فلاسفہ کا عقیدہ : فعل کا عدم کے بعد وجود میں آنا - ردِ…

فلاسفہ کا عقیدہ : فعل کا عدم کے بعد وجود میں آنا

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 9 از 23

اگر وہ کہیں کہ: صفات اور احکام افعال کے قبیل سے نہیں ؛اور ہم تو افعال میں عدم کی سابقیت کو ثابت کرتے ہیں اور اسے واجب اور ضروری سمجھتے ہیں تو ہم جواب میں کہیں گے کہ اس جیسے مسائل عظیمہ میں محض الفاظ پر اعتماد کرنا ممکن نہیں اور فرض کرلیں کہ جس چیز پر عدم سابق نہ ہوتو ا سے فعل نہیں کہا جاتا لیکن یہ تو ثابت ہے کہ جوچیز اپنی ذات کے اعتبار سے ممکن الثبوت ہوتو اس کی کسی ایسے مؤثر کی طرف استناد اور نسبت جائز ہے جو اثر کیساتھ دائم الثبوت ہو۔ اور جب یہ معقول بات ہے تو اس لیے بعض مواضع میں امتناع کا دعوی کرنا ممکن نہیں ؛ الا یہ کہ لفظِ ’’فعل‘‘ کے اطلاق کو اس کا صاحب ممنوع قرار دے۔ یعنی لفظ فعل کا اطلاق اس پر نہ کرے؛مگرا س بات کا کوئی بڑا فائدہ نہیں جس کی طرف رجوع کیا جائے۔

اس حجت سے کئی طرح پر جواب دیا جاسکتا ہے :

۱) معترض کا یہ کہنا کہ: ’’واجب الوجود لذاتہ ایک سے زیادہ ہونا ممتنع ہے۔‘‘ اگر اس سے اس کی مراد یہ ہو کہ : الٰہ ایک سے زیادہ ہونا؛ یا ایک رب سے زیادہ ہونا؛ یا ایک خالق کے علاوہ خالق کا ہونا؛ یا ایک معبود واحد کے علاوہ ہوں ؛ یا ایک حی سے زیادہ حی[زندہ] ہوں ؛ یا ایک قیوم یا ایک صمد یا ایک قائم بنفسہ ذات سے زیادہ ہونا ممتنع ہے تو اِس مراد اور معنیٰ کے اعتبار سے یہ قول صحیح ہے۔

لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس کی ایسی صفات ہوں جو اس کے ذات کے لوازم میں سے ہوں اور ان صفات کے بغیر اس کے ذات کا تحقق ممتنع ہو۔ اور اس طرح یہ بات بھی ضروری نہیں کہ وہ واجب الوجود وہی ذات ہو جو ان صفات کو مستلزم ہے۔ اور اس کے واجب الوجود ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنے ذات کی وجہ سے موجود ہے اور اس کے پر عدم طاری ہونا بالکل ممتنع ہے۔ اوراس کیلئے نہ کوئی فاعل ہے؛ اورنہ ہی کوئی ایسی چیز ہیجسے علت فاعلہکہا جائے۔ پس بنا پر اس کی صفات اس کے اسم کے مسمیٰ میں داخل ہیں اور ممکن الثبوت نہیں ؛ اس لئے کہ وہ ذات ممکن الثبوت نہیں ؛کہ وہ کبھی موجودہو اور کبھی معدوم۔ اور نہ ہی وہ فاعل کا محتاج ہے؛ اور نہ ہی علت فاعلہ کا۔بلکہ وہ تو اس ذات کے لوازم میں سے ہے جو اپنی صفات لازمہ کیساتھ واجب الوجود ہے پس مدعی کا یہ دعوی کرنا کہ صفات لازمہ ممکن الثبوت ہیں ؛ اور وہ وجودو عدم کو قبول کرتے ہیں یہ ا س دعوی کی مانندہے کہ وہ ذات ملزومہ وجود وعدم دونوں کو قبول کرتے ہیں ۔

اگر اس قول کہ ’’واجب الوجود ایک ہے ‘‘سے مراد یہ ہے کہ واجب الوجود ذات وہ ایک ایسی ذات ہے کہ جو صفات سے خالی ہے؛ تو اس اعتبار سے قول ممنوع ہے؛ نیز اس قائل نے اس پر کوئی دلیل بھی نہیں ذکرکی ۔

وجہ ثانی :.... مدعی کا یہ دعوی کرنا کہ:’’ واجب الوجود صفات سے خالی صرف ذات ہے‘‘ اوراس کی صفات تو ممکن الوجود ہیں ۔ اگر ا واجب الوجود سے اسکی مراد یہ ہے کہ کہ ا سکا عدم بغیر کسی فاعل کے فعل کے ممتنع ہے۔تو ان دونوں چیزوں کا معدوم ہوناکسی فاعل کے فعل کے بغیر ممتنع ہے۔

اگر واجب الوجود سے ا س کی مراد وہ ذات ہے جو قائم بنفسہ ہے؛ اورکسی جگہ کی محتاج نہیں ؛ تو اس کی حقیقت یہ ہوگی کہ صفات کیلئے کسی ایسے محل کا ہونا ضروری ہے جس کیساتھ وہ قائم ہو ں بخلاف ذات کے۔ لیکن یہ تو اس بات کا تقاضا نہیں کرتا کہ ممکن الثبوت کسی فاعل کا محتاج ہو۔ اور اگر ا سکی مراد واجب الوجود سے ایسی ذات ہے جس کا عدم ممکن نہ ہو۔

ممکن الوجود سے اس کی مراد وہ ہے جس کا وجود اور عدم دونوں ممکن ہوں ؛ تو یہ بات معلوم شدہ ہے کہ جیسے ذات کا معدوم ہونا ممکن نہیں ؛ ایسے ہی صفات کا معدوم ہونا ممکن نہیں ۔ (جس کو آج کل کے فلسفے میں کہتے ہیں کہ مادہ فنا نہیں ہوتا )۔پس وجود کا واجب ہونا ان دونوں کو شامل ہے۔ اور اگر واجب الوجود سے اس کی مراد وہ چیز ہے کہ جس کا کوئی لازم نہ ہوتو پھر وجود میں کوئی ایسی چیز باقی نہیں رہیگی جو واجب الوجود ہو خاص طور پر ان کے قول پر یعنی کہ وہ اپنے مفعولات کو لازم ہے پس وہ و اجب الوجود نہیں ٹھہرے گا اور ان لوگوں کے تناقضات اور ان کے متبعین کے تناقضات جیسے کہ کتاب:’’ المضنون الکبیر‘‘ کے مصنف ؛وہ واجب الوجود کی تفسیر یہ کرتے ہیں کہ وہ ایک ایسی ذات ہے جو غیر کیساتھ لازم نہیں اس سے مقصود ان کا یہ ہے کہ اس کے ذریعے وہ اللہ تعالی کی صفات لازمہ کا نفی کرتے ہیں اور وہ یہ کہتے ہیں کہ اگر ہم نے یہ کہا کہ اس کی صفات اس کی ذات کیساتھ لازم ہیں تو پھر واجب الوجود نہیں رہیگا اور پھر وہ افلاک اور اس کے علاوہ دیگر اجرام کو اس کیلئے ازلا وابداًلازم قرار دیتے ہیں اور وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ اس کے واجب الوجود ہونے کے منافی نہیں پس ا س بات سے اور بہت بڑا تناقض کون سا ہوگا ؟

تیسری وجہ :.... یہ ایسی واحد ذات جو تما م صفات سے محروم ا ور خالی ہو وہ ممتنع الوجود ہوتی ہے۔یہ مسئلہ کئی مقامات پر تفصیل سے بیان کردیا گیاہے۔ اور یہ بھی بتایاگیا ہے کہ ایسے معانی کا ثبوت ضروری ہے جو ثبوتی ہوں ؛ جیسے اس کا حی ہونا ،عالم ہونا ،قادر ہونا۔ اور یہ بات بھی ممتنع ہے کہ وہ معانی عینِ ذات ہوں ۔کیونکہ جو چیز ممتنع الوجود ہو تو اس کا واجب الوجود ہونا بھی ممتنع ہوتا ہے۔ پس انہوں نے جو اس کے واجب الووجودہونے کا گمان کیا ہے تو یہ ٍممتنع ہے۔ چہ جائیکہ یہ کہا جائے کہ وہ تو اپنے صفات کا فاعل ہے جیسے وہ اپنے مخلوقات کیلئے فاعل ہے۔ اور جس طرح وہ اپنے مخلوقات کیلئے فاعل اور مؤثر ہے؛ اس طرح وہ اپنی صفات کا متقاضی اور ان کو مستلزم اور ان میں مؤثر ہے ۔

چوتھی وجہ یہ کہنا کہ:’’حکماء کے نزدیک وہ امور اضافیہ اور سلبیہ ہیں ‘‘ تویہ ان منکرین ِصفات کی رائے پر ہیں ؛ جو ان میں سے صفات کی نفی کرنے والے ہیں جیسے ارسطو اور اس کے متبعین۔ البتہ بڑے بڑے فلاسفہ صفات کو ثابت مانتے ہیں ۔جیسا کہ کئی مقامات پر ہم اس کا ذکر کرتے آئے ہیں ۔ اور اسی طرح ان کے بہت سے متاخرین ائمہ جیسے ابوالبرکات اور اس کے امثال کا حال بھی ہے۔

صفحہ 9 از 23