فلاسفہ کا عقیدہ : فعل کا عدم کے بعد وجود میں آنا - ردِ…

فلاسفہ کا عقیدہ : فعل کا عدم کے بعد وجود میں آنا

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 16 از 23

تو اولا اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ان لوگوں کاقول جو احوال کو ثابت کرتے ہیں جیسے کہ قاضی ابوبکر ،قاضی ابو یعلی ،اور ان سے پہلے ابو ہاشم اور جمہور اہل نظر وہ یہ کہتے ہیں کہ علم تو عا لمیت ہی ہے اور یہی درست ہے اور ان لوگوں کے قول پر یہ توبات نہیں کہی جاسکتی کہ علم یہاں علتِ فاعلہ ہے بغیر کسی ارادے اور بغیر کسی ذات کے یا انکے علاوہ کسی اورچیز کی وجہ سے پس معلول ان کے نزدیک وجود کیساتھ موصوف نہیں ہوتااور علت کا معنی کے نزدیک استلزام ہے اور اس میں تو کسی کا اختلاف نہیں ۔

نوویں دلیل اور اس پر رد :

امام رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’نوویں دلیل : کوئی بھی چیز اپنے وجود کے اعتبار کی حالت میں موجود ہے ،واجب الوجودہے کیونکہ اس کے وجود کیساتھ اس کا عدم ممتنع ہے اور وہ اپنے عدم ہونے کی حالت میں ممتنع ہے کیونکہ اس کا موجودِ معدوم ہونا ممتنع ہے اور حدوث ان دونوں حالتوں کے تردد سے عبارت ہے (یعنی کبھی موجود اور کبھی معدوم ) پس جب دونوں حالتوں میں دونوں صفتوں پر ماہیت واجب ہے تو ماہیت من حیث الذات واجب ہے اور کسی مؤثر کی طرف محتاج نہیں اس لئے کہ واجب اپنی ذات کے اعتبار سے واجب ہے اور اس کااستناد کسی مؤثرکی طرف ممتنع ہے پھر تو حدوث اپنی ذات کے اعتبار سے ایسا حدوث ہوا جو احتیاج سے مانع ہے پس اگر ماہیت کا من حیث الذات اعتبار نہ کیا جائے تو پھر وجوب مرتفع نہیں ہوگا یعنی اس کے وجود کا وجوب ایک زمانے میں اور عدم کا وجود اپنے زمانے میں اور وہ اس اعتبار سے کسی مؤثر کا محتاج نہیں پس ہم نے جان لیا کہ حدوث من حیث الذات حاجت سے مانع ہے اور اس کو کسی مؤثر کی طرف محتاج بنانے والا تو امکان ہے۔

جواب اس کا یہ ہے کہ اس حجت میں کئی مغالطات ہیں اور ان کا جواب کئی طرح پر ہے ۔

۱) حادث اپنے وجود کی حالت میں اگرچہ واجب الوجود ہے لیکن واجب الوجود لغیرہ ہے اورایسا وجوب فاعل کی طرف احتیاج سے مانع نہیں نیز فاعل کا مفعول بننے کے بھی منافی نہیں اور مسبوق بالعدم ہونے کے بھی منافی نہیں یعنی پہلے معدوم تھا پھر موجود ہوا ۔پس جب یہ وجوب اس امرسے مانع نہ ہو ا جو فاعل کی طرف اس کے احتیاج کو مستلزم ہے تو اس وجود کیساتھ ساتھ فاعل کی طرف اس کا احتیاج بھی ممتنع نہ ہوا ۔

۲) اس کا یہ کہنا کہ حدوث ان دو حالتوں کے تردد سے عبارت ہے تو اس سے کہا جائے گا کہ حدوث تو ان دو حالتوں کو متضمن ہے اور یہ اس بات کو متضمن ہے کہ وہ فاعل کی وجہ سے موجود ہواجس نے اس کو وجود دیا اور وہ اس کی طرف اس کی ذات کے بغیر محتاج ہے اور وہ معدوم ہونے کے بعد موجو دنہیں ہوتا پس حدوث اس معنی کو متضمن یا مستلزم ہے ۔

اور جب حدوث فاعل کی طرف حاجت کومتضمن یا اس کی حاجت کو مستلزم ہوا تو یہ کہنا ممکن ہی نہ رہا کہ وہ حاجت سے مانع ہے اس لئے کہ کوئی چیز اپنے لازم کیلئے مانع نہیں بنتی اور اس کے ضد کیلئے مانع بنتی ہے ۔

۳) اس کا یہ کہنا کہ واجب من حیث الذات یعنی من حیث ہو ہوواجب ہے اور مؤثر کی طرف اس کی استنادممتنع ہے ،یہ بات بھی ممنوع ہے بلکہ واجب بنفسہ وہی ذات ہے جس کا کسی مؤثر کی طرف استناد ممتنع ہے رہا واجب بغیرہ اس کا استناد ممتنع نہیں بلکہ یہ بذات خود اس کا واجب بغیرہ ہونا ہی مؤثر کی طرف اس کے استناد کو متضمن اور مستلزم ہے پس کیسے یہ کہا جائے کہ وجوب بالغیر غیر کی طرف استناد سے مانع ہے ۔ اگر یہ کہا جائے کہ میری مرادواجب من حیث ہو ہوہے یعنی قطع نظر واجب بنفسہ یا بغیرہ ہونے کے تو اس سے کہا جائے گا کہ خارج میں تو صرف یہی دو قسم کے واجب پائے جاتے ہیں بنفسہ اور بغیرہ اور اگر ان دونوں قیدوں سے مطلق کرکے مراد لیتا ہے تو یہ ایک ایسا معنی ہے جو ذہن میں تو فرض کرلیا جاتا ہے لیکن علانیہ اور خارج میں اس کوئی وجود نہیں تو حاصل یہ ہے کہ یہ کہا جائے گا کہ ہم اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ واجب کو مطلقا لیا جائے تو اس کا مؤثر کی طرف استناد ممتنع ہے بلکہ واجب اگر مطلقا بھی لے لیا جائے تو مؤثر کو مستلز م نہیں اور نہ اس کی نفی کرتا ہے کیونکہ یقیناً واجب میں وہ بھی ہے جو مؤثر کو مستلزم ہے جو کہ واجب بغیرہ ہے اور وہ بھی ہے جو مؤثر کی نفی کرتا ہے جو کہ واجب بنفسہ ہے لہٰذا یہ لون کی طرح ہوا کہ اگر اسے مطلقا اور مجرداً لیا جائے تو یہ سواد اور بیاض کی نہ تو نفی کرتا ہے اورنہ اثباتاسی طرح حیوان کو اگر نطق اور دم کی قید سے مطلقا اور مجردا لیا جائے تو یہ یہ نہ نطق کااثبات کرتا ہے اور نہ نفی اسی طرح ان تما م عام معانی کا ہے جو اجناس کے بمنزلہ ہیں جن کے تحت انواع ہیں اگر ان کو ان انواع سے قطع نظر کرکے لیا جائے تو وہ ان انواع کی نہ نفی کرتے ہیں اور نہ اثبات۔

۴) اس قائل کایہ کہنا کہ حدوث من حیث الذات احتیاج سے مانع ہے۔ تو یہ ایک ایسی بات ہے جس کا فساد بدیہی اور سرسری عقل سے معلوم ہے اور اس بات کے فساد پر علم ان لوگوں کے قول کے فساد پر علم سے زیادہ واضح ہے جو یہ کہتے ہیں انسان من حیث الذات مؤثر کی طرف سے حاجت سے مانع ہے اس لئے کہ لوگوں کا اس بات پر علم کہ حادث کے وجود میں آنے کیلئے محدث اور موجدکا ہونا ضرروی ہے ،وہ اس بات پر علم سے زیادہ واضح اور اظہر ہے کہ وجود اور عدم سے پہلے حادث کیلئے ان دوجہتین میں سے کسی ایک کا مرجح ہونا ضروری ہے پس جب اس بات کی نفی کرنے والی حجت سوفسطائیہ ہوئی تو وہ بطریقہ اولی سوفسطائیہ ہوگی یعنی جب پہلی بات کی نفی کرنے والی حجت سوفسطائی دلیل کہلائے گی تو دوسری بات اس سے زیادہ بدیہی اور لوگو ں کے علم میں زیادہ اظہر اور واضح ہے تو وہ بطریقہ اولی سوفسطائی[دھوکہ بازی ] حجت ہوگی۔

۵) یہ حجت اس بات پر مبنی ہے کہ خارج میں کوئی ایسی ماہیت پائی جاتی ہے جو اس وجود کے غیر ہے جو خارج میں حاصل ہے اور یہ کہ اس کے اوپر وجود اور عدم متعاقبا طاری ہوتے ہیں اور یہ بات بالکل ممنوع اور باطل ہے ۔

صفحہ 16 از 23