مسلمانوں میں بدعات اور اہل کلام کے مذاہب کی تاریخ - ردِ…

مسلمانوں میں بدعات اور اہل کلام کے مذاہب کی تاریخ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 4

مسلمانوں میں بدعات اور اہل کلام کے مذاہب کی تاریخ 

مسلمان اس چیز پر قائم تھے جو پیغام اور دین حق دیکر اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا ۔ جوکہ صحیح منقول اور صریح معقول کے موافق تھا۔ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کردیا گیا ‘ تومسلمانوں کے درمیان فتنہ پیدا ہوا۔ مسلمانوں کے مابین صفین کے موقع پر جنگ و قتال بپا ہوئے۔ اور وہ لوگ ظہور پذیر ہوئے جن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:

’’مسلمانوں کی تفرقہ بندی کے وقت ایک فرقہ کا ظہور ہوگا ‘ اور دو گروہوں میں سے ان کو وہ لوگ قتل کریں گے جو حق کے زیادہ قریب ہوں گے۔‘‘ [مسلم ۲؍۷۴۵؛ سنن ابو داؤد ۴؍۳۰۰]

ان لوگوں کا ظہور اس وقت ہوا جب یہ دونوں مسلمان گروہ دو جرگہ داروں پر راضی ہوگئے۔اور بغیر کسی فیصلہ کے ان کا افتراق ہوگیا۔اور اس وقت سے شیعیت کی ابتداء ہوئی۔

ان لوگوں کا ظہور ہوا جو غالی شیعہ بنے ؛ جنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خدا ہونے کا دعوی کیا۔ اوروہ لوگ سامنے آئے جنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلیفہ منصوص ہونے کا دعوی کیا؛ جو ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہماکو گالی دینے لگے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان دونوں قسم کے لوگوں کو سزا دی۔خوارج سے قتال کیا ۔ اور جن لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے الہ ہونے کا دعوی کیا تھا‘ انہیں آگ میں جلادیا۔ ایک روز حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے گھر سے باہر نکلے ؛ تو جو لوگ آپ کو خدا سمجھتے تھے ‘ انہوں نے آپ کو سجدہ کیا ۔ آپ نے ان سے پوچھا یہ کیا ہے ؟ کہنے لگے : تم وہی ہو۔ آپ نے پوچھا:میں کون ہوں ؟ کہنے لگے : ’’ آپ وہ معبود ہیں جس کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ۔‘‘

آپ نے فرمایا: ’’ تمہارے لیے ہلاکت ہو ‘ ایسے کہنا کفر ہے ۔ اپنی بات سے رجوع کرو ‘ ورنہ میں تمہاری گردنیں ماردوں گا۔‘‘

دوسرے دن بھی ان لوگوں نے ایسے ہی کیا۔ تیسرے دن بھی ایسے ہی کیا ۔ آپ نے تین دن تک انہیں مہلت دی۔ اس لیے کہ مرتد کو توبہ کرنے کے لیے تین دن کی مہلت دی جاتی ہے ۔ جب انہوں نے اپنے قول سے رجوع نہیں کیا تو آپ نے آگ جلانے کا حکم دیا۔یہ خندقیں باب کندہ کے پاس کھودی گئیں ۔ اور ان لوگوں کو اس آگ میں ڈال دیا گیا۔

اس موقع پر آپ نے وہ مشہور شعر کہا:

فلما رأیت الامر أمراً منکراً أججت ناری و دعوت قنبرا

ان لوگوں کو قتل کرنا بالاتفاق واجب تھا۔ لیکن ان کو آگ سے جلانے میں علماء کرام کا اختلاف تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ یہ سمجھتے تھے کہ انہیں آگ میں جلا دیا جائے ۔ جب کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہمااور دوسرے فقہاء کا خیال اس کے خلاف تھا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے:

’’ اگر میں اس جگہ پر ہوتا [یا میرا بس چلتا ] تو میں انہیں آگ میں نہ جلاتا ‘ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ : ’’ کوئی بھی اللہ کے عذاب سے مخلوق کو عذاب نہ دے ۔‘‘میں ان کی گردنیں مار دیتا۔ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ’’ جو کوئی اپنے دین کو بدل ڈالے اسے قتل کردو۔‘‘ [یہ حدیث بخاری میں ۹؍۱۵پر ہے۔ ]

رہ گئے سبُّ و شتم کرنے والے ‘ جو کہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کو گالیاں دیتے ہیں ؛ ان کے بارے میں جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خبر پہنچی تو آپ نے ابن سوداء [عبد اللہ ابن سباء شیعیت کے موجد اعلی] کو بلا بھیجا؛ جس کے بارے میں آپ کو یہ شکایت ملی تھی۔آپ اس کو قتل کرنا چاہتے تھے ‘ مگر وہ قرقیسیا کی طرف بھاگ نکلا۔

رہ گئے مفضلہ ؛ جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جناب حضرت ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہماپر فضیلت دیتے ہیں ‘ ان کے متعلق آپ سے روایت کیا گیا ہے کہ آپ نے فرمایا: ’’ جب بھی کوئی ایسا انسان میرے پاس لایا جائے گا جو مجھے حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہماپر ترجیح دیتا ہو ؛ تو میں اسے بہتان گھڑنے والی کی حد لگاؤں گا؛ [یعنی اسی کوڑے مارے جائیں گے]۔

آپ سے تواتر کے ساتھ منقول ہے کہ آپ نے کوفہ کے منبر پر ارشاد فرمایا:

’’ آگاہ ہوجاؤ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس امت کے سب سے بہترین فرد حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما ہیں ۔‘‘

یہ بات آپ سے تقریباً اسی اسناد کیساتھ روایت کی گئی ہے۔ اسے امام بخاری اور دوسرے لوگوں نے بھی روایت کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پہلے شیعہ بالاتفاق حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہماکو حضرت علی رضی اللہ عنہ پر ترجیح دیتے تھے۔جیسا کہ کئی لوگوں نے روایت کیا ہے۔

پس یہ دو بدعتیں یعنی خوارج اور شیعہ کی بدعت یہ اس وقت پیدا ہوئی جب کہ فتنہ واقع ہوا۔ پھر صحابہ کرام کے زمانے کے بالکل آخر میں قدریہ اور مرجئہ کا فتنہ پیدا ہوا حضراتِ صحابہ اور تابعین نے اس پر نکیر فرمائی جیسے عبد اللہ ابن عمر ،عبد اللہ ابن عباس،جابر ابن عبد اللہ اور واثلہ بن اثقع رضی اللہ عنہ۔

پھر تابعین کے زمانے کے بالکل اواخر میں اور دوسری صدی کے اوائل میں جہمیہ جو کہ صفات کے منکر تھے ان کا فتنہ پیدا ہوا اور سب سے پہلے جس نے اس فتنہ کا کھل کر اظہار کیا وہ جعد ابن درہم تھا ،خالد ابن عبد اللہ قسری نے اس کو بلایا اور مقامِ واسط میں چاشت کے وقت اور یوم النحر میں لوگوں کے سامنے خطبہ دیا اور کہا اے لوگو! قربانی کرو اللہ تعالیٰ تمہاری قربانی کو قبول کرے آج کے دن میں جعد ابن درہم کی قربانی کرتا ہوں ۔

بے شک یہ آدمی یہ گمان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خلیل نہیں بنایا اور موسیٰ علیہ السلام سے کلام نہیں فرمایا اور اللہ تعالیٰ اس بات سے بہت ہی بلند اوربرتر ہیں جو کہ جعد کہتا ہے اور پھر منبر سے اترے اور اس کو ذبح کر دیا۔

صفحہ 1 از 4