فلاسفہ کا عقیدہ : فعل کا عدم کے بعد وجود میں آنا - ردِ…

فلاسفہ کا عقیدہ : فعل کا عدم کے بعد وجود میں آنا

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 10 از 23

یہ بھی (یاد رہے )کہ منکرین صفات جیسے کہ ابن سینا اور اس کےہمنوا؛ان کے اقوال میں تناقض پایا جاتا ہے اور وہ صفات کی نفی اور اثبات کو جمع کرتے ہیں ۔ ایک اور مقام پراس پر تفصیلی کلام ہوچکا ہے۔ پس اگر وہ صفات کو ثابت ماننے والے ہیں تو وہ باقی مثبتین کی طرح ہیں ۔ اور اگران کے منکر ہیں تو ان کو جواب میں کہا جائیگاکہ : ’’ سلب تو عدم محض ہے۔ اور امور اضافیہ جیسے کہ اس کا فاعل ہونا ،مبدأ ہونا تو یاتو وہ وجود اور عدم سے عبارت ہیں ۔ کیونکہ وہ مقولہ فعل وانفعال سے ہیں اور یہ مقولہ من جملہ ان اجناس عالیہ کے ہے جو مناطقہ کے نزدیک دس اجناس ہیں ۔ اور جو موجودات کی اقسام ہیں تووہ اضافت جس سے وجود کو موصوف کیا جاتا ہے اس کی صفات اضافیہ وجود ی قرار پائیں گی جو اس کی ذات کیساتھ قائم ہوں گی اور اگر اضافت عبارت ہے عدم محض سے تو سلب میں داخل ہے پس اضافت کو ایساقسم ثالث بنا لینا جو نہ تو وجود سے عبارت ہو نہ عدم سے ،یہ خطا ہے ۔

ایسی صورتحال میں جب انہوں نے واجب الوجود کیلئے کسی صفت وجودی کو ثابت نہیں کیا تو پھر اس کی ذات سوائے امر عدمی کے صفات میں سے کسی بھی صفت کو مستلزم نہ رہی، رہے مخلوقات تو وہ تو موجودات ہیں جن میں سے بعض جواہر اور اعراض ہیں اور یہ تو بداہۃ ًمعلوم ہے کہ واجب اور غیر واجب کا عدمِ محض کا تقاضا کرنا اس کے وجود کے تقاضا کرنے کی طرح نہیں چاہے اس کو استلزام کانا م دیا جائے یا ایجاب نام دیا جائے یا فعل یا اس کے علاوہ کوئی اور نام ،اس لئے کہ کسی چیز کا وجود اس کے ضد کے عدم کو مستلزم ہوتا ہے اور کوئی بھی عاقل اس کا قائل نہیں کہ وہ اپنے ضد کے عدم کی وجہ سے فاعل ہے اور کسی چیز کا وجود اس کے ذات کے عدم کے مناقض ہے اور کوئی بھی عاقل اس کا قائل نہیں کہ اس کا وجود ہی فاعل ہے بوجہ اس کے عدم کے نہ پائے جانے کے کیونکہ اس کے عدم کا معدوم ہونا ہی تو اس کا وجود ہے اور اس کا وجود تو واجب ہے جوکہ نہ مفعول بنتا ہے اور نہ معلول اور یہ بھی (مسلم ہے )کہ عدم محض کیلئے یا تو بالکل کوئی علت ہی نہیں ہوتا جیسے کہ جمہور عقلاء کی رائے ہے یا یہ کہ کہا جائے کہ اس کی علت اس کے وجود کی علت کا نہ پایا جاناہے پس عدم کی علت خود عدم ہی ٹھہری اور عدمِ ممکن کیلئے کوئی علتِ وجودی ثابت نہ ہوئی پس عدمِ واجب بطریقہ اولی کسی علتِ وجودی کی طرف محتاج نہ ہوگی اس لئے کہ عدمِ واجب جو کہ اس کی ذات کے لئے لازم ہے وہ ایک ایساعدم ہے جو واجب ہے پس و ہ کسی علتِ وجودی کی طرف محتاج نہیں کیونکہ عدمِ واجب کے ساتھ تو ممتنع ہی متصف ہوتا ہے اور وہ ممتنع جس کا وجود ممتنع ہو وہ کسی علتِ وجودی کا محتاج نہیں ہوتی اور رب تعالیٰ کے وجود کا عدم اپنی ذات کے اعتبار سے ممتنع ہے جس طرح کہ رب تعالیٰ کا وجود اپنی ذات کے اعتبار سے واجب ہے ۔ پس وہ اس کیلئے علت نہیں بنے گا۔

پانچویں وجہ :....اس کا یہ کہناکہ’’ صفات، احوال اور احکام متکلمین کی مختلف آراء کے اعتبار سے۔‘‘

جواب: ....اللہ تعالیٰ کیلئے صفات کو ثابت ماننا جمہورِ امت کا مذہب ہے سلفاً وخلفاً اور یہی صحابہ اور تابعین کا اور مسلمانوں کے ائمہ کا بھی مذہب ہے۔ اور تمام اہل سنت والجمات اور متکلمین کے دیگر طوائف اور جماعتوں کا بھی جیسے کہ ہشامیہ ،کرامیہ ،کلابیہ ،اشعریہ اورا ن کے علاوہ اور اس میں صرف جہمیہ نے اختلاف کیا ہے اور وہ امت کے سلف اور ائمہ کے نزدیک اور ان کی تمام جماعتوں کے نزدیک اللہ اور اس کے اصول پر ایمان سے بہت زیادہ دور ہیں اور معتزلہ اور ان کے امثال نے ان کیساتھ موافقت کی ہے یعنی ان میں سے وہ جو امت کے نزدیک بدعت میں مشہور ہیں ،رہے احکام تو وہ اللہ پر اس بات کا حکم لگانا ہے کہ وہ زندہ ،عالم اور قادر ہے۔ اور یہی اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں برحق خبر ہے اور اس کو معتزلہ بھی ثابت کرتے ہیں (یعنی مانتے ہیں )۔ لیکن غالی جہمیہ اللہ تعالی سے اسماء کی نفی کرتے ہیں اور ان کو مجاز قرارر دیتے ہیں ۔ پس وہ اللہ کے بارے میں خبر کو مجاز کہتے ہیں ۔ اور یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی صفات کے منکر ہیں ۔ اور ان کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کسی بھی چیز کا تقاضا نہیں کرتی۔ اس لئے کہ مخبرین کا کلا م اور ان کا حکم ایک ایساامر ہے جو ان کے ساتھ قائم ہے وہ اللہ کی ذات کیساتھ قائم نہیں ۔

رہے و لوگ جنہوں نے احکام کو ثابت نہیں مانا؛ جیسے کہ ابوھاشم اور اس کے اتباع؛ تو وہ یہ کہتے ہیں کہ وہ نہ تو موجود ہیں اور نہ معدوم پس اس کو موجودات کی طرح نہیں قرار دیا جا سکتا ۔رہا صفات کے ان مثبتین پر کلام جو یہ کہتے ہیں کہ اس کی صفات موجود ہیں اور اس کی ذات کیساتھ قائم ہیں اور اس کی مخلوقات ایسی اشیائے موجودہ ہیں جو اس کی ذات سے مبائن اور جدا ہیں تو ان لوگوں کے نزدیک اللہ تعالی کی صفات واجب الثبوت ہیں ،ان کے اوپر عدم (فنا)ممتنع ہے ۔یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ان بارے میں وجود اور عدم دونوں ممکن ہیں جیسے ان ممکنات کے بارے میں یہ دونوں احتمال ثابت ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے وجود دیا ہے ۔ صفات کیلئے ایسی ذوات ہیں جو ان کے وجود کے علاوہ ثابت ہیں ۔ اور وہ ذوات وجود اور عدم دوونوں کو قبول کرتی ہیں جیسے کہ یہی بات بعض لوگ ممکناتِ مفعولہ کے بارے میں کرتے ہیں پس یہ بات واضح ہوئی کہ اللہ تعالی کی صفات کو اس کی مخلوقات کیساتھ مثال دینا اور اس کے مشابہہ قرار دینا تما م جماعتوں اور طوائف کے نزدیک انتہائی درجے کی فاسد تمثیل ہے ۔

صفحہ 10 از 23