فلاسفہ کا عقیدہ : فعل کا عدم کے بعد وجود میں آنا - ردِ…

فلاسفہ کا عقیدہ : فعل کا عدم کے بعد وجود میں آنا

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 7 از 23

اما م رزای رحمہ اللہ فرماتے ہیں :چھٹی دلیل : ممکن چیز جب موجود نہ ہوتو اس کا عدم یا تو کسی امر کی وجہ سے ہوگا یا کسی امراور مؤثر کی وجہ سے نہیں ہوگا۔ یہ تو محال ہے کہ وہ کسی امر کی وجہ سے نہ ہو۔ یعنی بلا کسی خارجی امر کے وہ معدوم ہو۔ اس لئے کہ ایسی صورت میں اپنی ذات کے اعتبار سے وہ معدوم ہو جائیگا یعنی اپنی حیثیت کے اعتبار سے وہ معدوم ہوا۔ اور وہ تمام چیزیں جن کی ماہیت ان کے معدوم ہونے میں کافی ہوتی ہیں وہ ممتنع الوجود کہلاتا ہے لہٰذاممکن چیز ممتنع الوجود ثابت ہوا اور یہی دلیل خلف ہے۔ پس یہ بات واضح ہو گئی کہ ممکن کا عدم کسی امر یا مؤثر کی وجہ سے ہوگا۔ پھر وہ امر جو مؤثر ہے وہ دوحال سے خالی نہیں ۔ یا تو اس کی تاثیر میں تجدد شرط ہوگی یا نہیں ہوگی ۔ یہ محال ہے کہ اس کی تاثیر میں تجددشرط قرار دی جائے۔ اس لئے کہ ہماراکلام اس عدم سابق کی صورت میں مفروض ہے جو اس کے وجود پر مقدم ہے۔ اور وہ عدم جو متجددہے یعنی دھیرے دھیرے وجود میں آتا ہے وہ وہ عدم ہے جو وجود کے بعد ہوتا ہے لہٰذاممکنات کے عدم میں کسی ایسے چیز کی طرف استناد کی شرط نہیں ہوگی جو اس کے عدم کا تقاضا کرتے ہوں اور نہ اس کے تجدد کی شرط ہوگی اور عدم چونکہ ممکن ہے لہٰذاوہ بغیر شرطِ تجدد کے کسی مؤثر کی طرف مستند اور منسوب ہوتا ہے تو ہم نے جان لیا کہ حاجت اور افتقار تجدد پر موقوف نہیں اور یہی تو ہمارا مطلوب ہے ۔

جواب:.... یہ بات عجائب میں سے بلکہ بہت بڑے مصائب میں سے ہے کہ اس جیسے ہذیان اور بکواس کو اس مذہب میں برہان قرار دیا جائے وہ مذہب جس کی حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی چیز کو پیدا نہیں کیا بلکہ حوادث خود بخود بغیر کسی خالق کے حادث ہوتے ہیں اور اہل ملل کے ادیان کے ابطال میں اور اگلے پچھلے سارے عقلاء کے ادیان کے ابطال میں یہ حجج باطلہ اور اس کے امثال بہت سے افاضل اور بہت سے عقل مند اور اہل علم لوگوں کو اس حق صریح سے روکنے والے بنتے ہیں جو کہ صریح عقل اورصحیح نقل کے موافق ہوتا ہے بلکہ یہ اس کے قائلین کو عقل سے خارج کردیتے ہیں اور دین سے بھی ایسے نکال لیتے ہیں جیسے کہ کوئی بال گوندھے ہوئے آٹے سے نکالا جاتا ہے کبھی تو جحودوانکار کے ذریعے اور کبھی شکوک وشبہات اور تردد کے ذریعے لہٰذا ہم اس بات کی طرف محتاج ہوئے کہ ہم اس مذہب کے بطلان کو بیان کریں کیونکہ یہ ظاہر الفساد عقلاونقلااور اس میں عقول اور تمام ادیان کو ضرر بھی لاحق ہے ایسا ضرر کہ جس کا احاطہ اور سد باب صرف اور صرف رحمان کی ذات ہی کرسکتا ہے اور جواب کئی وجوہ سے ہے ۔

پہلی وجہ:....تمہارا یہ قول چند سطر پہلے گذر چکا ہے کہ عدم نفی محض کو کہتے ہیں لہٰذااس میں کسی مؤثر کی طرف اصلا کوئی حاجت ہی نہیں اور تم نے اس کو اس حجت میں مقدم قراردیاکہ جو اس سے پہلے بیان ہوا تو تم چند سطر بعد یہ کیسے کہتے ہو کہ معدومِ ممکن کا عدم صرف اور صرف کسی موجب کی وجہ سے ہوتا ہے اور یہ بات بھی ہم نے پہلے بیان کردی ہے کہ مسلمان اور غیر مسلم جمہور اہل نظر یہ کہتے ہیں کہ عدم کسی علت کی طرف محتاج نہیں ہوتا اور میں نے اہل نظر میں سے کسی کو بھی نہیں پایا جس نے ممکن کے عدم کو کسی علت کی طرف محتاج قراردیا ہو سوائے اس گروہ قلیلہ کے جو کہ متاخرین فلاسفہ میں سے ہیں جیسے ابن سینااور اس کے اتباع ورنہ تو یہ قدمائے فلاسفہ کا بھی قول نہیں نہ ارسطو اور نہ اس کے اصحاب کا جیسے برکلس اور اسکندرافرودیسی جو کہ اس کی کتب کا شارح ہے اسی طرح سامسوطوس اور اس کے علاوہ جوفلاسفہ ہیں اور نہ یہ اہل نظر میں سے کسی کا قول ہے جیسے کہ معتزلہ ،اشعریہ اور کرامیہ وغیرہ پس یہ اہل نظر جماعتوں میں سے کسی کا قول نہیں ہے نہ متکلمین کا ،نہ فلاسفہ اورنہ ان کے علاوہ کسی اور کا ۔

دوسری وجہ :.... یہ کہنا محال بات ہے کہ وہ کسی امر خارجی کے بغیر معدوم ہو تویقیناایسی صورت میں وہ اپنی ذات کی وجہ سے یعنی من حیث ہوہومعدوم ہوااور جس چیز کی ماہیت اس کے عدم میں کافی ہو تو وہ ممتنع الوجود ہوتا ہے پس اس کے جواب میں کہا جائیگا کہ یہ ایک باطل تلازم ہے اس لئے کہ جب وہ چیز کسی امر کے بغیر معدوم ہے تو وہ معدوم نہیں ہوا(نہ اپنی ذات کی وجہ سے اور نہ کسی غیر کی وجہ سے )پس تمہارا یہ کہنا کہ ایسی صورت میں وہ اپنی ذات کی وجہ سے معدوم ہوگا ،باطل ہے اس لئے کہ یہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ اپنی ذات کی وجہ سے معدوم ہے حالانکہ اس کی ذات تو اس کے معدوم ہونے میں علت ہے جیسے کہ ممتنع لذاتہ ہوتا ہے اور یہ ہمارے اس قول کے منافی ہے کہ وہ چیز کسی امراور سبب کے بغیرمعدوم ہے پس کیسے کسی چیز کی نفی اس کے ثبوت کو لازم ہوگی ؟

اگر کہا جائے کہ اس کی مرادیا تو یہ ہوگی کہ اس کا عدم کسی امر کی وجہ سے ہے یا کسی امر خارجی کی وجہ سے نہیں ۔ تو جواب یہ ہے کہ یہ تقسیم پوری طرح حصر کرنے والی نہیں اور وہ یہ ہے کہ کوئی چیز کسی علت کے بغیر معدوم ہو۔

تیسری وجہ :.... ان دو اقوال کے درمیان فرق واضح اور معلوم ہے ایک قول یہ کہ اس کی ذات اس کے وجود اور عدم کا تقاضا نہیں کرتی یا اس کے وجود اور عدم کو مستلزم نہیں یا یہ کہ وجود اور عدم کو ثابت نہیں کرتی اور دوسرا قول یہ ہے کہ ہمارا یہ کہنا کہ اس کی ذات اس کے وجود یا عدم کا تقاضا کرتی ہے یا اس کو مستلزم ہے یا اس کیلئے موجب ہے اس لئے کہ جو چیز ایسی ہو کہ اس کی ذات اس کے وجود کو مستلزم ہو تو وہ واجب بنفسہ ہوتا ہے اور جو اس کے عدم کو مستلزم ہو وہ ممتنع ہوتا ہے اورجو چیز ایسی ہو کہ اس کی ذات ان دونوں میں سے کسی کو بھی مستلزم نہ ہو تو وہ نہ واجب نہ ممتنع بلکہ وہ ممکن ہی ہوتا ہے ۔

صفحہ 7 از 23