فلاسفہ کا عقیدہ : فعل کا عدم کے بعد وجود میں آنا - ردِ…

فلاسفہ کا عقیدہ : فعل کا عدم کے بعد وجود میں آنا

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 17 از 23

۶) اگر اس بات کو تسلیم کرلیا جائے کہ ماہیت اپنی ذات کے اعتبار سے نہ وجود کی مستحق ہے اور نہ عدم کے اور نہ کسی فاعل کی طرف محتاج ہے اس لئے کہ یقیناً کوئی شخص یہ کہتا ہے تو وہ یہ کہے گا کہ ماہیات کو وجود نہیں دیا گیا اور یہ کہ جس چیز کو وجو دیا گیا وہ تو اس کا وجود کیساتھ اتصاف ہے اور وہ فاعل کی طرف محتاج ہوتی ہے کہ جب وہ موجود ہوتی ہیں پس جب وہ موجود قرار پائیں تو ان کا وجود واجب ہوا پس معلوم ہوا کہ اس کا فاعل کی طرف احتیاج اس کے غیر کے ذریعے وجود کے وجوب کی حالت میں ہے نہ کہ اس حال میں کہ جس میں وہ نہ وجود کے مستحق ہیں اور نہ عدم کے۔

۷) اگر اس بات کو تسلیم کیا جائے کہ ماہیت خارج میں ثابت ہے اور وہ اپنے ذات کے اعتبار سے مؤثر کی طرف محتاج ہے تو ا سمیں کوئی ایسی بات نہیں جو اس کے ازلی ہونے کے وجوب پر دلالت کرے بلکہ اس کے امکان پر بھی اور جب اس میں کوئی ایسا امر نہیں جو اس بات پر دلالت کرے تو یہ ممتنع نہ ہوا کہ افتقار اور احتیاج اس کیلئے صرف اور صرف حالت حدوث میں ثابت ہو اور یہ کہ حدوث اس افتقار کی حالت میں اس کیلئے شرط ہے ۔

۸) جب یہ ہم نے بات تسلیم کرلی کہ فاعل کی طرف احتیاج کی حالت ہی امکان ہے تو وہ امکان کہ جس کو جمہور عقلاء سمجھتے ہیں وہ اس بات کا امکان ہوتا ہے کہ کوئی چیز موجود ہوجائے اور اس کا کہ وہ معدوم بھی ہوجائے اور یہ امکان تو حدوث کیساتھ لازم ہے پس کسی چیز کے امکان کے بارے میں یہ بات معقول نہیں کہ وہ قدیم اور ازلی بنے اور واجب لغیرہ بنے اور وہ اس کے باوجود فاعل کی طرف محتاج بھی ہو اور یہ وہی بات ہے ہے کہ جس کا یہ دعوی کرتے ہیں ۔

۹) انہوں نے جب واجب الوجود لغیرہ کاغیر کی طرف استناد ممنوع قرار دیا تو واجب الوجوب لذاتہ کا تو بطریقہ اولی غیر کی طرف استناد ممنوع ہوگا اور افلاک تو ان کے نزدیک واجب الوجود ازلا وابدا ہیں اور ان کا وجوب غیر کی وجہ سے ہے پس جب یہ ماہیت کو لازم ہے اور غیر کی طرف احتیاج سے مانع ہے تو پس وہ ماہیت کیلئے لازم ٹھہرے گی اور احتیاج سے مانع قرار پائے گی پس ماہیت قدیمہ غیر کی طرف افتقار سے ممنوع ہوگی پس لازم آیا کہ وہ غیر کی طرف ابدا ً محتاج نہ ہو اور یہی وہ بات ہے کہ جس کے جمہور عقلا ء قائل ہیں اور جو ذات قدیم ہو تو اس کے بارے میں یہ بات ممتنع ہے کہ وہ مفعول بنے ۔

۱۰) اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ امکان ہی تو غیر کی طرف محتاج بنانے والا ہے جو کہ مؤثر ہے تو پس تاثیر تو کسی چیز کو موجود بنادینا ہے اور اس کے وجود کو ازسر نو پیدا کرنا ہے اور ایسی چیز کو وجود دیناہے جس کا عدم ممکن ہو تو یہ بات تو معقول نہیں ہے مگر ایک ایسے وجود کے احداث کیساتھ جو عدم کے بعد ہو ورنہ تو جس چیز کاوجود واجب ازلی اس کا عدم تو ممتنع ہے تو اس کا ایک ایسی ذات کی طرف حاجت معقول نہیں جو اس کو موجود بنادے جبکہ انہو نے یہ کہا کہ وہ ازلاً وابداً واجب الوجود ہے تو پھر اس کا عدم ممتنع ہوا پھر اس کے باوجود انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس کا غیر بھی وہ ہے جس نے اس کو وجود دیا ہے اور اس کو موجود بنایا ہے اور یہ کہ یقینااس کا وجود اور عدم دونوں ممکن ہے پس تحقیق انہوں نے اپنے کلام میں نقیضین کو جمع کیا جو کہ اس تناقض بڑھ کر ہے جو وہ غیر کے اوپر بطور تنقید ذکر کرتے ہیں ۔ ۱۱) اگر محض امکان ہی فاعل کی طر ف احتیاج کو مستلزم ہوتا تو پھر ہر ممکن ہوتا جیسے کہ ہم نے یہ کہا جب ہم یہ کہتے ہیں کہ حدوث ہی تو مؤثرکی طرف محتاج بنانے والا ہے تو پھر ہر محدث موجود ہوگا اس لئے کہ فاعل کی طرف احتیاج تو اس وقت پیش آتی ہے جب فاعل اس کو کرتا ہے ورنہ تو فاعل کا اسے نہ کرنے کی تقدیر اور فرض کرلینے کی صورت تو اس کی طرف کوئی حاجت ہی نہیں اور جب فاعل اس کو کرلیتا ہے تو پھر اس کو وجود لازم ہوجاتا ہے پس ہر ممکن کا وجود لازم ہے اور یہ بات تو بدیہی عقل کی رو سے معلوم الفساد ہے اگر یہ کہا جائے کہ مراد یہ ہے کہ ممکن موجود نہیں ہوتا مگر فاعل کے ذریعے تو جواب میں کہا جائے گا امکان وجودکیساتھ حاجت الی الفاعل کو مستلزم ہے اور ایسی صورت میں تو یہ اس بات کے بیان کی طرف محتاج ہے کہ یہ کہیں کہ ممکن وجود کا ازلی ہونا بھی ممکن ہے اور یہ کہ فاعل کے حق میں یہ ممکن ہے کہ اس کا مفعول معین ازلی بنے (یعنی کوئی خاص مفعول ازلی بنے )اور جب اس بات کو تم ثابت کرتے ہو تو تم پھر اس بات کی طرف محتاج نہیں جو تم نے ماقبل میں ذکر کی ہے اس لئے کہ فا عل کی طر ف کسی ممکن کی حاجت صرف اور صرف وجود کی حالت میں ہوتی ہے پس یہ بات معلوم ہوئی کہ محض امکان کے ذریعے استدلال باطل ہوا ۔

دسویں دلیل اور اس پر در:

امام رازی رحمہ اللہ نے فرمایا :دسویں دلیل: ’’ احتیاج کی جانب کے بارے میں یہ بات ضروری ہے کہ وہ مؤثر کے ہوتے ہوئے باقی نہ رہے جس طرح کہ بغیر مؤثر کے (باقی نہیں رہتا )ورنہ تو ایک مؤثر کے ہوتے ہوئے دوسرے مؤثر کی طرف حاجت باقی رہے گی پس اگر ہم نے ایک مؤثر کے ساتھ حدوث کو اس حدوث کی طرح ٹھہرا دیا جو بغیر مؤثر کے ہو کیونکہ حدوث تو وجود بعد العدم سے عبارت ہے خواہ وہ فاعل کے سبب ہو یا بغیر کسی فاعل کے پس وہ وجود بعد العدم ہی ہے خواہ اسے حالت حدوث میں لیا جائے یا حالت بقا ء میں لیا جائے وہ ان دونو ں حالتوں میں وجود بعد العدم ہے پس ایسی صورتحال میں وہ مؤثر کے ساتھ اسی طرح ہے جیسے کہ بغیر مؤثر کے لہٰذا لازم آیا وہی محال جس کا ذکر پہلے کردیا گیا رہ ایہ کہ اگر ہم امکان کو احتیاج کی جہت قرا ر دیں تو وہ مؤثر کیساتھ باقی نہیں رہتا جس طرح کہ عدم مؤثر کی حالت میں تھا اس لئے کہ کوئی ماہیت مؤثر کیساتھ ممکن باقی نہیں رہتی لامحالہ پس معلوم ہوا کہ حدوث احتیاج کی جہت بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا پس کہا جائے گا کہ یہ بھی اسی بات کی جنس میں سے ہے جو پہلے گذر گئی اور اس سے جواب کئی وجوہ پر ہے:

صفحہ 17 از 23