فلاسفہ کا عقیدہ : فعل کا عدم کے بعد وجود میں آنا - ردِ…

فلاسفہ کا عقیدہ : فعل کا عدم کے بعد وجود میں آنا

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 19 از 23

اس صورت میں اگر ہم کہیں کہ یہ مؤثر کی طرف محتاج ہے بوجہ اس کے حادث بعدالعدم ہونے کے اور یہ وصف حالتِ وجود میں ثابت ہے تو ہم نے اس کے لیے حاجت کی علت کو ثابت کر دیا اس کے وجود کے وقت اور علت بھی موجود اور حاصل ہے اور جب ہم یہ کہیں کہ علت تو امکان ہی ہے اور ہم دعویٰ کریں اس کے وجود کی حالت میں اسکے انتفاء کا تو تحقیقا ہم نے اس کے مؤثر کی طرف احتیاج کو اس کے وجود کے وقت کے بعد علت متنفیہ (علت معدومہ )کے ساتھ معلل کر دیا اس کے وجود کے وقت میں اور یہ تو اُس بات پر دلالت کرتا ہے جو اس نے ذکر کی ہے اور یہ توان کے خلاف حجت ہے نہ کہ ان کے حق میں اور یہ بات اس شخص کے لیے واضح ہے جو اس میں تھوڑا غور اور تدبر کرے ۔

یہ امر اور اس کے علاوہ دوسرے امور اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ اس گمراہ قوم نے اللہ تعالیٰ کی اس فطرت کو تبدیل کر دیا جس پر اس نے اپنے بندوں کو پیدا فرمایا تھا پس یہ صریح معقول اور صحیح منقول سے نکل گئے ہیں اور اُس الحاد میں پڑگئے جو بہت بڑا کفر اور عناد ہے اور ان کے اقوال میں وہ تناقض اور فساد داخل ہوا جس کا علم صرف اور صرف رب العالمین کو ہے باوجود اس کے وہ کہ اس بات کا دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ ہم عقلی دلائل اور معارفِ حکمیہ رکھتے ہیں اور یہ کہ حقیقی علوم تو اُس کلام میں مضمر ہیں جو ہم کہتے ہیں ،ان تعلیمات میں نہیں جو اللہ اور اس کے رسول لے کر آئے ہیں جو حقیقتاً تمام عالم میں اعلیٰ ،افضل اور اعلم ہیں اور یہ ملحدین گمراہ کن کلام کے ذریعے نقلی دلائل اور معقولات کا مقابلہ کرتے ہیں اس لیے کہ یہ بات واضح ہے کہ ُاس خالق کی طرف محتاج مخلوق حالت ِ وجود میں اس کی طرف محتاج ہے ۔

رہی یہ بات کہ اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ وہ عدم پر باقی ہے تو اس حال میں اس کا عدم اس کے وجود کے لئے کسی خالق کی طرف محتاج نہیں ہوتا بلکہ اس کے عدم کا کوئی فاعل ہی نہیں ہوتا ،اگرچہ ان لوگوں نے یہ کہا کہ اس کا عدم کسی مرجح کی طرف محتاج ہے پس اس کے نزدیک مرجح عدمِ علت ہے اور تمام کے تمام ہی عدم ہیں ۔انہوں نے یہ نہیں کہا کہ عدم کسی موجود کی طرف محتاج ہے اگرچہ یہ ایک بین اور واضح بات ہے پس احتیاج کے جہت کے بارے میں ان کا یہ کہنا ’’کہ یہ بات ضروری ہے کہ وہ مؤثر کے ہوتے ہوئے اس طرح باقی نہ رہے جس طرح کہ مؤثر کی غیر موجودگی میں تھا ‘‘ایک ایسا کلام ہے جس میں تلبیس اور خلط ملط پایا جاتا ہے اس لیے کہ احتیاج تو اُس حال میں ہوتا ہے جس میں مؤثر تاثیر کررہا ہو پس مؤثر کی طرف احتیاج اس حال میں کیسے ختم ہو جائے گی جس میں وہ مؤثر کی طرف محتاج ہے اور کیسے وہ کسی مؤثر کی طرف محتاج ہو گا جبکہ وہ اس حال میں اثر ہی نہیں کرتا اور وہ معدوم ہے وہ تو اصلاً کسی مؤثر کی طرف محتاج ہی نہیں اور وہ احتیاج ہی کی حالت میں محتاج نہیں بنتا ؟

اگر وہ یہ کہے کہ ان کا وجود عدم کی حالت میں ممکن نہیں مگر کسی مؤثر کے ذریعے تو ہم یہ کہیں گے کہ یہ اس کلام کا بعض ہے جو ہم نے ذکر کر دیا اس لیے کہ ان کا مؤثر کے بغیر موجود نہ ہونا ایک امر لازم ہے اور یہ نہیں کہا جائے گا کہ یہ تو اس کے لیے حالتِ عدم میں ثابت ہے ،حالتِ وجود میں نہیں اور جب یہ بات واضح ہوگئی کہ فعل مفعول کے حدوث کومستلزم ہے اور یہ بات بھی کہ فاعل کا کسی فعل کا ارادہ کرنا مراد کے حدوث کو مستلزم ہے تو یہ اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ ہر مفعول اور ہر وہ چیز جس کے فعل کا ارادہ کیا جائے وہ حادث ہی ہوتا ہے بعد اس کے کہ وہ موجود نہیں تھا اور اس کے ذریعے یہ بات بھی معلوم ہو گئی کہ یہ امرممتنع ہے کہ وہاں پر ممکنات میں سے کسی شے کو وجود دینے کاایک ایسا ارادہ ازلیہ موجودہو جس کے ساتھ اس کی مراد مقارن ہو ازلا اور ابداً۔ خواہ ان تمام افعال کو وہ عام ہو جو ان سے صادر ہوں یا بعض مفعولات کے ساتھ خاص ہو ۔

اس(ارادے ) کا تمام مفعولات کو عام ہونے کا امتناع تو ظاہر ہے اور عقلاء کے درمیان متفق علیہ ہے اس لیے کہ یہ اس بات کو مستلزم ہے کہ ہر وہ فعل جو اس سے صادر ہو بالواسطہ یا بلا واسطہ ،قدیمِ ازلی ہو پس یہ بات لازم آئے گی کہ عالم میں کوئی بھی شے حادث نہ ہو اور یہ تواس مشاہدے کے خلاف ہو جو مخلوق کرتی ہے یعنی تمام آسمانوں اور زمینوں کا حدوث ،ان کے درمیان مخلوقات کا حدوث ،اس طرح اجسام اور اعراض کی حرکات جیسے شمس و قمر کی حرکت اور اسی طرح ستاروں ،ہواؤں ،بادل اور بارش کی حرکت اور اس طرح جو پیدا ہوتا ہے مخلوقات میں سے نباتات ،حیوانات اور زمین کے اندر موجود معادن ۔

رہا کسی متعین کا ارادہ کرنا تو اس میں وہی کلام ہے جو ماقبل میں گزرا اور اس صورت میں یا تو یہ کہا جائے گا کہ اس ذات کے لیے صرف اور صرف وہی ایک ارادہ ازلیہ ثابت ہے یا یہ کہا جائے گا کہ اس ذات کے لیے ایک ایسا ارادہ ثابت ہے جوشیئا فشیئا وجود میں آتا ہے ۔

اگر پہلا معنی مرادلیا جائے تو اس تقدیر پرلازم آئیگا کہ ایک مریدِ ازلی ذات ازل میں اپنے مرادِ ازلی کے ساتھ مقارن ہے پس وہ حوادث سے کسی بھی شی کا کسی حال میں ارادہ بھی نہیں کریں گے نہ ارادہ قدیمہ نہ ارادہ متجددہ (یعنی دھیرے دھیرے وجود میں آنے والا)اس لیے کہ اگر یہ بات فرض کر لی جائے کہ ارادہ کرنے والی ازلی ذات کی مراد اس کے ارادے کیساتھ مقارن ہوتی ہے تو یہ حادث بھی حادث ہی ہوگا۔

اس کا حدوث دو حال سے خالی نہیں ہوگا یا تو ارادہ ازلیہ کے ساتھ ہوگا پس ارادہ کرنے والی ذات اپنے مراد کے ساتھ مقارن نہیں ہوگی یا حادث ہوگا کسی ایسے ارادے کے ساتھ کہ وہ بھی حادث ہو اور اس کے ساتھ مقارن ہو اوریہ تو دو وجہ سے باطل ہے :

ایک تو اس لئے کہ یہ بات تو پہلے سے فرض کی جا چکی ہے کہ اس ذات کے لیے صر ف اور صرف ایک ہی ارادہ ازلیہ ہے اور دوسرے یہ کہ اس ارادے کا حدوث کسی سببِ حادث کی طرف محتاج ہو۔اور اس سببِ حاد ث میں کلام اسی طرح ہے جو اس کے غیر میں ہے اوریہ بات ممتنع ہے کہ وہ ارادہ ازلیہ کے ذریعے حادث ہو جائے جوکہ مستلزم ہے اپنے مراد کی مقارنت اور اتصال کو اور یہ بات بھی ممتنع ہے کہ وہ بغیر کسی ارادے کے حادث ہو جائے بوجہ اس کے کہ حادث کا پیدا ہونا بغیر ارادے کے ممتنع ہے۔

صفحہ 19 از 23