فلاسفہ کا عقیدہ : فعل کا عدم کے بعد وجود میں آنا - ردِ…

فلاسفہ کا عقیدہ : فعل کا عدم کے بعد وجود میں آنا

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 18 از 23

۱) ماہیت کا مؤثر کیساتھ ممکن نہ رہنا ایک ایسا وصف ہے جو اس کیلئے حدوث کیساتھ بھی ثابت ہے بلکہ اس کا تو صرف اور صرف علم ہی حدوث کیساتھ ہوتا ہے کیونکہ وہ ممکن جس کے بارے یہ بات معلوم ہے کہ وہ فاعل کی وجہ سے بنتا ہے ایسا فاعل جو کہ محدث ہے رہا قدیم ازلی تو وہ محل نزاع ہے۔

جمہور عقلاء تو یہ کہتے ہیں کہ ہم بدیہی عقل کے ذریعے اس بات کو جانتے ہیں کہ اس کیلئے کوئی فاعل نہیں ہوتا اور اس تقدیر پر کہ مثلا نظری ہے تو نزاع کرنے والے اور اختلاف کرنے والے تو اس پر کوئی دلیل قائم نہیں کی اس لئے کہ کوئی ایسی دلیل نہیں پائی جاتی جو عالم میں سے کسی خاص چیز کے قدم پر دلالت کرتی ہو اور صحیح دلائل کی انتہاء اسی پر ہے کہ وہ فاعلیت کے دوام پردلالت کرتے ہیں ۔ اور وہ کسی شے کو دوسری شے کے بعد پیدا کرنے اور اس کے احداث سے حاصل ہوتا ہے۔ اور بہر حال اس میں کوئی شک نہیں کہ ممکنِ حادث اپنے فاعل کی وجہ سے واجب ہے۔

جب صورتحال یہ ہے تو جائے گا کہ عدم کے بعد حدوثِ جب کسی فاعل کے سبب ہو تو وہ محدَث کے وجود کا تقاضہ کرتا ہے ۔رہی وہ صورت کہ وہ (عدم کے بعد حدوث )فاعل کی وجہ سے نہ تو پھر تو حدوثِ متمنع ہوا لہٰذا عدم بعد حدوث جوکسی مؤثر کے ساتھ ہو یہ اس طرح کا حدوث نہ ہوا جو بغیر مؤثر کے ہو اس لیے کہ وہ اس حال میں واجب ہے اور اس دوسرے حال میں متمنع ہے جس طرح کہ ممکن کسی مؤثر کے ساتھ واجب ہے اور کسی مؤثر کے بغیر ممتنع ہو جاتا ہے اور جب یہ مؤثر کے ساتھ واجب ہے باوجود اس کے حادث ہونے کے تو وہ محتاج نہیں کسی دوسرے مؤثر کی طرف ۔

دوسرا جواب یہ ہے کہ کہا جائے کہ کوئی ماہیت کسی مؤثر کے ساتھ ممکن باقی نہیں رہتی کسی حال میں ،اگر اس سے اس کی مراد یہ ہے کہ وہ مؤثر کی طرف محتاج نہیں یا یہ کہ اس کے احتیاج کی علت باقی نہیں رہتی جو کہ امکان ہے تو یہ کلام بھی باطل ہے اور یہ اُس بات کے خلاف ہے جس کو یہ ہمیشہ کہتے ہیں کہ اگر اس سے اس کی مراد یہ ہے کہ وہ ممکنۃ العدم باقی نہیں رہتی باوجود اس کے کہ اس کا وجود غیر کے بسبب ہے تو یہ اس بات کے مخالف اور مناقض ہے جو وہ یہ کہتے ہیں کہ اپنے ذات کے اعتبار سے اس کا وجود اور عدم دونوں ممکن ہیں ساتھ اس کے کہ وہ واجب بالغیر ہے اور اس صورت میں ان کا یہ قول باطل ہوا کہ قدیمِ ازلی ممکن ہوتا ہے لہٰذا قدیم اول میں کوئی شے بھی ممکن نہ رہا اور یہ نقیض کے انعکاس کے ساتھ منعکس ہے ۔لہٰذا اس ممکن میں سے کوئی شے بھی قدیمِ ازلی نہ ہوا ،اس بحث سے یہ ثابت ہو اکہ ہر ممکن نہیں موجود جاتا مگر اس کے عدم کے بعد اور یہی تو مطلوب ہے ۔

جب یہ مذہب باطل ہوا تو اس کے سبب ِ ادلہ بھی باطل ہو گئے اس لیے کہ کوئی قول اپنے ادلہ کی وجہ سے لازم ہو جاتا ہے پس جب لازم متنفی ہوا تو اس کے تمام ملزومات بھی متنفی ہو گئے ۔

تیسرا جواب یہ ہے کہ احتیاج کی جہت کے لے ضروری ہے کہ وہ مؤثر کے ساتھ اس طرح باقی نہ رہے جس طرح کے عدمِ مؤثر کی حالت میں تھا ۔آیا اس سے تمہاری مرادیہ ہے کہ مؤثر کی طرف عدم احتیاج عدمِ مؤثر کے ساتھ نہیں ہوتا جس طرح کہ مؤثر کے ساتھ تھا یا تمہاری مرادیہ ہے کہ اس کی احتیاج کی علت یا احتیاج کی شرط یا اس کے احتیاج کی دلیل ان دونوں حالتوں میں مختلف ہوتی ہے ۔

اگر تمہاری مراد پہلی بات ہے تو یہ تو صحیح ہے اس لیے کہ عدم کے بعد جو شی حادث ہو وہ مؤثر کے ساتھ اُس طرح نہیں ہوتا جس طرح کہ عدمِ مؤثرکی حالت میں تھا اس لیے کہ وہ اپنے مؤثر کے ساتھ معدوم ہوتا ہے بلکہ واجب العدم ہوتا ہے اور اس کے وجود کے ساتھ موجود ہوتا ہے بلکہ واجب الوجود ہوتا ہے ۔

اس کا یہ کہنا کہ حدوث تو واجب العدم ہی ہوتاہے خواہ وہ وجودِ فاعل کے سبب ہو یا بغیر فاعل کے تو یہ ایک ایسی صورت کو فرض کرنا ہے جو متمنع ہے اس لیے کہ بغیر فاعل کے یہ ہونا ممتنع ہے پس عدم کے بعد حدوث بغیر فاعل کے نہ رہا تاکہ اس کو اس حال میں اور اس کے حالتِ عدم کو برابر کیا جائے بلکہ یہ تو اس بات کے مثل ہے کہ یہ کہا جائے کہ اس کے وجود کا رجحان عدم پر ہر حال میں برابر ہے خواہ وہ فاعل کے سبب ہو یا بغیر فاعل کے ہو ۔

اگر تم نے اس سے یہ مراد لیا ہے کہ جو شے ایک حال میں علت یا دلیل یا شرط بنے تو وہ دوسرے حالت میں اُس حیثیت پر نہیں ہوتا یعنی علت ، دلیل یا شرط نہیں بنتا تو یہ بات بھی باطل ہے اس لیے کہ کسی اثر کا مؤثر کی طرف احتیاج کی علت خواہ اس کا امکان ہو یا حدوث ہو یا ان دونوں کا مجموعہ ہو تو وہ اسی طرح ہی ہے مطلقاً اس لیے کہ یہ بات معلوم ہے کہ کوئی حادث شے حادث نہیں ٹھہرتا مگر کسی فاعل کے سبب خواہ وہ حادث ہو یا نہ ہو۔

ممکن کے وجود کو تو ترجیح حاصل نہیں ہوتی مگر کسی مرجح کے ذریعے خواہ وہ ترجیح اسے (بالفعل )حاصل ہو یا نہ ہو لیکن اس احتیاج کو تو حالت ِ وجود میں ثابت کہا جاتا ہے اور جب تک وہ معدوم رہے تواس کے لیے کوئی فاعل نہیں ہوتا ۔

تمہار ایہ کہنا کہ ’’ورنہ ایک مؤثر کے ہوتے ہوئے دوسرے مؤثر کی طرف حاجت باقی رہے گی ‘‘یہ قول ایک ایسے معنی پر دلالت کرتا ہے جو مسلم نہ کہ ممنوع اس لیے کہ یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اثر کا وجود مؤثر ہی کے ذریعے حاصل ہوتا ہے اور وہ مؤثر کے ہوتے ہوئے کسی دوسری شی کی طرف محتاج نہیں ہوتا تو یہ اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ مؤثر کے ہوتے ہوئے اسکے حاجت کی علت یا اس کی دلیل یا اس کی شرط وہ حدوث یا امکان یا دونوں کا مجموعہ نہیں بنتی بلکہ یہ معنی تو اس کے حالتِ وجود میں ثابت ہے یہ اس حالت سے زیادہ اظہر ہے جو حالتِ عدم میں ہے اس لیے کہ وہ اس کی طرف حالت ِ وجود میں محتاج ہے نہ کہ حالتِ عدم میں ۔

صفحہ 18 از 23