فلاسفہ کا عقیدہ : فعل کا عدم کے بعد وجود میں آنا - ردِ…

فلاسفہ کا عقیدہ : فعل کا عدم کے بعد وجود میں آنا

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 20 از 23

پس اس تقدیر پریہ بات واجب ہے کہ حادثِ معین کا ارادہ مشروط ہو اس کے ارادے کے ساتھ اور اس حادث کے ارادے کے ساتھ جو اس سے پہلے ہے اور یہ بھی واجب ہے کہ فاعل مبدِع ازل سے ان تمام اشیاء کا ارادہ کرنے والا ہے جو حوادث میں سے وجود میں آنے والی ہیں ۔

یہی وہ تقدیر ثانی ہے یعنی کہ وہ اس بات کا ارادہ کرے کہ ایک شے کو دوسری شے کے بعد موجود کرے تو اس کا مراد حادث ہوگا بعد اس کے کہ وہ معدوم تھا اور وہ ذات اکیلے منفرد ہے صفت قدم اور ازلیت کے ساتھ اور اس کے ماسوا جتنے بھی مخلوق ہیں وہ سب حادث ہیں اور عدم کے بعد وجود میں آنے والے ہیں اور اس تقدیر پر توصرف اور صرف حوادث کا دوام اور تسلسل ثابت ہوگا اور یہ وہی تقدیر ہے جس پر ہم نے پہلے کلام کیا ہے اور اس سے یہ بات لازم آتی ہے کہ فاعل کے ذات کے ساتھ وہ شے قائم ہو جس کا وہ ارادہ کرتا ہے ااور اس پر وہ قادر ہے اور یہی آئمہ محدثین کا قول ہے اور اہل کلام اور فلاسفہ میں سے بہت سے لوگوں لوگوں کا قول ہے اور متقدمین و متاخرین میں سے ان کے کبار کا قول ہے۔

پس یہ بات واضح ہو گئی کہ اللہ تعالیٰ کے ماسوا تمام کے تمام مخلوقات کے حدوث کا قول واجب اور ضروری ہے خواہ ان کو جسم کہا جائے یاعقل کہا جائے یا نفس کہا جائے (یا کوئی اور تعبیر اختیار کی جائے )اور یہ بات ممتنع ہے کہ ان میں سے کوئی شے قدیم بنے خواہ حوادث کے دوام کے ممکن ہونے اور ان میں تسلسل کا قول اختیار کیا جائے یا یہ کہ ان کے لیے کوئی اول نہیں یااس کے امتناع کا قول اختیار کیا جائے اور خواہ یہ کہا جائے کہ حادث کے لیے سببِ حادث کا ہونا ضروری ہے یا یہ کہ یہ امرممتنع ہے اور یہ کہ عالم کے قدم کے قائلین جیسے کہ افلاک اور عقول اور نفوس ہیں ،اس صریح عقل کی وجہ سے اس کا یہ قول باطل ہے جس نے کبھی کسی بھی تقدیر پرجھوٹ نہیں بولا اور یہی تو مطلوب ہے۔

استطراد :

اللہ تعالیٰ کے افعال اور اس کے کلام کے حدوث اور قدم کے بارے میں مختلف فکر کی جماعتوں کے آئمہ کے درمیان اختلاف واقع ہوا ہے اور اس سے متعلق تفصیلی کلام کو یہاں اس مقام کے علاوہ ایک اور مقام پر ذکر کیا گیا ہے اس لیے کہ یہ اصل یہ وہی اصل ہے جس میں فلسفہ ،کلام اور حدیث کے آئمہ کے درمیان تصادم اور ٹکراو واقع ہوا اور وہ اللہ کے افعال ،کلام کے قدم اور حدوث کے بارے میں کلام ہے اور اس کے ذیل میں عالم کے حدوث کے بارے میں کلام اور اللہ کے کلام اور اس کے افعال کے بارے میں کلام بھی داخل ہوتا ہے اور ان دونوں امور کے بارے میں کلام کرنا عقلوں کے حیرت کا مقام ہے پس فلاسفہ جو کہ عالم کے قدیم ہونے کے قائل ہیں وہ اُس حق موقف سے انتہائی دور ہیں جس کو اللہ تعالیٰ کے رسول لے کے آئے جو کہ صریح معقول اور صحیح منقول کے موافق ہے لیکن انھوں نے اُن اہل کلام کوان کے قول کے لوازم سے الزام دیاجنہوں نے اللہ تعالیٰ کی ذات کیساتھ اس کے افعال اورصفات کے قیام کی نفی میں ان کی موافقت کی ہے پس اس کے ذریعے اہل کلام کا تناقض ظاہر ہوا جس کے سبب ان کے اوپر ان ملحدین نے زبان درازی کی اور اس کی وجہ سے علمائے مسلمین نے ان کی مذمت کی سلف میں سے اور آئمہ اور ان کے اتباع میں سے اور ان کا کلام ایسا تھا جس کی وجہ سے ان کی مذمت کی سلف نے کیوں کہ اس کے اندر خطا اور وہ گمراہی تھی جس کے ذریعے انہوں نے حق کی مخالفت کی اپنے مسائل اور دلائل میں پس وہ تزبزب کا شکار رہے اور ان کے کلا م میں تناقض رہا اور انہوں نے اس چیز کی تصدیق نہیں کی جس کو اللہ کے رسول اس کے صحیح طریقے پرلے کر آئے ہیں اور نہ وہ ملتِ اسلام کے دشمنوں پر اس حق صریح کے ساتھ غالب آئے جو معقول کے موافق ہے اوراس کا سبب یہ ہوا کہ انہوں نے تعلیمات کو بنظر غور نہیں دیکھا جن کی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے اور اس کا علم حاصل نہیں کیا اور اس پر ایمان نہیں لایا اور نہ وہ عقلِ سلیم کے تقاضوں پر چلے پس وہ نقلی اور عقلی دلائل کی وجہ سے اپنے علم میں نقصان کا شکار رہے اگرچہ ان کو ان دونوں سے بہت بڑا حصہ حاصل ہوا پس وہ اپنے بعض اقوال میں ان کفار کے ساتھ موافق ہوئے؛[فرمان الٰہی ہے]

﴿ وَقَالُوا لَوْ کُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا کُنَّا فِیْ أَصْحَابِ السَّعِیْر﴾[الملک: ۱۰)

’’وہ بولے: اگر ہم سن لیتے ؛ یا سمجھ لیتے تو ہم ہر گز جہنمی نہ ہوتے ‘ۃ۔

انہوں نے اللہ کی صفات اور اس کے افعال میں ایسی تفصیلات بیان کیں جو شریعت کے مخالف اور بدعت تھے اور ہر بدعت ضلالت اور گمراہی ہے اور ہر گمراہی عقل کے بھی مخالف ہے جس طرح کہ وہ شرح کے خلاف ہے اور وہ بات جس پر ہم نے یہاں تنبیہ بیان کی ہے ،اس کے ذریعے عقل صریح کا اس چیز پر دلالت کرنا معلوم ہو جاتا ہے جس کو اللہ کے رسول لے کر آئے اور اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ مسلمانوں کی بہت سے جماعتیں اس کے دلائل اور مسائل میں بہت زیادہ خطا میں پڑ گئے ہیں پس یہ ممکن نہیں کہ اس کے قول کی مطلقاً حمایت کی جائے بلکہ واجب یہ ہے کہ صرف اور صرف حق کی بات کی جائے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿أَلَمْ یُؤْخَذْ عَلَیْْہِم مِّیْثَاقُ الْکِتَابِ أَن لاَّ یِقُولُواْ عَلَی اللّہِ إِلاَّ الْحَقَّ ﴾ (اعراف ۱۶۹)

’’ کیا ان پر کتاب کا عہد نہیں لیا گیا کہ اللہ پر حق کے سوا کچھ نہ کہیں گے‘‘؟

جب مقصود حق بات کی حمایت ہے تو ایسی حق بات جس پر سب اہل ملل متفق ہیں یا اس باطل کا رد ہے جس کے باطل ہونے پر سب متفق ہیں تو اس کی حمایت ایسے طریقے سے کی جائے گی جو اس (حق بات کی حمایت )کا فائدہ دے اگر اس کا دلیل وہ اہل قبلہ کی جماعتوں میں سے کسی جماعت کے طریقے پر منطبق نہ ہوتا ہو تو کیسے اس کا اثبات ایک ایسے طریقے پر ممکن ہے جو اس کے اور ایک دوسرے گروہ کے قول سے مرکب ہو اس لیے کہ اس 

گروہ کے حق میں یہ بات کہ وہ مسلمانوں کی جماعتوں میں کسی ایک جماعت کی موافقت کرے یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ دین اسلام ہی سے نکل جائے ۔

صفحہ 20 از 23