فلاسفہ کا عقیدہ : فعل کا عدم کے بعد وجود میں آنا - ردِ…

فلاسفہ کا عقیدہ : فعل کا عدم کے بعد وجود میں آنا

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 23

فلاسفہ کا عقیدہ : فعل کا عدم کے بعد وجود میں آنا 

اکثر فلاسفہ اس بات کے قائل ہیں کہ فعل وہ صرف اور صرف عدم کے بعد ہی وجود میں آتا ہے کیونکہ کسی بھی مفعول کا وجود اس کے عدم کے بعد ہی معقول ہے ظاہری نظر میں تو فلاسفہ کسی فعل کے علل میں سے منجملہ عمل کو بھی ایک علت قرار دیتے ہیں اور وہ عدم کومنجملہ مبادی کے قرار دیتے ہیں اور ان کے نزدیک اعراض کے اجناسِ عالیہ میں سے منجملہ فعل اور انفعال ہے یعنی اثر کرنا اور دوسرے کا اثر قبول کرنا ۔

پس اگر یہ کہا جائے کہ باری تعالیٰ نے عالم میں سے کوئی فعل صادر کر لیا تو یہ لازم آئے گا کہ فعل اس کی ذات کے ساتھ فعل قائم ہو اور اس کے ساتھ ایسی صفات قائم ہونگی جن کو اعراض کی صفات کہا ہے اور یہ بات بھی لازم آئے گی کہ فعل ایک ایسے عدم کے بعد ہی وجود میں آتا ہے جومفعول کے وجود کے ساتھ قدیمِ ازلی نہیں بن سکتا۔

انہوں نے یہ کہاہے کہ چونکہ حرکت ،تغیر اورفعل سب کے سب عدم کی طرف محتاج ہیں اور عدم توان کی طرف محتاج نہیں لہٰذا عدم ہی اس اعتبار سے مبدأ ٹھہرا اور ان کی مراد یہ ہے کہ وہ اس میں شرط ہے اس لیے کہ اس کے بغیر کوئی بھی حرکت اور فعل اور اس کے امثال وجود میں نہیں آتے مگر عدم کے بعد ۔اور رہا اس چیز کا عدم جو موجود ہے اور یا عدمِ مستمرجیسے کہ کسی مستکمل کا عدم۔ جو کہ اس سے پہلے معدوم تھا پھر اس کے لیے حاصل ہوا پس یہ متغیر ،مستکمل ،متحرک اور مفعول یہ سب کے سب عدم کی طرف محتاج ہوئے اور عدم تو ان کی طرف محتاج نہیں پس عدم اس اعتبار سے مبدأ ٹھہرا اور اسی وجہ سے فعل اور وہ انفعال جو عالم میں معروف ہیں وہ امر ہے جو فاعل اور فعل کی تاثیر سے حادث ہوتے ہیں اور وجو د میں آتے ہیں ،کوئی بھی فعل اور کوئی بھی انفعال بغیر کسی سبب کے حدوث کے معقول نہیں ۔

اس بات پر ابن سینا اور دیگر فلاسفہ کے دلائل کہ فعل میں عدم کا تقدم ضروری نہیں
پہلی دلیل اور اس پر رد 

متاخرین فلاسفہ میں سے یہ چھوٹی سی جماعت جن کا عقیدہ ہے کہ فعل کے اندر عدم کا تقدم شرط نہیں انہوں نے اس کے لیے ایسے دلائل ذکر کیے ہیں جن کو ابن سینا اور دیگر متاخرینِ فلاسفہ نے ذکر کر دیا ہے اور امام رازی نے اپنے مباحثِ مشرقیہ میں ان کو تفصیل سے ذکر کیا ہے اور اس میں اس نے وہ باتیں بھی ذکر کی ہیں جس کو دس براہین کا نام دیا ہے وہ سب کے سب باطل ہیں پس اس نے کہا کہ :

۱۔ پہلی دلیل یہ ہے کہ عدمِ سابق کی طرف جو چیز محتاج ہوتی ہے یا تو وہ فعل کا وجود ہے یا اس کے اندرفاعل کی تاثیر ہے ۔یہ بات تومحال ہے کہ عدمِ سابق کی طرف فعل کا وجود محتاج ہو اس لیے کہ فعل اپنے وجود میں عدم کی طرف محتاج ہو جائے تو عدم اس کے مقارن ہوگا۔

ایسا عدم جو فعل کے ساتھ مقارن اور متصل ہو وہ اس کے وجود کے منافی ہے اور یہ بات محال ہے کہ محتاج علیہ فاعل کی تاثیر بنے اس لیے کہ فاعل کی تاثیر کیلئے ضروری ہے کہ وہ اصل کے ساتھ مقارن اور متصل ہو اور اصل کا پایا جانا اس کے عدم کے منافی ہے۔ اور ایسی شے کا منافی ہے کہ جس کا مقارن ہونا ضروری ہے۔ تو اس کا منافی ہونا بھی واجب ہے اور منافی کبھی بھی شرط نہیں بن سکتا ۔ پس نہ تو فعل اپنے وجود میں موجود اور حاصل ہوا اور نہ فاعل اپنے موثر ہونے میں عدمِ منافی کی طرف محتاج ہوا۔ پس جواب میں کہا جائے گا کہ مفعول یا فاعل کے فعل کا عدم کی طرف محتاج ہونے سے یہ مراد نہیں ہے کہ عدم اس میں موثر ہے تاکہ اس پر تفریع کرتے ہوئے اس بات کو ثابت کیا جائے کہ اس کا اس کے ساتھ مقارنت ضروری ہے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ عدم کے بعد ہی وجود میں آتا ہے جس طرح کہ انہوں نے کہا ہے کہ عدم منجملہ مبادی کے ہے چاہے اسے مطلقِ فعل یا حرکتِ تغیر یا استکمال کے لیے مبدا قرار دیا جائے پس مقصود تو یہ ہے کہ انہوں نے اس کو اس معنی پر عدم کی طرف محتاج قرار دیا کہ وہ کسی شے کے عدم کے بعد ہی وجود میں آتا ہے ،اس معنی پر نہیں کہ عدم اس کے ساتھ مقارن ہے ۔

یہ بات تو معلوم ہے کہ جب یہ کہا جائے کہ حرکت ہمیشہ دھیرے دھیرے وجود میں آتی ہے مگر آواز کا بھی تویہی حال ہے لہٰذا اس میں سے جو بھی جزء حادث ہوگا یعنی وجود میں آئے گا وہ اپنے ماقبل کے وجود پر موقوف ہوگا اگرچہ اس کے ساتھ مقارن نہ ہو اور یہ بات بھی (مسلم ہے )کہ معدوم شے جب اپنے وجود کے بعد دوبارہ معدوم ہو جائے تو یہ عدمِ حادث بھی تو اس وجودِ سابق کی طرف محتاج ہے حالانکہ اس کے مقارن نہیں یعنی مقارن ہونا ضروری نہیں اور نیز یہ جو بات انہوں نے کہی ہے اس کے ذریعے ان پر ہر حادث میں اس بات کا الزام آئیگا اس لیے کہ ہر شے جو حادث ہوتی ہے وہ عدم کے بعد ہی حادث ہوتی ہے پس اس کا حدوث موقوف ہوا اپنے اس  عدمِ سابق پر جو اس کے وجود سے پہلے ہے باوجود یہ کہ وہ عدم اس کے ساتھ مقارن نہیں ۔

اگر یہ اپنی حجت کو عام کردیں تو ان پر اس بات کا الزام آئے گا کہ کوئی بھی حادث وجود میں نہ آئے اور یہ تو مکابرہ ہوا اور قد معالم سے متعلق اکثر دلائل میں ان کا یہی حال ہے ۔ اس لیے کہ ان کا مقتضیٰ تو یہ ہے کہ کوئی شے بھی وجود میں نہ آئے حالانکہ عالم میں حوادث کا حدوث معاین اور ایک امر مشاہدہے یعنی دیکھا جاتا ہے پس ا ن کے دلائل کا حال وہی ہے جو سفسطائی دلائل کا ہے ۔

ازل میں مؤثر تام ہونے سے ان کی طرف سے پیش کی جانے والی ادلہ میں سے بڑی دلیل جس سے یہ اس بات پر استدلا ل کرتے ہیں کہ ہر مؤثر تام اپنے اثر کو مستلزم ہوتاہے ہیں یقیناً اس کامقتضیٰ یہ ہے کہ کوئی بھی شے حادث نہ ہو اور یہ واضح گمراہی ہے کیونکہ انہوں نے موثرِمطلق اور صرف ممکنا ت میں موثر کے درمیان فرق نہیں کیا پھر جب انھو ں نے کہا کہ اس کا موثر ہونا یا تو اس کی ذاتِ مخصوصہ کی وجہ سے ہے یا اس کے ساتھ کسی امر لازم کی وجہ سے ہے یا امرِ منفصل کی وجہ سے ہے اور ثالث تو ممتنع ہے کیونکہ وہ منفصل تو اس کے منجملہ آثار میں سے ہے لہٰذایہ بات ممتنع ہوئی کہ وہ اس پر موثر قرار پائے کیونکہ علل میں دور ممتنع ہے اور اول اور ثانی تقدیر پر تو اس کے موثر ہونے کا دوام لازم آئے گا ۔

صفحہ 1 از 23