فصل:....اہل سنت پر اللہ کی طرف سفاہت کے انتساب کا الزام…

فصل:....اہل سنت پر اللہ کی طرف سفاہت کے انتساب کا الزام اوراس پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 4

اگر ایک آدمی کہتا ہے: ’’اللہ کی قسم! میں وہ کروں گا جو اللہ مجھ پر واجب کرے گا یا وہ اسے میرے لیے پسند کرتا ہے ان شاء اللہ‘‘ تو فقہاء کا اتفاق ہے کہ وہ حانث نہ ہو گا اور اگر اس نے یہ کہا: ’’اللہ کی قسم! میں وہ کروں گا جو اللہ مجھ پر واجب کرے گا۔ اگر اللہ کو وہ محبوب یا پسند ہو گا۔‘‘ تو وہ نہ کرنے کی صورت میں بالا تراع حانث ہو جائے گا۔ یہیں سے مکذبین قدر کی دلیل کا بطلان ظاہر ہو گیا۔ کیونکہ جب وہ یہ کہتا ہے کہ ہر عاقل جو اس بات کا امر کرے جو وہ چاہتا نہیں اور اس باتسے روکے جو وہ چاہتا ہے، اسے سفاہت کی طرف منسوب کیا جائے گا۔ تو اسے جواب دیا جائے گا کہ جب وہ خود غیر کو ایسی بات کا حکم دیتا ہے جو وہ نہیں چاہتا تو کیا ایسا کر کے وہ بھی سفیہ بنتا ہے یا نہیں ؟ حالانکہ اس صورت میں امر کرنے والے اور اس امر پر اعانت نہ کرنے والے کا غیر سفیہ ہونا سب عقلاء کے نزدیک مسلم ہے۔ بلکہ حکماء و عقلاء کے سب او امر اسی باب سے ہیں ۔

اگر ایک طبیب ایک دوا تجویز کرتا ہے تو اس کے ذمہ نہیں کہ وہ دوا پینے پر بھی اس کی معاونت کرے۔ اسی طرح فتویٰ دینے والے مفتی پر مفتیٰ بہ پر معاونت اور نکاح تجارت وغیرہ کا مشورہ دینے والے پر مشورہ میں اعانت لازمی نہیں ۔ لہٰذا دوسرے کو محبوب شی کا امر دینے کے بعد کسی مفسدہ کی بنا پر اس میں معاونت نہ کرنا سفاہت نہیں ۔

پس قدریہ اور ان جیسے دوسرے لوگوں کی دلیل کا بطلان ظاہر ہو گیا۔ اسی طرح جو غیر کو اس بات سے روکتا ہے جس کی بابت اس کا ارادہ ہے کہ وہ اسے کرے کہ ایسا کرنے والا سفیہ نہیں ۔ کیونکہ بسا اوقات اس میں روکنے والے کی مصلحت ہوتی ہے۔ لہٰذا مسہلات پینے والا مریض اگر اپنے بچے کو ان کے پینے سے روکے تو سفیہ نہ ٹھہرے گا اور تیرنے والا اگر اناڑی کو تیرنے سے روکے تو سفیہ نہ ہو گا۔ غرض اس کی مثالیں بے شمار ہیں ۔

اگر روکنے والا کسی کو اس کی خیر خواہی کے لیے کسی مضر شی سے روکے اور خود ناہی کی مصلحت اس کے کرنے میں ہو تو وہ اس فعل پر محمود ٹھہرے گا جیسا کہ بہت سارے لوگ کئی کاموں سے روکتے ہیں بسا اوقات انہی کی مصلحت کے لیے اس فعل کو طلب کرتے ہیں ۔

البتہ مخلوق میں ایسی کوئی مثال ممکن نہیں جو ہر اعتبار سے رب تعالیٰ کے فعل کے مطابق ہو۔ کیونکہ اس جیسی کوئی شی نہیں نہ ذات ہیں ، نہ صفات اور نہ افعال میں ۔ غرض مقصود یہ ہے کہ مخلوق میں یہ ممکن ہے کہ انسان ایک بات کا امر کرے پر اس پر اعانت کا ارادہ نہ ہو اور روکنے والے یسی بات سے روکے کہ خود اس کے کرنے میں اس کی مصلحت میں ۔ تو معلوم ہوا کہ اس قدری وغیرہ نے لفظ مجمل کے ساتھ کلام کیا ہے۔ لہٰذا جب انہوں نے یہ کہا کہ جس نے ایسی بات کا امر دیا جو وہ چاہتا نہیں تو وہ سفیہ ہے، تو انہوں نے لوگوں کو اس بات کا وہم ڈالا کہ اللہ نے اس بات کا امر دیا جس کی بابت اس نے یہ ارادہ نہیں کیا کہ بندہ وہ کام کرے اور اللہ نے بندے کو ایسا حکم نہیں دیا کہ جس کے نہ کرنے پر وہ راضی ہو اور اس کے کرنے پر راضی نہ ہو۔ اللہ نے اس معنی میں ان سے فعل کے کرنے کا ارادہ نہیں کیا۔ اس نے بعض کو ایسی بات کا حکم دیا ہے کہ اس نے اس بات کا ارادہ نہیں کیا کہ وہ اپنی مشیئت سے اسے پیدا کرے اور اس نے بندوں کو ان کا فاعل نہیں بنایا اور یہ بات معلوم ہے کہ آمر کے ذمہ نہیں کہ وہ فعل مامور بہ پر مامور کی مدد کرے۔ بلکہ قدریہ کے نزدیک یہ ممتنع ہے اور دوسروں کے نزدیک وہ اس پر قادر ہے لیکن اس کو اس بات کا اختیار ہے کہ چاہے تو کرے اور چاہے نہ کرے۔

اب جو تو مشیئت کو حکمت غائیہ کے بغیر ثابت کرتا ہے اس کا قول ہے کہ: یہ دیگر ممکنات کی طرح ہے، چاہے تو چاہے اور چاہے تو نہ کرے اور جو حکمت کو ثابت کرتا ہے، اس کا قول ہے کہ اسے اس بات کا اختیار ہے کہ وہ اس کو حکمت کی بنا پرحادث نہ کرے۔ جیسا کہ دیگر وہ تمام امور جن کو اس نے حادث نہیں کیا اور کبھی اس کے راحداث میں اس مامور کے علاوہ کے لیے ایک عظیم مفسدہ ہوتا ہے جو حاصل ہونے والی حکمت سے بھی بڑا ہوتا ہے اور کبھی اس فعل مامور میں مصلحت حاصلہ سے بھی بڑی مصلحت کی تفویت ہوتی ہے اور حکم وہ ہوتا ہے جو دو میں سے بڑی مصلحت کو کو مقدم کرتا ہے اور دو میں سے بڑے مفسدہ کو دفع کرتا ہے۔ اللہ کی حکمتوں کی تفصیل جاننا یہ مخلوق کے ذمے نہیں ۔ بلکہ ان کے حق میں علم عام اور ایمان تام ہی کافی ہے۔

اب جس نے ارادہ کو ایک نوع قرار دیا ہے، اگرچہ اس کا قول مرجوح ہے، پر وہ ان قدرِ کے قول سے بہتر ہے جو ارادہ، محبت اور مشیئت سب کو ایک شی قرار دیتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ وہ بھی ہو سکتا ہے جو اس نے نہیں چاہا اور جو چاہتا، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ نہ ہو۔ کیونکہ اس کا قول ہے کہ سفہ اس پر جائز ہے جس پر اعتراض جائز نہ ہوں اور اعتراض غیر کی طرف حاجت کو اور حاجت کے بغیر نقض کو مستلزم ہوتی ہیں اور یہ اللہ پر ممتنع ہے اور اللہ کے حق میں یہ تسلسل اور اس کے ساتھ حوادث کے قیام کو مستلزم ہے اور اس خصم کے نزدیک یہ ممتنع ہے۔

سو جب معتزلہ اور ان کے ہم نوا شیعہ نے ان اصول کو تسلیم کر لیا تو ان کی دلیل منقطع ہو گئی۔ وہ یوں کہ جب انہوں نے یہ قول کیا کہ وہ کسی غرض سے فعل کرتا ہے۔ تو انہیں یہ جواب دیا جائے گا کہ اللہ کی طرف غرض کے وجود اور اس کے عدم کی نسبت برابر ہے۔ یا غرض کا وجود اس کے زیادہ سزا وار ہے۔ پھر اگر تو یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ دونوں پہلو یکساں ہیں تو اس کے ساتھ یہ بات ممتنع ٹھہری کہ وہ ایسا فعل کرے جس کے عدم اور وجود کی اس کی طرف نسبت یکساں ہو اور یہ ہم میں سفیہ گنا جائے گا اور یہ ہم میں عبث ہو گا۔

اگر وہ یہ کہتے ہیں کہ اس نے بندوں کے نفع کے لیے کیا ہے۔ تو یہ جواب دیا جائے گا کہ ایک انسان بھی اپنی دینی یا دنیاوی مصلحت کے لیے دوسرے کے نفع کا کوئی کام کر دیتا ہے۔ رہا دوسرے پر احسان کر کے لذت اندوز ہونا جیسے کہ نفوسِ کریمہ دوسروں پر احسان کر کے لطف اندوز اور خوش ہوتے ہیں اور یہ ان نفوس کی مصلحت و منفعت ہے۔

صفحہ 3 از 4