا کہنے کے بمنزلہ ہے: بھلا رب تعالیٰ نے بندے کو اس بات پر قادر کیوں نہ بنایا کہ وہ آنِ واحد میں مشرق کو حج کے لیے اور مغرب کو جہاد کے لیے جا سکتا۔اس کا جواب یہ ہے کہ جسم واحد کا دو جگہوں میں ہونا بالذات محال ہے۔ لہٰذا یہ دونوں آنِ واحد میں ہونے ممکن نہیں ۔ اور یہ کوئی چیز نہیں ہے کہ یہ کہا جائے: کہ یہ مقدر ہے بلکہ یہ ایک بے حقیقت بات ہے اور کچھ بھی نہیں ۔ بلکہ یہ ایک ایسی بات ہے جس کا ذہن تصور کرتا ہے جیسے کہ ذہن رب تعالیٰ کی نظیر کے خارج میں پائے جانے کا تصور کرتا ہے تاکہ خارج میں اس کے امتناع کا حکم لگائے۔ وگرنہ ممکن نہیں کہ ذہن خارج میں اس کی نظیر کا تصور کرے۔ لیکن ذہن محل واحد میں لون اور طعم کے اجتماع کا تصور کرتا ہے، جیسے سفید حلوہ اور سفید رنگ وغیرہ۔ پھر ہی ذہن اس بات کا بھی تصور کرتا ہے کہ کیا سفیدی اور سیاہی محل واحد میں جمع ہو سکتی ہے۔ جیسے کہ لون اور طعم ایک محل میں جمع ہو جاتے ہیں ۔ تو وہ جان لیتا ہے کہ یہ اجتماع خارج میں ممتنع ہے اور جان لیتا ہے کہ یہ بات تو ممکن ہے کہ زید مشرق میں اور عمرو مغرب میں ہو۔ پھر وہ ذہن میں یہ سوچتا ہے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ زید فی نفسہ دو مکانوں میں بیک وقت موجود ہو۔ جیسا کہ وہ اور عمرو دو جگہوں میں تھے؟ تو وہ جان لیتا ہے کہ یہ ممتنع ہے۔

یہ اس شخص کا کلام ہے جو ارادہ کو دو قسمیں قرار دیتا ہے اور وہ دونوں میں سے ایک نوع میں اور محبت و رضا میں فرق کرتا ہے۔ البتہ جو اس سب کو ایک نوع قرار دیتا ہے وہ دو باتوں کے بیچ میں ہوتا ہے۔

٭ اگر تو وہ محبت و رضا کو اس نوع میں سے قرار دیتا ہے تو اسے مذکورہ شنیع محظورات لازم آتے ہیں ۔

٭ اگر وہ محبت و رضا کو وہ نوع قرار دیتا ہے ؛جو ارادہ کو مستلزم نہیں ہوتی اور کہتا ہے کہ کبھی وہ اس چیز کو بھی پسند کرتا ہے جس کا وہ کسی صورت بھی ارادہ نہیں کرتا اور اس وقت اس کا ’’لا یریدہ‘‘ کے قول سے مقصود یہ ہوتا کہ اس نے اس کے کون وجود کا ارادہ نہیں کیا۔ وگرنہ وہ اس کے نزدیک محبوب اور پسندیدہ ہے۔

سو اس نے ارادہ کو ہی خلق کی مشیئت قرار دیا ہے اور یہ اگرچہ سنت کی طرف منسوب ایک جماعت کا قول ہے جو امام مالک امام شافعی اور امام احمد کے اصحاب فقہاء میں سے ہیں ۔ لیکن یہ کتاب و سنت کے استعمال کے خلاف ہے۔ تب پھر اس کے ساتھ تراع لفظی ہو گا اور لفظی تراعات میں دوستی کا زیادہ مستحق وہ ہے جس کا لفظ قرآن و سنت کے موافق ہو۔

یہ بات واضح ہو چکی ہے قرآن نے اس نوع کو مراد قرار دیا ہے۔ لہٰذا اس بات پر اطلاق کی حاجت نہیں کہ اللہ اس بات کا حکم دیتا ہے جس کا ارادہ نہیں کرتا۔ پھر یہ بھی واضح ہو گیا کہ ارادہ کی دو قسمیں ہیں اور یہ کہ وہ اس بات کا بھی امر دیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور اس بات کا بھی امر دیتا ہے جسے پیدا کرنے کا وہ ارادہ نہیں کرتا اور اس بات کا حکم دیتا ہے جس کی بابت وہ پسند کرتا ہے اور اسے محبوب ہے کہ اس کے بندے وہ کام کریں ۔

صفحہ 2 از 4