فصل:....اہل سنت پر اللہ کی طرف سفاہت کے انتساب کا الزام…

فصل:....اہل سنت پر اللہ کی طرف سفاہت کے انتساب کا الزام اوراس پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 4

رہا نفس سے رقت کے الم کو دور کرنا۔ تو جب ایک آدمی دوسرے کو بھوک کی کلفت میں دیکھتا ہے تو اسے کھانا دے دیتا ہے جس سے اس کی کلفت جاتی رہتی ہے اور زوالِ کلفت بھی ایک منفعت و مصلحت ہے۔ اس کے علاوہ باتوں کو تو جانے دیجیے جیسے تعریف کی امید، یا بدلہ کی امید یا اللہ سے اجر کی امید کہ یہ علیحدہ مطالب و مقاصد ہیں ۔ لیکن نفس فاعل میں یہ دونوں امر موجود ہیں ۔ سو جس نے دوسرے کو نفع دیا اور نفع کا عدم و وجود اس کی طرف نسبت کے اعتبار سے ہمہ پہلو یکساں ہو تو یہ بے وقوف ترین ہو گا اگر پایا جائے۔ تو جب یہ ممتنع ہو گا تو پھر؟....کیونکہ یہ بات ممتنع ہے کہ ایک مختار کو کام کرے یہاں تک کہ وہ اس کے نزدیک راجح نہ ہو جائے۔ تب پھر اس کے نزدیک اس کا کرنا اس کے نہ کرنے سے زیادہ محبوب ہو گا اور احب کی ترجیح بھی ایک لذت اور منفعت ہے۔

اب یہ قدریہ جو غرض کی تعلیل کے قائل ہیں ، یہ اس شی کو ذکر کرتے ہیں جس کا غرض ہونا ممتنع ہوتا ہے۔ وہ یا تو ممتنعہوتا ہے یا سفاہت ہوتی ہے اور اگر یہ ایسی غرض کو ثابت کریں جو اس کے ساتھ قائم ہو تو اس کا محل حوادث ہونا لازمی آتا ہے اور وہ اس کا حیلہ کرتے ہیں ۔

پھر اگر ایک غرض دوسرے غرض کے لیے ہو تو تسلسل لازم آئے گا۔ وہ اس کو ماضی کی طرف لے جاتے ہیں اور مستقبل کے بارے میں ان کے دو اقوال ہیں اور اگر وہ دوسری غرض کے لیے نہ ہو تو اس کا کسی غرض کے بغیر حدوث جائز ہو گا۔ سو یہ وہ اصول ہیں جن پر قدریہ اور یہ متفق ہیں یہ اُں کی اِن پر حجت ہے۔


صفحہ 4 از 4