فلاسفہ کا عقیدہ : فعل کا عدم کے بعد وجود میں آنا - ردِ…

فلاسفہ کا عقیدہ : فعل کا عدم کے بعد وجود میں آنا

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 6 از 23

ان لوگوں کا یہ کہنا کہ اس کی علت (یعنی وجود کی علت )کا نہ پایا جانا ہی اس کے عدم کی علت ہے تو ان کے جواب میں کہا جائیگا کہ کیا تمہاری مراد یہ ہے کہ اس کی علت کا نہ ہونا مستلزم ہے اس کے عدم کو اوروہ دلیل ہے اس کے عدم پریا مراد یہ ہے کہ اس کی علت کا عدم ہی وہ چیز ہے جس نے اس کو خارج میں معدوم بنا دیا پس پہلی مراد تو صحیح ہے لیکن اس کے تو تم قائل نہیں اور دوسری بات درست نہیں اس لئے کہ وہ عدم جو صفت استمرار کیساتھ ثابت ہے اس کا علت کی طرف احتیاج اسی طرح ہے جس طرح عدم العلۃ کا علت کی طرف اور یہ بداہۃ ثابت ہے کہ جب کہا جائے کہ علت کے معدوم ہونے کی وجہ سے فلان چیز معدوم ہوا تو کہا جائیگا کہ وہ عدم بھی تو اس کے علت کے عدم کی وجہ سے ہے اور یہ امر علل اور معلولات میں تسلسل کا تقاضا کرتی ہے اور وہ صریح عقل کی بنا پر باطل ہے لہٰذا اس کا بطلان تو ظاہر ہے لیکن مقصود تو ان مخالفین یعنی ملحد فلاسفہ کے بعض تناقضات کو بیان کرنا ہے جو کہ صریح معقول اور صحیح منقول کے ساتھ معارض ہیں ۔

اسی طرح اس کا یہ کہنا کہ اس کا مسبوق بالعدم ہونا ایک کیفیت ہے جو وجود کو اس کے حصول (یعنی وجود میں آنے کے بعد)کے بعد پیش آتی ہے اور وہ اس کیساتھ لازم ہے لیکن علت نہیں تو اسے کہا جائیگا یہ کوئی صفت ثبوتیہ تو نہیں بلکہ یہ تو ایک صفت اضافیہ ہے جس کا معنی یہ ہے کہ وہ موجود ہوا بعد اس کے کہ وہ معدوم تھا پھر اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ وہ اس کیلئے صفت لازمہ ہے تو اس سے مراد یہ ہے کہ وہ مؤثر کی طرف احتیاج پر ایک دلیل ہے اور یہ بھی ملحوظ رہے کہ تم نے اِس کو اُس کے احتیاج کی علت فرض کرلیا ہے اور احتیاج کا معلول فرض نہیں کیا پس اس کا غنی ہونا اس کی علت بننے سے مانع نہیں ہے بلکہ اس کے معلول ہونے سے مانع ہے ۔

اگر وہ یہ کہے کہ یہ تو اس کے احتیاج اور افتقار سے مؤخر ہے اور متاخر متقدم کیلئے علت نہیں بنتا۔

تو جواب میں کہا جائیگا کہ : یہ بات میں نے اس مقام کے علاوہ اور کئی مقامات پر ذکرکر دی ہے اور اس کا جواب یہ ہے کہ وہ افتقار اور احتیاج پر دلیل تو ہے لیکن اس کیلئے موجب نہیں ۔ اورباتفاق عقلاء دلیل اپنے مدلول سے مؤخر ہوتی ہے۔

اگر کہا جائے کہ اگر حدوث مؤثر کی طرف افتقار اور احتیاج پر دلیل ہے۔ تو یہ بات لازم نہیں آتی کہ ہر مؤثر کی طرف محتاج حادث ہی بنے۔ اس لئے کہ دلیل میں اس کا عموم واجب ہے ،اس کا عکس واجب نہیں ۔

تو جواب میں کہا جائیگا کہ :ہاں اس اعتبار سے دلالت کی انتفاء دوسرے وجوہ سے دلالت کی نفی نہیں کرتی ۔ مثال کے طورپر یہ کہا جائے کہ فاعل کی طرف اس کے احتیاج کی شرط اس کا محدث اور حادث ہونا ہے اور شرط تومشروط کیساتھ مقارن ہوتا ہے اور یہ بھی ان امور میں سے ہے جن کے ذریعے اتصال واقتران کو بیان کیا جاتا ہے پس کہا جائیگا کہ احتیاج کی علت جو کہ افتقار واحتیاج کے شرط کے معنی پر ہے وہ اس کا حادث یا ممکن ہونا یا دونوں کا مجموعہ ہے اور یہ سب کے سب حق ہیں اور مثال کے طور پر یوں کہا جائے کہ وہ علت جو فاعل کی طرف احتیاج کا تقاضا کرتی ہو اگر اس سے اس کا حدوث مراد ہے یعنی مسبوق بالعدم ہونا ہے اس لئے کہ یقیناً وہ تما م اشیاء جو مسبوق بالعدم تھیں وہ فاعل کی طرف احتیاج کے حال میں ثابت اور موجود ہوتے ہیں اس لئے فاعل کی طرف ان کااحتیاج ان کے حدوث کی حالت ہے اور اس حال میں وہ مسبوق بالعدم ہوتے ہیں اس لئے کہ یقیناوہ تما م چیزیں جو مسبوق بالعدم ہوں وہ عدم کے بعد موجود ہوجاتی ہیں اور یہی معنی تو فاعل کی طرف افتقار کو ثابت کرتا ہے ۔

پانچویں دلیل اور اس پر رد

امام رازی فرماتے ہیں :پانچویں دلیل یہ ہے کہ[ تین احوال میں سے کوئی ایک حال ضرور ہوگا :]یا تو ممکنات کا مؤثر کی طرف افتقارکی جہت حدوث پرموقوف ہوگا یا مؤثر کی تاثیرکا حدوث پر توقف ہوگا یا بالکل توقف نہیں ہوگا ۔

پہلی صورت کا بطلان توہم نے قدم اور حدوث کے باب میں ثابت کردیا۔ پس یہ بات ثابت ہوئی کہ افتقار کی جہت میں حدوث معتبر نہیں ہوگا۔

لہٰذایہ کہا جائے گاکہ: تم نے جو کچھ یہاں ذکر کیا ہے اس کا ابطال بھی ہم نے بیان کردیا گیا ہے۔ اور یقیناوہ تمام اشیاء جو فاعل کی طرف محتاج ہوتے ہیں وہ حادث ہی ہوتے ہیں ۔ رہا قدیم ازلی تو یہ بات ممتنع ہے کہ وہ مفعول بنے۔ اور جوکچھ میں نے’’ حدوث اور قدم‘‘ کی کتاب میں مباحث مشرقیہ میں ذکر کر دیا ہے۔ یہ وہی ہے جس کے ذکر پر آپ کی عادت جاری ہے محصل اور اس کے علاوہ دیگرکتب میں ۔یعنی کہ یقیناحدوث کا وجود مسبوق بالعدم ؛اوربالغیر ہونے سے عبارت ہے ۔پس یہ وجود کیلئے ایک صفت ہے ۔لہٰذا اس سے متاخر ہی ہوگی اور وہ مؤثر کی تاثیر سے متاخر ہوگی وہ مؤثر جو اس کے احتیاج سے متاخر ہے اور وہ احتیاج جو حاجت کی علت سے متاخرہے پس اگر حدوث خود حدوث کی طرف حاجت کی علت قرار دی جائے یا اس کی شرط قرار دی جائے تو کسی چیز کا چار مراتب اور چار درجات کیساتھ اپنی ذات سے مؤخر ہونالازم آئیگا ۔

جواب : یہ کوئی صفت وجوبیہ نہیں جو اس کی ذات کیساتھ قائم ہے تاکہ وہ اس کے وجودسے متاخر ہو جائے بلکہ اس کا معنیٰ یہ ہے کہ وہ موجود ہوا بعد اس کے کہ نہیں تھا اور وہ اس حال میں مؤثر کی طرف محتاج ہوتا ہے اور مسبوق بالعدم بھی ہوتا ہے اور جو تاخرات ذکر ذکرکردئے گئے وہ تو اعتبارات عقلیہ ہیں جو تاخرات زمانیہ نہیں اور یہاں پر علت سے مراد یہ نہیں ہے کہ وہ مفعول کے اوپر زمان کے اعتبار متقدم فاعل سے عبارت ہے اور لازم وملزوم دونوں کا زمانہ کبھی اکھٹا ہوتا ہے جیسے کہ اہل نظر کہتے ہیں کہ صفت موصوف کی طرف محتاج ہوتی ہے اور عرض جوہر معروض کی طرف محتاج ہوتا ہے اگرچہ وجود کے اعتبار سے دونوں کا زمانہ ایک ہوتا ہے ۔

اسی طرح وہ یہ کہتے ہیں کہ عرض اپنے موصوف کی طرف محتاج ہوتا ہے اس وجہ سے کہ وہ ایک ایسامعنی ہے جو غیر کے ساتھ قائم ہے اور یہی معنیٰ موصوف کی طرف احتیاج کیساتھ مقارن ہے۔

چھٹی دلیل اور اس پر رد

صفحہ 6 از 23