فلاسفہ کا عقیدہ : فعل کا عدم کے بعد وجود میں آنا - ردِ…

فلاسفہ کا عقیدہ : فعل کا عدم کے بعد وجود میں آنا

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 23

(۲) اس کے جواب میں یہ کہا جائیگاکہ :’’یہ کہنا کہ حادث کا جب ہم اس حیثیت سے اعتبار کریں تو کیا اس سے تیری مراد یہ ہے کہ جب اس بات کو فرض کر لیا جائے کہ سارے کے سارے حوادث کیلئے کوئی اول ہے پس جب اس کے ساتھ اس کے امکان کا اعتبار بھی کیا جائے تو پھر تو ان کا کوئی اول نہ ہوا یا تمہاری مراد یہ ہے کہ ہر حادث جس کا تو اعتبار کرتا ہے جب اس کے امکان کا اعتبار کیا جائے ؟

اگر تمہاری مرادپہلی بات ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہم اس تقدیر اور فرض کے امکان کو تسلیم نہیں کرتے اس لئے کہ تم نے پہلے یہ بات مان لی کہ ہر حادث کیلئے کسی اول کا ہونا ضروری ہے اور تما م کے تما م حوادث مسبوق بالعدم ہیں اور یہ بات بھی (مان لی )کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ فاعل نے کسی چیز کو پیدا کردیا ہو اور پھر خود اس فاعل کا احداث کیا گیا ہواس کو بھی تم نے تسلیم کرلیا کہ ایسا نہیں ہو سکتا اور ان دونو ں باتوں کو تسلیم کرنے کے باوجود تم نے اس بات کو فرض کرلیا کہ اس کا احداث ازل سے ممکن ہے اور ہم تو ان دو باتوں کے درمیان جمع کے امکان کو تسلیم نہیں کرتے ۔تم نے تو ازل میں اس کے حدوث کے دوام کو اس وجہ سے ممنوع قرار دیا کہ ایسے حوادث ممتنع ہیں جن کیلئے کوئی اول نہ ہو اور اس امتناع کے باوجود یہ بات محال ہے کہ ازل سے احداث ممکن ہو پس تم نے حوادث کے دوام کے امکان کو فرض کرلیا باوجودیکہ ان کا دوام ممتنع ہے اور یہ تو اجتماع نقیضین کو فرض کرنا ہے ۔

اور اگر تمہاری مرادیہ کہ کسی حادثِ معین کا حدوث مراد ہے ۔تو ہم اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ اس کا امکان ازلی ہے بلکہ یہ ممکن ہے کہ ہر حادثِ معین کا حدوث ایسی شروط کیساتھ مشروط ہو جو اس کی ازلیت کے منافی ہو اور یہی نفس الامر میں بھی واقع ہے جس طرح کہ بہت سے حوادث میں یہ بات معلوم ہے اس لیے کہ جو کسی مادہ سے مخلوق اور پیدا ہو اس کا حدوث اس مادہ کے وجود سے پہلے ممتنع ہے لیکن اس حجت کا جواب یہ ہو سکتا ہے کہ یہ کسی معین چیز کے قدم کا تقاضا نہیں کرتا جس طرح کہ ایک اور مقام پر اس کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے پس اس سے ممکنات میں کسی چیز معین کا قدم لازم نہیں آتا ۔ 

تیسری دلیل اور اس پر رد

امام رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’تیسری دلیل یہ ہے کہ: حوادث جب موجود ہو جاتے ہیں اور ان کو استمرار حاصل ہوجاتا ہے تووہ اپنے استمرار کی حالت میں کسی مؤثر کے محتاج ہوتے ہیں ۔ اس لئے کہ وہ اپنی بقا کی حالت میں بھی اسی طرح ممکن ہیں جس طرح کہ حالت حدوث اور ابتدائے وجود میں ممکن تھے۔ اور ممکن ضرورکسی مؤثر کی طرف محتاج ہوتا ہے۔ پس کہا جائیگا کہ یہ حجت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ممکناتِ حادثہ اپنی بقا کی حالت میں کسی مؤثر کی طرف محتاج ہوتے ہیں اور ہم اس بات کو تسلیم کرتے ہیں جس طرح کہ مسلمان اور غیر مسلم تمام اہل نظر نے اس کو تسلیم کرلیا ہے اور معتزلہ کے متکلمین میں سے ایک جماعت نے اس میں اختلاف کیا ہے اور ان کے علاوہ بعض لوگوں نے بھی ، لیکن یہ اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ ممکن کا اپنے فاعل کیساتھ ازلاً وابداً مقارنت بھی ممکن ہے الا یہ کہ اس کے ازلی اور ابدی ہونے کے امکان کو بیان کردیا جائے ساتھ اس کے کہ اس کا وجود اور عدم بھی ممکن ہواور یہی بات تو محل نزاع ہے اور کیسے کہا جاسکتا ہے کہ حالانکہ جمہور عقلاء کہتے ہیں کہ یہ بات معقول نہیں کہ جس چیز کے بارے میں عدم اور وجود دونوں کا امکان ہو تو اس کے بارے میں حدوث کے علاوہ اور کوئی امرممکن ہی نہیں ،رہا قدیم ازلی واجب بنفسہ اور بغیرہ تو اس میں یہ بات معقول نہیں کہ اس کاوجود اور عدم دونوں ممکن ہوں اس لئے کہ اس کا عدم تو ممتنع ہی ہے ۔

اور اگر کہا جائے کہ وہ اپنی ذات کے اعتبار سے دونوں امر کو قبول کرتا ہے۔

تو اسکاجواب دوطرح سے دیا جائیگا :

۱) یہ اس بات پر مبنی ہے کہ خارج میں اس کی کوئی ایسی حقیقت پائی جائے جو اس کی وجود ِخارجی کے علاوہ ہواور یہ بات تو باطل ہے ۔

۲) دوسری بات یہ ہے کہ اگر فرض کرلیا جائے کہ حقیقت ِ حال اسی طرح ہے تو اس موجب ازلی کے واجب الوجود ہونے کے ساتھ وہ واجب اور ازلی ابدی بن جائے گا۔لہٰذا اس کا عدم ممتنع ہو جائے گا۔ جس طرح اہل سنت والجماعت اللہ تعالیٰ کی صفات میں کہتے ہیں اور یہ بات تو معقول نہیں کہ اس کا وجود اور عدم ممکن ہو ں اور یہ بھی ممکن نہیں کہ اس کیلئے کوئی ایسا فاعل ہو جو اسے وجود دیتا ہو جس طرح کہ یہ بات اللہ تعالیٰ کی ان صفات لازمہ کے بارے میں معقول نہیں جو اس کی قدیم ذات کیساتھ لازم ہیں ۔

چوتھی دلیل اور اس پر رد

امام رازیؒ نے فرمایا : چوتھی دلیل یہ ہے کہ اثر کا کسی مؤثر کی طرف افتقار اور احتیاج یا تو اس وجہ سے ہے کہ وہ فی الحال موجود ہے یا اس وجہ سے کہ وہ پہلے معدوم تھا یااس وجہ سے کہ اس سے پہلے عدم تھا اور یہ بات محال ہے کہ عدمِ سابق وجود کا مقتضی ہو اس لئے کہ عدم تو نفی محض ہے لہٰذا اس کیلئے مؤثر کی طرف کوئی حاجت ہی نہیں اور یہ بھی محال ہے کہ وہ اس کا مسبوق بالعدم ہونا ہواس لئے وجود کا مسبوق بالعدم ہونا ایک ایسی کیفیت ہے جو وجود کو ضرور بالضرورپیش آتی ہے ۔

اس لئے اس کا مسبوقیت بالعدم کی صفت پر وقوع ایک ایسی کیفیت ہے جو وقوع کے بعد لازم ہو جاتی ہے اوریہ بات محال ہے کہ وہ اس حالت کے بغیر واقع ہوجائے اور واجب تو مؤثر سے غنی اورمستغنی ہے پس مفتقر اور محتاج وجودہی ہوا اور وجود تو ماہیت کیلئے عارض ہے لہٰذا فاعل کی طرف محتاج ہونے میں عدم کے تقدم کا اعتبار نہیں کیاجائیگا ۔

صفحہ 4 از 23