فلاسفہ کا عقیدہ : فعل کا عدم کے بعد وجود میں آنا - ردِ…

فلاسفہ کا عقیدہ : فعل کا عدم کے بعد وجود میں آنا

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 21 از 23

اسی طرح اس کے حق میں معقولِ صریح کی مخالفت کرنے سے یہ بہتر ہے کہ وہ معقول ہی سے بالکل نکل جائے اور جو قول شریعت میں فساد پر مشتمل ہو یعنی شرعی اعتبار سے فاسد ہو تو وہ عقلی اعتبار سے بھی فاسد ہوتا ہے۔

اس لیے کہ حق میں تناقض نہیں ہوتا اور رسولوں نے تو حق ہی کی خبر دی ہے اوراللہ نے اپنے بندوں کی حق کی معرفت اور حق کی پہچان پر تخلیق فرمائی ہے اور رسول فطرت کی تکمیل کے لیے بھیجے گئے ہیں نہ کی فطرت کو بدلنے کے لیے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿سَنُرِیْہِمْ آیَاتِنَا فِیْ الْآفَاقِ وَفِیْ أَنفُسِہِمْ حَتَّی یَتَبَیَّنَ لَہُمْ أَنَّہُ الْحَقُّ ﴾(فصلت : ۵۳ )

’’عنقریب ہم انھیں اپنی نشانیاں دنیا کے کناروں میں اور ان کے نفسوں میں دکھلائیں گے، یہاں تک کہ ان کے لیے واضح ہو جائے کہ یقیناً یہی حق ہے۔‘‘

یعنی وہ ان کو دکھائے گا وہ نشانیاں جو آفاق میں پائی جاتی ہیں اور وہ نشانیاں بھی جو ان کی اپنی نفوس میں پائی جاتی ہیں جویہ کو بیان کرتی ہیں کہ وہ قرآن جس کے ذریعے اس نے اپنے بندوں کو خبر دی ہے وہ حق ہے۔‘‘

پس قرآنی دلائل اور مشاہدے کے دلائل دونوں آپس میں مطابق اور موافق ہیں اور شریعت کا حکم جو منقول ہے اور اسی طرح وہ نظر اور غور و فکر جو معقول ہے یہ دونوں ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہیں نہ کہ تردید ،لیکن وہ اہل کلام جن کی سلف نے اور ائمہ نے مذمت کی ہے جوجہمیہ اور معتزلہ میں سے ہیں اور ان لوگوں میں سے جنہوں نے ان کی اتباع کی ہے یعنی وہ لوگ جو اہل سنت کی طرف منسوب ہیں اورمتاخرین میں سے ہیں انہوں نے اپنے دین کے اصول میں ایک نیا حکم اور دلیل نکالااور انہوں نے اہل ملل کے قول کو ایسی عبارت سے کیا جو کتاب و سنت میں مذکور نہیں اور انہوں نے اس پر ایسے طریقے سے استدلال کیا جس کا قرآن و سنت میں کوئی اصل اور بنیاد نہیں پس وہ قول جس کو انہوں نے اصل اور بنیادبنایا اور اس کو اہل ملل کی طرف منسوب کیا اور اس پر دی جانے والی دلیل دونوں شریعت میں بدعت ہیں ان میں سے کسی کے لیے بھی کتاب و سنت میں سے کوئی اصل اور بنیاد نہیں ملتی باوجود یکہ ان کے اتباع اور پیروکاریہ کہتے ہیں کہ یہی تو مسلمانوں کا اصل دین ہے پس وہ صریح معقول کی مخالفت میں بالکل اُسی طرح ہے جیسے کہ منقول کی مخالفت میں اور ملحد فلاسفہ نے انہوں نے ان کا مقابلہ کیا ہے جو کہ صحیح منقول اور صریح منقول کے بھی زیادہ شدید مخالف ہیں اور یہاں پر جو ہم نے بات ذکر کی ہے وہ ایسی بات ہے جس کے ذریعے اللہ کے ماسوا تمام عالم کا حدوث ظاہر ہوتا ہے اوراللہ کی قدم کے ساتھ عالم میں کسی بھی شے کے قدم کا امتناع معلوم ہوتا ہے ۔ تو یہ ہر تقدیر پرمطلوب کا فائدہ دیتی ہے اور اس کی مختلف عبارات کے ساتھ تعبیر ممکن ہے اور مختلف تراکیب کے ساتھ اس کی تالیف اور ترکیب ممکن ہے اس لیے کہ مادہ جب صحیح مادہ ہو تو اس کو مختلف شکلیں دینا ممکن ہوتا ہے بخلاف ان دلائل کے جو کسی مغالطہ پر مشتمل ہوتے ہیں جن کی کسی خاص طریقے سے خاص الفاظ کے ساتھ ترکیب کی گئی ہو پس جب اس اس کے الفاظ کی ترتیب کو تھوڑاتبدیلی کر دیا جائے اور ایک صورت سے دوسری صورت کی طرف منتقل کر دیا جائے تو تو فوراً اس کی خطا ظاہر ہو جاتی ہے پس پہلے کی مثال تومذہبِ صحیح کی ہے جب اسے ایک صورت سے دوسری صورت کی طرف منتقل کر دیا جاتا ہے تو اس کا جوہر اور مادہ متغیر نہیں ہوتا بلکہ یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ وہ سونا ہی ہے اور جس سونے میں ملاوٹ ہوتی ہے بے شک اسے جب ایک صورت سے دوسرے صورت کی طرف تبدیل کیا جاتا ہے تو یہ بات ظاہر ہو جاتی ہے کہ وہ مغشوش ہے یعنی اس میں ملاوٹ ہے ۔

یہ مذکور دلائل اللہ کے ماسوا تمام اشیاء کے حدوث پر دلالت کرتے ہیں اور اس پربھی کہ اللہ کے ماسوا تمام کے تمام اشیاء حادث ہیں اور وہ عدم کے بعد موجود ہوجاتے ہیں خواہ فعل کے نوع کے دوام کا قول اختیار کیا جائے جیسے ائمہ اہل حدیث اور ائمہ فلاسفہ اس کے قائل ہیں یا یہ قول اختیار نہ کیا جائے اور جس نے یہ قول اختیار نہیں کیا تو اس کے اور اہل ملل کے جماعتوں کے درمیان ایک نزاع اور خصومت ظاہر ہوتا ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو بچایا ہے جس نے اللہ کے ساتھ اس میں شرک کو ثابت نہیں کیا یا اس کے ہاں یہ ادلہ آپس میں مساوی ہیں اور وہ حیرت ،شک اور اضطراب کے انواع میں مختلف اقسام میں باقی رہتا ہے ،بتحقیق اللہ نے اس سے اس شخص کو عافیت عطا فرمائی ہے جس کو اللہ نے ہدایت دی ہواورسیدھی راہ دکھائی ہو اور اس کے لیے حق کو واضح کر دیا ہو اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ :

﴿کَانَ النَّاسُ أُمَّۃً وَاحِدَۃً فَبَعَثَ اللّہُ النَّبِیِّیْنَ مُبَشِّرِیْنَ وَمُنذِرِیْنَ وَأَنزَلَ مَعَہُمُ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ لِیَحْکُمَ بَیْْنَ النَّاسِ فِیْمَا اخْتَلَفُواْ فِیْہِ وَمَا اخْتَلَفَ فِیْہِ إِلاَّ الَّذِیْنَ أُوتُوہُ مِن بَعْدِ مَا جَاء تْہُمُ الْبَیِّنَاتُ بَغْیْاً بَیْْنَہُمْ فَہَدَی اللّہُ الَّذِیْنَ آمَنُواْ لِمَا اخْتَلَفُواْ فِیْہِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِہِ وَاللّہُ یَہْدِیْ مَن یَشَاء ُ إِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ﴾[بقرہ ۲۱۳ ]

’’لوگ ایک ہی امت تھے، پھر اللہ نے نبی بھیجے خوشخبری دینے اور ڈرانے والے، اور ان کے ہمراہ حق کے ساتھ کتاب اتاری، تاکہ وہ لوگوں کے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کرے جن میں انھوں نے اختلاف کیا تھا اور اس میں اختلاف انھی لوگوں نے کیا جنھیں وہ دی گئی تھی، اس کے بعد کہ ان کے پاس واضح دلیلیں آ چکیں ، آپس کی ضد کی وجہ سے، پھر جو لوگ ایمان لائے اللہ نے انھیں اپنے حکم سے حق میں سے اس بات کی ہدایت دی جس میں انھوں نے اختلاف کیا تھا اور اللہ جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے۔‘‘

صفحہ 21 از 23