گناہوں اور بد اعمالیوں کے بارے میں سنت الہٰی
علی محمد الصلابیاللہ کا فرمان ہے:
اَلَمۡ يَرَوۡا كَمۡ اَهۡلَـكۡنَا مِنۡ قَبۡلِهِمۡ مِّنۡ قَرۡنٍ مَّكَّنّٰهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ مَا لَمۡ نُمَكِّنۡ لَّـكُمۡ وَاَرۡسَلۡنَا السَّمَآءَ عَلَيۡهِمۡ مِّدۡرَارًا وَّجَعَلۡنَا الۡاَنۡهٰرَ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهِمۡ فَاَهۡلَكۡنٰهُمۡ بِذُنُوۡبِهِمۡ وَاَنۡشَاۡنَا مِنۡ بَعۡدِهِمۡ قَرۡنًا اٰخَرِيۡنَ ۞(سورۃ الأنعام آیت 6)
ترجمہ: کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم ان سے پہلے کتنی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں۔ ان کو ہم نے زمین میں وہ اقتدار دیا تھا جو تمہیں نہیں دیا۔ ہم نے ان پر آسمان سے خوب بارشیں بھیجیں، اور ہم نے دریاؤں کو مقرر کردیا کہ وہ ان کے نیچے بہتے رہیں۔ لیکن پھر ان کے گناہوں کی وجہ سے ہم نے ان کو ہلاک کر ڈالا۔ اور ان کے بعد دوسری نسلیں پیدا کیں۔
اللہ تعالیٰ نے فارسی قوم کو اس کے گناہوں کی وجہ سے ہلاک کر دیا، ان گناہوں میں سب سے عظیم اور گھناؤنا شرک اور کفر کا گناہ تھا۔ پس اس آیت میں ایک ٹھوس حقیقت کی نشان دہی اور اٹل قانون الہٰی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، وہ یہ کہ گناہ، گناہ گاروں کو ہلاکت کی دعوت دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ گنہگاروں کو ان کے گناہوں کی وجہ سے ہلاک کرتا ہے۔
(السنن الإلٰہیۃ: صفحہ 210)
یہی وجہ رہی کہ جب امت مسلمہ نے روئے زمین پر غلبہ و اقتدار پانے کی الہٰی شرطوں اور ربانی سنتوں کو اختیار کیا تو اللہ نے انہیں فارسیوں پر غلبہ عطا کیا۔