فلاسفہ کا عقیدہ : فعل کا عدم کے بعد وجود میں آنا - ردِ…

فلاسفہ کا عقیدہ : فعل کا عدم کے بعد وجود میں آنا

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 5 از 23

جواب: یہ کہا جائے کہ مؤثر کی طرف محتاج ہونا خواہ کسی بھی وجہ سے ہواگر اس سے اس کی مراد اس سبب کا اثبات ہے جس کی وجہ سے مؤثر کی طرف وہ محتاج ہوا ہے یا یہ اس سے اس کا ارادہ ایسی دلیل کو ثابت کرنا ہے جو مؤثر کی طرف محتاج ہونے پر دلالت کرتا ہے تو جو چیز تعلیل کے طریقے پر حرف لام کیساتھ مقرون ہوتا ہے وہ کبھی وجود خارجی کیلئے علت بنتا ہے اورکبھی وجود ذہنی کیلئے اور اس کو دلیل اور برہان کہتے ہیں اور قیاس الدلالۃ اور برہان الدلالۃ کہتے ہیں اور پہلے کے ذریعے استدلال کیا جائے تو اسے قیاس العلۃ اور برہان العلۃ کہتے ہیں اور برہان لمی کہتے ہیں اس لئے کہ وہ خارج میں اثر کی علت کا فائدہ دیتا ہے اور ذہن میں بھی پس کسی قائل کا یہ کہنا کہ مؤثر کی طرف افتقار اور احتیاج یا توبوجہ حدوث یا بوجہ امکان کے ہوگا یا ان دونوں کے مجموعے کی وجہ سے ہوگا اور متاخرین میں ایک جماعت جو اقوال ثلاثہ ذکر کرتی ہے اس کی حقیقت یہ ہے کہ کیا تم نفس الامر میں موجود علتِ موجبہ سے بحث کرتے ہو اس افتقار کی وجہ سے یا اس افتقار اور احتیاج پر دلالت کرنے والی دلیل سے بحث کرتے ہو ؟

اگر تمہاری مراد پہلی بات ہے تو تمہیں کہا جائیگا کہ یہ بات تو فاعل کی طرف مفعول کے احتیاج کے ثبوت کی فرع ہے اور مبحوث عنہا تو ایک دوسری علت ہے جسے تم نے ثابت نہیں کیا بلکہ کسی قائل کیلئے یہ بھی گنجائش ہے کہ وہ یہ کہے کہ اللہ کے علاوہ تمام موجودات اپنی ذات کے اعتبار سے اس کی طرف فقیر اور محتاج ہیں اور اس کی حقیقت (وجود)کسی علت کی وجہ سے نہیں جس نے اس کی ذات کو موجود کردیا اور اس کی حقیقت اللہ کی طرف محتاج ہے اور یہ بات تو معلوم ہے کہ ہر ایسا حکم اور ہر ایسی صفت جس سے ذوات کو موصوف کردیا جاتا ہے اس میں یہ واجب نہیں کہ وہ کسی علت کی وجہ سے ثابت ہو اس لئے کہ یہ تو تسلسلِ ممتنع کو مستلزم ہے کیونکہ اللہ کے ماسوا تمام کااس کی طرف احتیاج اورافتقار ایک ایسا حکم اور صفت ہے جو ماسوی اللہ کیلئے ثابت ہے پس جو بھی اس کے ماسوی ہے خواہ اسے محدث کہا جائے یا ممکن یا مخلوق کہا جائے یا ا ن کے علاوہ کوئی اور نام دیا جائے وہ اللہ کی طرف محتاج ہے اور کسی بھی طور پراور کسی بھی حال میں اللہ سے اس کی استغنا ء ممکن نہیں بلکہ جس اللہ تعالیٰ کی استغنا ء اور بے نیازی اس کی ذاتی ہے ایسے ہی تمام ممکنات کا احتیاج اور افتقار ان کے ذوات کے لوازمات میں سے ہے اور اس کی کوئی خارجی حقیقت نہیں الا یہ کہ جب وہ موجود ہو جائیں کیونکہ معدوم تو کوئی چیز ہی نہیں پس جو اللہ کے ماسوی ہیں وہ اس کی طرف صفت دوام کیساتھ محتاج ہیں اپنے حدوث (ابتدائے وجود )اور بقا ء دونوں حالتوں میں ۔

اگر فاعل کی طرف احتیاج سے مراد یہ ہے کہ اس سے افتقار اور احتیاج پر استدلال کیا جاتا ہے تو جواب میں کہا جائیگا کہ عدم کے بعد کسی چیز کا حادث ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ کسی ایسے محدث اور موجدکی طرف محتاج ہے جو اس کو وجود دے اور اس کا ایسا ممکن ہونا کہ اس کے وجود کو عدم پرترجیح صرف اور صرف کسی مرجح تام کی وجہ سے حاصل ہو یہ اس بات پر دلیل ہے کہ وہ ایک ایسے واجب کی طرف محتاج ہے جو اس کو از سرنو وجود دیتا ہے اور اس کا ممکن اور محدث (بالفتح)ہونا ایک دوسری دلیل ہے تو یہ دو دلیلیں ہو گئیں کیونکہ ان دونوں میں سے ہر ایک اس کے افتقار اور احتیاج پر دلیل ہے اور یہ صفات اور اس کے علاوہ دیگر صفات جیسے کہ اس کا حادث ہونا ، محتاج ہونا ،مخلوق ہونا اور اس کے امثال ،یہ خالق کی طرف اس کے احتیاج پر دلیل ہیں پس خالق کی طرف احتیاج پر ادلہ بہت زیادہ ہیں اور وہ اپنے ذات کی وجہ سے محتاج الیہ ہے نہ کہ کسی سبب آخر کی وجہ سے اور جب صورتحال اس طرح ہے تو ممکن ہے کہ کہ یہ کہا جائے کہ خود اس کا وجودخالق کی طرف اس کے احتیاج پردلیل ہے اور اس کا عدمِ سابق اس کے خالق کی طرف اس کے افتقارپر دلیل ہے اور اس کا موجود ہونا عدم کے بعد،یہ بھی خالق کی طرف اس کے افتقار پر دلیل ہے پس ان تمام اقسام میں کوئی منافات نہیں اور اس بنا پر یہ کہنا صحیح نہیں کہ عدم تو ایک نفی محض ہے لہٰذا اس کیلئے کسی مؤثر کی طرف اصلا کوئی حاجت نہیں اور یہ اس لئے کہ جب ہم نے اس کے عدم کو اس بات پر دلیل قرار دیا کہ وہ عدم کے بعد تب ہی موجود ہوسکتا ہے جب کوئی ایسا فاعل پایا جائے جو اس کے عدم کو مؤثر کی طرف محتاج بنا دے بلکہ مسلمان اہل نظر تو یہ کہتے ہیں کہ ممکن صرف اپنے وجود میں مؤثر کی طرف محتاج ہوتا ہے اور رہا اس کا عدم جو کہ مستمر ہوتا ہے تو اس میں وہ کسی مؤثر کی طرف محتاج نہیں ہوتا اور یہ جو فلاسفہ ہیں ابن سینا اور اس کے متبعین جیسے امام رازی وغیرہ وہ یہ کہتے ہیں کہ ممکن کے دو طرفین (وجود وعدم )میں ایک کے راجح ہونے کیلئے کسی مرجح کا ہونا ضروری ہے لہٰذا عدم کے وجود پر راجح ہونے کیلئے بھی کوئی مرجح ضروری ہے جیسے کہ وجود کے راجح ہونے کیلئے کسی مرجح کا ہونا ضروری ہے اور پھر انہوں نے یہ بھی کہا کہ عدم کا مرجح عدم المرجح (یعنی وجود کا مرجح نہ پایا جانا )ہے پس اس کے معدوم ہونے کی علت اس کے وجود کی علت کا نہ پایا جانا ہے اور مسلمان اہل نظر اس بات پر نہایت سختی سے نکیر اور رد کرتے ہیں جس طرح کہ قاضی ابو بکر ،قاضی ابو یعلی اور ان کے علاوہ مسلمان اہل نظر نے ذکر کیا ہے اور یہی بات درست ہے ۔

صفحہ 5 از 23