فلاسفہ کا عقیدہ : فعل کا عدم کے بعد وجود میں آنا - ردِ…

فلاسفہ کا عقیدہ : فعل کا عدم کے بعد وجود میں آنا

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 13 از 23

۲) دوسرا یہ کہ کوئی چیز اپنی ذات کی طرف مستند نہ ہو بلکہ غیر کی طرف ہو خواہ یہ استناد اور نسبت کسی زمانِ معین کیساتھ خاص ہو یا وہ تمام زمانوں میں مستمراور جاری ہو اور انہو ں نے کہا ہے کہ یہی حدوث ذاتی ہے اور اسی طرح ’’قِدم ‘‘کی تفسیر بھی انہوں نے ان دومعانی کیساتھ کی ہے اور انہوں نے قدم کو اپنے دو معانی میں سے ایک معنٰی کیساتھ وجوب کا مرادف قرار دیا۔ اور انہوں نے کہا کہ حدوثِ ذاتی کے اثبات پر دلیل یہ ہے کہ ہر ممکن لذاتہٖ اپنے ذات کی وجہ سے عدم کا مستحق ہے اور غیر کی وجہ سے وجود کا ،اور جو چیز ذات کی وجہ سے ہو (ذاتیات میں سے ہو)وہ اس چیز سے اقدم اور اسبق ہوتی ہے جو غیر کی وجہ سے ہو (یعنی ذات سے خارج ہو )پس اس ممکن کے حق میں وجوب کی بہ نسبت عدم زیادہ اقدم ہے تقدم ذاتی کیساتھ پس وہ حادث ہوگا حدوث ذاتی کیساتھ ۔ان پر امام رازی رحمہ اللہ نے ایک سوال واردکیا ہے کہ یہ بات جائز نہیں کہ یہ کہا جائے کہ ممکن اپنی ذات کی وجہ سے عدم کا مستحق ہے اس لئے کہ اگر وہ اپنی ذات کے اعتبار سے عدم کا مستحق ہو تو وہ ممتنع بنے گا نہ کہ ممکن بلکہ ممکن پر تویہ بات صادق آتی ہے کہ وہ اپنی ذات کی وجہ سے موجود نہیں ہوتایعنی من حیث ہوہواور اس پر یہ صادق نہیں آتا کہ وہ من حیث الذات موجود نہیں اور دونو ں اعتبارین کے درمیان فرق معروف ہے اس طرح کہ ممکن اپنے علت کے وجود کی وجہ سے وجود کا مستحق ہے پس بے شک وہ اپنے علت کے عدم کے وجہ سے عدم کا بھی مستحق ہے اور جب عدم اور وجود دونوں کا استحقاق غیر کی وجہ سے ہے اور ان دونوں میں سے کوئی ایک بھی ماہیت کے مقتضیات میں سے نہیں تو پس کسی ایک کو دوسرے پر تقدم بھی حاصل نہیں لہٰذاایسی صورت میں اس کے وجود پر اس کے عدم کیلئے کوئی تقدم ِذاتی ثابت نہیں گا اور اس نے کہا کہ شاید اس حجت سے مراد یہ ہے کہ ممکن اپنی ذات کے اعتبار سے مستحق ہے نہ کہ اس کا عدمِ وجود کی استحقاقیت اور یہ استحقاقیت ایک وصفِ عدمی ہے جو کہ استحقاق پر سابق ہے پس اس اعتبار سے حدوث ِذاتی ثابت ہوئی ۔

اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ یہ سوال تو ایک صحیح سوال ہے جو انکے قول کو باطل کردیتا ہے باوجودیکہ اس نے ان کے اُس باطل کو بھی تسلیم کرلیا اس لئے کہ یہ کلام اس امرپر مبنی ہے کہ خارج میں ایک چیز معین یعنی ایک ایسی ذات ہے جو (وجود خارجی کے علاوہ )وجود اور عدم دونوں کو قبول کرتی ہے اور یہ باطل ہے اور یہ اس پر مبنی ہے کہ ممکن کا عدم اس کی علت کے عدم کیساتھ معلل ہے اور یہ بھی باطل ہے رہا اس بات کا اعتذار کہ مردا یہ ہے کہ وہ اپنی ذات کے اعتبار سے وجود اور عدم دونوں کا مستحق ہے تو اس کے جواب میں کہا جائیگا کہ جب یہ بات فرض کرلی جائے کہ یہی مراد ہے تو پھر وہ کسی بھی حال میں عدم کا مستحق نہیں بنے گا اس لئے کہ اس کی ذات تو وجود اور عدم دونوں میں سے کسی ایک کا تقاضا نہیں کرتی البتہ اس کا غیر اس کے وجود کا مقتضی ہے اس کے عدم کا نہیں ،پس عدم ایسے حال میں باقی رہیگا کہ وہ بذاتِ خود حاصل نہیں ہوتا اور نہ کسی دوسرے موجودسے حاصل ہوتا ہے بخلاف وجود کے پس اس کا عدم اس کے وجود پر کسی بھی حال میں سابق نہیں ہوگا ۔

اس کا یہ کہنا کہ لااستحقاقیت ایک وصفِ عدمی ہے اس کا جواب یہ ہے کہ یہ چیز عدمی تودونوں نقیضین یعنی وجود اور عدم کا بوقت واحد عدم سے عبارت ہے اور یہ وہ عدم نہیں جو صرف عدم الوجود سے عبارت ہے اور (یہ بداہۃ معلوم ہے کہ ) نقیضین دونوں مرتفع بھی نہیں ہوتے جسطرح کہ دونوں مجتمع بھی نہیں ہوتے پس یہ کہنا ممتنع ہوا کہ آن واحد میں ارتفاع نقیضین سابق ہے بوجہ اس کے وجود کے اور اگر یہ مراد لیا جائے کہ دونقیضین میں سے کوئی ایک بھی اس میں سے نہیں تو یہ بات حق ہے اور ان میں کسی ایک کی دوسرے پر سابقیت بھی نہیں ہے ۔

ان کا یہ کہنا کہ اس کا عدم اس کے وجود پر سابق ہے باوجود یکہ وہ دوام کیساتھ موجود ہے تو تم نے یہ باتجان لی ہے کہ وہ اپنے اس قول کے باوجود کہ ممکن قدیمِ ازلی ہے تو یہ ممتنع ہے کہ وہاں پر کوئی ایسا عدم ہو جو کسی بھی طور پراس کے وجود پرسابق ہو اور بے شک ان کا کلام اس جیسے محل پردونقضین کو جمع کرتا ہے اور یہ اس لئے کہ ایسا تناقض ان کے کلام میں بہت زیادہ پایا جاتا ہے لیکن وہ امکا ن جس کو جمہور عقلاء نے ثابت کیا ہے اور ان میں سے قدماء بھی اس کے قائل ہیں جیسے کہ ارسطو اور اس کے متبعین اور وہ یہ کہ یہ ممکن ہے کہ کوئی چیز موجود ہو جائے اور پھر معدوم ہو اور یہ امکان سابقیتِ حقیقی کے ساتھ عدم پر مسبوق ہے اس لئے کہ ہر ممکن محدث وجود میں آنے والاہے بعد اس کے وہ نہیں تھا اور یہ ان امور کو تفصیل کیساتھ بیان کرنے کا موقع نہیں ،اپنے مقام پر ان کو تفصیلاً بیان کیا جائے گا اور مقصود تو یہاں یہ ہے کہ انہوں نے عقلی دلائل کو فاسد کردیا بسبب اس کے کہ انہوں نے کلام کو اپنے حقیقی اور اصل مراد سے محرّف کرکے دوسرے معانی پر محمول کرلیا جیسے کہ انہوں ادلہ عقلیہ کو بسبب اس سفسطہ کے اور قلبِ حقائقِ معقولہ کے فاسدکردیا ہے اور اس فطرت سے انکار کے بسبب جس پر اللہ تعالی نے مخلوق کو پیدا کیاہے اور اسی غرض سے یہ لوگ ایسے مجمل اور ذووجہین الفاظ استعمال کرتے ہیں جن سے ان کا مقصد یعنی تلبیس اور تحریف پورا ہوتا ہے جیسے کہ لفظ ’’تاثیر ‘‘اور ’’استناد‘‘تاکہ وہ یہ کہیں کہ یہ بات ثابت ہو گئی وہ اپنی ذات کے اعتبار سے ممکن الثبوت ہے اور اس کی استناد مؤثر کی طرف جائز اور ممکن ہے اور وہ اپنی اصل کے اعتبار سے دائم الثبوت ہے اور وہ اصل جس پر انہوں نے اپنے اس قول کو قیاس کیا ہے :’’کہ وہ ایک ایسا عدم ہے جو فرع میں اسکے وجود کولازم ہے ‘‘:اس سے مراد یہ ہے کہ وہ کسی مبدع ذات (از سر نو بلا سابق نمونے کے پیدا کرنے والا )کا پیدا کردہ ہے اور خالق کیلئے مخلوق ہے پس یہ استناد اور وہ استناد کہاں برابر ہے اور اس تاثیر اور اُ س تاثیر میں کتنا بڑا فرق ہے ؟

نویں وجہ :....’’ اس حجت کی حقیقت ایک قیاس مجرد ہے جو ایک ایسی تمثیل پر مشتمل ہے جو وصف جامع سے خالی ہے‘‘

صفحہ 13 از 23