فلاسفہ کا عقیدہ : فعل کا عدم کے بعد وجود میں آنا - ردِ…

فلاسفہ کا عقیدہ : فعل کا عدم کے بعد وجود میں آنا

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 23

کیا یہ ضروری کہ ہم یہ بات طے کریں کہ جوہر وہ نفس یا وہ عقل یا ان دونوں کے علاوہ کوئی غیر ہے بعد اس کے کہ ہم اس بات سے بچیں کہ ہم اس مبدأ اول پر اُن اَعراض میں سے کسی چیز کا حکم لگائیں جو اشیائے موجودہ کے اواخر کو لازم ہوتے ہیں لیکن اشیائے موجودہ کے اواخر میں کبھی ایسی چیز بھی پائی جاتی ہے جو بالقوۃ ہوتی ہے یا یہ کہ وہ چیز مختلف اوقات میں مختلف حالات پر ہوتی ہے اور یہ بھی کہ وہ حالت واحدہ پر دائم نہیں رہتی اور وہ اشیاء جو کون اور فساد کو قبول کرتے ہیں یہ وہی ہیں جو اسی حال میں پائے جاتے ہیں اس لئے توُ کبھی کسی معین چیز کو ایک بار بالقوۃپاتا ہے اور ایک بار بالفعل اس کی مثال یہ ہے کہ خمربعد اس کے کہ انگور کے پانی کو جوش آکر اس میں نشہ آجائے تو خمر بالفعل موجود ہوااور کبھی دوسرے وقت وہ بالقوۃ موجود ہوتا ہے جبکہ وہ رطوبت جس سے وہ متولد ہوتی ہے وہ انگور میں ہوگویا کبھی وہ بالفعل موجود ہوتا ہے اور کبھی ان عناصر میں بالقوۃ پایا جاتاہے جن سے وہ پیدا ہوتا ہے ۔

جب ہم کہتے ہیں کہ بالقوۃ یا بالفعل؛ تو اس سے ہماری مراد صورت اور عنصر کے علاوہ کوئی اور چیز نہیں ۔ اور صورت سے ہماری مراد وہ ہے جس کا صورت اور عنصر کے مجموعے سے جدا ہونا ممکن ہو۔صورت منفردہ کی مثال جیسے کہ روشنی اور اندھیرا جبکہ ان کا وجود ہوا اور فضا سے منفرد اورجداہو اور ان دونوں سے مرکب جیسے بدن صحیح اور بدن سقیم اور عنصر سے ہماری مراد وہ چیز جس میں دونوں حالتوں کا احتمال ہو جیسے کہ بدن کہ کبھی وہ صحیح ہوتا ہے۔

کبھی مریض پس یہ چیز جو کبھی بالفعل اور کبھی بالقوۃ موجود ہوتی ہے یہ اشیائے مرکبہ میں موجود عناصر میں مختلف ہوتا رہتا ہے میری مراد ہے صورت اور عنصر۔لیکن ان اشیاء میں بھی جوا شیائے مرکبہ کی حقیقت سے خارج ہوتے ہیں یعنی وہ اشیاء جن کا عنصر ان اشیاء کے عنصر کے غیر ہوتا ہے جن سے وہ مرکب ہوتی ہیں اور نہ اُس کی صورت اُن کی صورت کے موافق ہوتی ہے بلکہ ان کے غیر ہوتی ہے پس جب تو سبب اول کے بارے میں بحث کا ارادہ کرے تو مناسب ہے کہ تیرے ذہن میں یہ بات ملحوظ رہے کہ بعض علل محرکہ اس چیز کیساتھ صورت میں موافق ہوتی ہیں جو متحرک ہوتا ہے اور اس کے قریب ہوتی ہیں اور بعض سے ابعد ہوتی ہیں رہا علت قریبہ تو اس کی مثال جیسے کہ اب ہے اور شمس علت ابعد ہے اور شمس سے بھی ابعدفلک مائل ہے اور یہ چیز حادث کے لئے عنصر کے طریقے پر علل نہیں اور نہ عدم کے طریقے پر علل ہیں اور رہا صورت کے طریقے پرلیکن یہ محرک ہیں اور یہ محرک اس طور پر نہیں کہ وہ صورت میں موافق ہیں اور قریب ہیں مثل اب کے بلکہ وہ تاثیر کے اعتبار سے ابعد اور اقویٰ ہیں کیونکہ یہی علل قریبہ کی ابتدا ہے اور اس میں کچھ اور کلام بھی ذکر کیا ہے جس کو تفصیل سے بیان کیا جس کو تفصیل سے بیان کرنے کا یہ مقام نہیں ۔

دوسری دلیل اور اس پر رد

یہ کہ کوئی بھی فعل ازل میں تین وجوہات کی بنا پر ممکن الوجود ہوتا ہے :

(۱) اگر وہ اس طرح نہ ہو تو پھر وہ اولاممتنع ہوگا اور پھر ممکن ہوا ہوگا بالفاظ دیگر یوں کہئے کہ وہ ممتنع لذاتہ تھا اور پھر ممکن لذاتہ بن گیا اوراس بات امکان قضایا عقلیہ سے اعتماد اور حفاظت کو اٹھا لیتا ہے ۔

(۲) وہ ازل میں ممکن تھاپس اس کا امکان لذاتہ ہے یا وہ علت دائمہ ہے تو امکان کا دوام لازم آئیگا اوراگر وہ کسی علت حادثہ کی وجہ سے ہے تو وہ باطل ہوگا اس لئے کہ اس علت کے حدوث کے امکان میں کلام بعینہ اسی طرح ہے جو اس کے غیر کے حدوث کے امکان میں کلام ہے پس فعل کے امکان کا دوام لازم آئیگا ۔

(۳) فعل کی امتناع اس کے ذات کی وجہ سے ہے یا کسی سبب واجب لذاتہ کی وجہ سے تو امتناع کا دوام لازم آئیگا اور وہ مشاہدہ ،بداہت اور عقلاء کے اتفاق تینوں وجوہات کی وجہ سے باطل ہے کیونکہ ممکنات مشاہدہ میں نظر آتے ہیں اور موجود ہیں ۔

اگر کسی ایسی سبب کی وجہ سے ہے جو واجب نہیں تو پھر اس ذات کا قدیم ہونا ممتنع ہوجائیگا کیونکہ جس کا قدم واجب ہو تو اس کا عدم ممتنع ہوتا ہے ۔پھر اس میں کلام اسی طرح ہے جو پہلے میں تھا پس ازل میں کسی علتِ حادثہ کی وجہ سے اس کا ممتنع ہونا ظاہر البطلان ہے اس لئے کہ قدیم کسی علتِ حادثہ کا معلول نہیں بنتا پس ثابت ہوا کہ ازل میں ممکنات کے حصول کے ممتنع ہونے کا دعوی ممکن نہیں اور یہ کہنا بھی ممکن نہیں کہ مؤثر وہی ہوتا ہے جس کے بارے میں یہ ممکن ہو کہ وہ اس میں اثر کرے اور پھر وہ ممکن بنے اس لئے کہ تاثیر کے امتناع اور اس کے امکان کا قول بالکل اس قول کی طرح ہے جو اثر کے وجود اور اس کے امکان کے امتناع کا ہے پس ثابت ہوا کہ ممکنات کا کسی مؤثر کی طرف استناد اور نسبت اس کے اوپر عدم کے تقدم کا تقاضا نہیں کرتا (یعنی کہ وہ مسبو ق بالعدم ہوں )۔

اشکال:....کہتے ہیں : اس طریقے پر ایک اشکال ہے ؛وہ یہ کہ جب ہم یہ کہیں کہ اگر ہم حادث کا اس حیثیت سے اعتبار کریں کہ وہ مسبوق بالعدم ہے تو اس شرط کیساتھ یہ بات ممکن نہیں کہ یہ کہا جائے کہ اس کا امکان ایک خاص وقت کیساتھ خاص ہے (دوسرے کو چھوڑ کر )بوجہ ان دلائل کے جو تم نے ذکر کئے ہیں پس اس کا امکان صفت دوام کیساتھ ثابت ہوا اور پھر اس کے امکان کے دوام سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ حدوث سے خارج ہو گئے اس لئے کہ جب ہم نے اسے اس حیثیت سے لیا ہے کہ وہ مسبوق بالعدم ہے تو عدم کے ساتھ مسبوقیت اس کیلئے ایک جزء ذاتی ہے اور جز ء ذاتی مرفوع اور ختم نہیں ہوتا اور جب حادث کے حدو ث کے امکان سے( اس حیثیت سے کہ وہ حادث ہے )اس کا حدوث سے خروج لازم نہیں آتا تو یہ حجت بھی باطل ہو گئی ۔ یہ ایسا شک ہے کہ اس کا حل کرنا ضروری ہے ۔

جواب:....میں کہتا ہوں کہ یہ شک وہی معارضہ ہے جس پر کتب کلامیہ میں اعتماد کیا گیا ہے جیسے کہ ’’اربعین ‘‘اور اس کے دیگر کتابیں اور اسی پر آمدی نے ’’دقائق الحقائق ‘‘ میں اور اس کے علاوہ دیگر کتب میں بھی اعتماد کیا ہے اور یہ دو وجہ سے باطل ہے :

(۱) یہ کہ اس میں ان کے حجت کا کوئی جواب مذکور نہیں بلکہ یہ تو ایک محض ایک اعتراض ہے ۔

صفحہ 3 از 23