فصل:....امور اختیاریہ پر بحث - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....امور اختیاریہ پر بحث

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 3

رہا واقع ہونے والا کفر، فسق اور عصیان تو ان کے نزدیک اسے وہ محبوب اور پسند ہے جیسا کہ اس نے ان کو چاہا ہے البتہ اسے کفر و عصیان والے کو ثواب نہیں دینا محبوب نہیں جیسا کہ اس نے کفر و عصیان والے کو ثواب دینا نہیں چاہا۔ ان کے نزدیک رب تعالیٰ کا کسی قوم کو تعذیب یا کسی کو انعام دینا کسی حکمت و سبب کے نہیں اور نہ بعض مخلوقات کے وہ قویٰ و طبائع ہیں جن کے ذریعے وہ حادث ہوا ہے اور نہ وہ کسی حکمت کی بنا پر حادث ہی ہوا ہے اور نہ اس کا امر و نہی کسی معنی کے لیے ہے اور نہ اس نے نبیوں اور فرشتوں کو ان میں پائے جانے والے کسی معنی کی وجہ سے ہی چنا ہے۔ نہ اس نے کسی معنی کی بنا پر طیبات کو حلال اور خبائث کو حرام ٹھہرایا ہے۔ جو معنی کہ حلال کو طیب اور حرام کو خبیث ٹھہراتا ہے اور نہ اس نے لوگوں کے اموال کی حفاظت کی خاطر چور کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا ہے اور نہ اس نے حد سے اعتداء کرنے والے ڈاکوؤں کو اس لیے سزا دینے کا حکم دیا ہے کہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ظلم سے بچایا جائے اور نہ بارش اس لیے برسائی ہے کہ حیوانات پانی پئیں اور نباتات پانی سینچیں ۔

ان دونوں اقوال میں وہ تناقض ہے جو حد شمار سے باہر ہے۔ لیکن اس امامی نے جب اہل سنت کے اقوال کا مطلق تناقض ذکر کیا تو اس پر یہ واضح ہوا کہ جملہ قدریہ اپنے مقابل مجبرہ پر حجت قائم کرنے سے عاجز ہیں ، جیسا کہ روافض اپنے مقابل خوارج و تواصب پر اقامت حجت سے قاصر ہیں چہ جائیکہ کتاب و سنت کے متبعین، اہل استقامت و اعتدال پر حجت قائم کر سکیں ۔

اسی لیے ہم نے اس ان گنت فساد و تناقض کے بعض پہلوؤں پر تنبیہ کی ہے۔ ان اشعریہ وغیرہ اہل اثبات نے اپنے اصول میں ان کے تناقض کے بیان کو مشروع کیا اور ان کے اقوال کے تناقض کا استیعاب کیا۔

اشعری کی جبائی کے ساتھ تین بھائیوں کے بارے میں حکایت مشہور ہے کہ وہ رب تعالیٰ پر اس بات کو واجب ٹھہراتے تھے کہ وہ ہر بندے کے ساتھ وہی کرے جو اس کے دین کے لیے زیادہ مناسب ہے۔ وہی دنیا تو بغدادی معتزلہ اس کو بھی واجب کرتے ہیں ۔ البتہ بصری معتزلہ اسے واجب نہیں کرتے۔

چنانچہ اشعری نے جبائی سے کہا: فرض کرو کہ اللہ نے تین بھائی پیدا کیے۔ ان میں سے ایک تو نابالغی کی عمر میں ہی فوت ہو گیا۔ جبکہ دوسرے دو بلوغت کو پہنچ گئے۔ پھر ان میں سے ایک کافر بن گیا اور دوسرا ایمان لے آیا، سو کافر دوزخ میں اور مومن جنت میں جا پہنچا۔ لیکن اللہ نے اس بالغ بھائی کا درجہ نابالغ جنتی بھائی سے بلند کیا۔ تب اس نابالغ نے کہا: اے میرے رب! میرا درجہ بھی میرے بھائی جتنا کر دے ۔ رب تعالیٰ نے فرمایا: تم اس جیسے نہیں ہو، اس نے تو ایمان لا کرنیک اعمال بھی کیے تھے۔ جبکہ تو نے نابالغی کی وجہ سے نیک اعمال نہ کیے۔ اس نابالغ نے کہا: اے میرے رب! مجھے کم سنی میں موت تو نے دی۔ اگر تو مجھے زندہ رکھتا تو میں بھی اس جیسے نیک عمل کرتا۔ رب تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تیری مصلحت کو پیش نظر رکھا، کیونکہ میں جانتا تھا کہ اگر تو بلوغت کو پہنچتا تو کفر کرتا۔ اسی لیے میں نے تمہیں کم سنی میں ہی موت دے دی۔ اس پر وہ تیسرا دوزخ میں سے چلایا: اے اللہ! تو نے میرے ساتھ ایسا کویں نہ کیا جیسا کہ تو نے میرے اس کم سن بھائی کے ساتھ کیا؟ کہ بات تو میرے حق میں بھی مصلحت تھی؟

چنانچہ جب اشعری نے جبائی پر یہ اعتراض کیا تو وہ لا جواب ہو گیا۔ وہ اس لیے کہ یہ لوگ دو متماثلین میں رب تعالیٰ پر عدل کرنے کو واجب قرار دیتے ہیں اور یہ کہ وہ دونوں میں سے ہر ایک کے ساتھ وہ کرے جو اس کے لیے زیادہ مناسب ہو۔ جبکہ یہاں اس نے ان لوگوں کے نزدیک ایک کے ساتھ دوسرے سے زیادہ مناسب معاملہ کیا ہے۔ غرض یہ مقام اس کی تفصیل کا نہیں ۔

جب بات یہ ہے تو ان کا رب تعالیٰ کو مخلوق کے ساتھ تشبیہ دینا باطل ٹھہرا اور اِن کو اُن لوگوں نے یہ کہا: ہم اور تم اس بات پر تو متفق ہیں کہ رب تعالیٰ کے فعل کو اس کی مخلوق کے فعل پر قیاس نہ کیا جائے گا۔ اور ہم اور تم اس فاعل کو ثابت کرتے ہیں جو ایسا فعل کرتا ہے جو اس کی ذات سے منفصل ہوتا ہے، بغیر کسی ایسی شی کے جو اس کی ذات میں حادث ہیں ۔ حالانکہ مشاہدہ میں یہ بات غیر معقول ہے اور ہم ایسا فاعل ثابت کرتے ہیں جو ہمیشہ سے غیر فاعل ہو۔ یہاں تک کہ وہ کسی شی کے تجدد کے بغیر فعل کرتا ہے۔ حالانکہ مشاہدہ میں یہ بات بھی غیر معقول ہے۔

تم وہ غرض ثابت کرتے ہوجوایسے فاعل کو ثابت کرتی ہے جو ہمیشہ سے غیر فاعل ہو۔حتی کہ وہ کسی چیزکے تجدد کے بغیر فعل کرتا ہو۔ یہ بات بھی مشاہدہ میں غیر معقول ہے اور تم وہ غرض ثابت کرتے ہو جو مشاہدہ میں غیر معقول ہے۔ اور اس پر مستزاد اس بات کے بھی مدعی ہو کہ تم رب تعالیٰ کی ذات سے سفاہت کی نفی کرتے ہو اور اسے حکیم بھی ٹھہراتے ہو۔ حالانکہ جو تم ثابت کرتے ہو وہی تو رفاہت ہے جو کتاب و سنت اور حکمت کے مخالف اور مشاہدہ میں معقول ہے۔

تو جب بات یہ ہے تو تمہارا یہ قول کہ ہر وہ عاقل جو ایسی بات کا حکم دے جس کا اس نے ارادہ نہیں کیا اور ایسی بات سے روکے جس کا اس نے ارادہ کیا ہے کہ اس کی سفاہت کی طرف نسبت کی جائے گی، حالانکہ رب تعالیٰ اس بات سے منزہ اور پاک ہے۔

تو تمہیں یہ جواب دیا جائے گا کہ اگر تو یہ فاعل کوئی مخلوق ہے تو تم یہ کیوں کہتے ہو کہ خالق بھی اسی طرح ہے۔ حالانکہ ہم اس بات پر متفق ہیں کہ خالق اور مخلوق میں فرق ہے؟ اور مخلوق جلب منفعت اور دفع مضرت کی محتاج ہے۔ حالانکہ اللہ اس بات سے منزہ ہے اور بندہ مامور بھی ہے اور منہی بھی ہے۔

سو اگر تو تم لوگوں نے یہ قضیہ کلیہ کر کے لیا تو اس میں خالق بھی داخل ہو جائے گا۔ جبکہ عقلاء کا ماثور و منقول اجماع ہمیں اس بات سے روکتا ہے اور اگر تم یہ قضیہ مخلوق میں لیا تاکہ اس پر خالق کو قیاس کریں ، تو قیاسِ فاسد ہے۔ تمہیں یہقیاس کرنا صحیح نہیں نا اس لیے کہ یہ قیاسِ مشمول ہے یا اس لیے کہ یہ قیاسِ تمثیل ہے۔

صفحہ 2 از 3