مسلمانوں میں بدعات اور اہل کلام کے مذاہب کی تاریخ - ردِ…

مسلمانوں میں بدعات اور اہل کلام کے مذاہب کی تاریخ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 4

پھر اس مذہب کے ساتھ جہم بن صفوان ظاہر ہوا۔ اور اس کے بعد اس مذہب میں معتزلہ داخل ہوئے اور یہ وہ پہلے لوگ تھے جن سے یہ مذہب منقول ہوا اہل اسلام میں سے یعنی اہل اسلام میں سے سب سے پہلے معتزلہ نے اس مذہب کو اختیار کیا یقیناً انہوں نے عالم کے حدوث کو ثابت کیا حدوث اجسام کے ساتھ اور انہوں نے اجسام کے حدوث کو ثابت کیا ان اشیاء کے حدوث کے ساتھ جو اس کے ساتھ مستلزم ہیں یعنی اعراض اور انہوں نے کہا کہ اجسام اپنے اعراض محدثہ سے بالکل جدا نہیں ہوتے اور جو شے حوادث سے جدا نہ ہو یا جو شے حوادث سے سابق نہ ہو تو وہ بھی حادث ہوتا ہے اس لیے کہ ایسے حوادث ممتنع ہیں جن کے لیے کوئی اول نہ ہو یعنی وہ ازلی ہوں ۔

پھر بعد میں وہ اس اصل سے پھر گئے۔ اور جو انہوں نے ماضی میں حوادث کے دوام کے امتنا ع کا عقیدہ اختیار کیا تھا تو مستقبل میں حوادث کے دوام سے ان کے ساتھ معارضہ کیا گیا۔پس اس طریقے کے دو اماموں نے اس اصل اور اس قاعدے کو چھوڑ دیا جو کہ جہمیہ کے امام جہم بن صفوان اور ابو الہذیل علاف ہیں جو کہ معتزلہ کے امام ہیں اور انہوں نے مستقبل اور ماضی دنوں میں حوادث کے دوام کے امتناع کا قول اختیار کیا ۔

پھر جہم نے تو یہ کہا کہ جب معاملہ اس طرح ہے لہٰذا جنت اور نار کی فنا لازم آئے گی اور بے شک یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ کے ماسوا سب کچھ معدوم ہو جائے گا جس طرح کے پہلے معدوم تھے اور یہ ایک ایسی بات ہے جس کا سلف نے اور آئمہ نے جہمیہ پر نکیر فرمائی ہے اور حضرات سلف اور آئمہ نے اس بات کو ان کے کفر میں سے شمار کیا ہے اور انہوں نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا تو ارشاد یہ ہے کہ:

﴿ إِنَّ ہَذَا لَرِزْقُنَا مَا لَہُ مِن نَّفَادٍ ﴾( ص ۵۴ )

’’بلاشبہ یقیناً یہ ہمارا رزق ہے، جس کے لیے کسی صورت ختم ہونا نہیں ہے۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ:

﴿ أُکُلُہَا دَآئِمٌ وِظِلُّہَا﴾(سورۃ رعد ۳۵ )

’’ان کا پھل بھی دائمی ہے اور سایہ بھی۔‘‘

اور اس کے علاوہ دیگر وہ نصوص جو کہ جنت کی نعمتوں کے بقاء پر دلالت کرنے والے ہیں ۔

لہٰذا ابو الہذیل علاف نے کہا یقیناً دلیل تو صرف حوادث کے انقطاع پر دلالت کرتی ہے۔ لہٰذا جنت اور جہنم کی بقا تو ممکن ہے لیکن حرکات منقطع ہو جائیں گی۔ لہٰذا اہل جنت اور اہل نار باقی رہیں گے۔ اس حال میں کہ یہ اس میں سکون اور بے حرکت حالت میں ہونگے ،اس میں بالکل حرکت نہیں ہوگی۔ اور ایسی کوئی شے بھی نہیں ہوگی جو نئی پیدا ہو تو اس پراس قول کے مطابق یہ بات لازم آتی ہے کہ وہ ایسے اجسام کو ثا بت کرے جو باقی اوردائم رہیں اوروہ حوادث سے خالی ہوں پس ایسے اجسام کا وجود لازم آئے گا جو بغیر حوادث کے ہوں ۔ لہٰذا وہ اصل جس پر انہوں نے اپنے مذہب کی بنیاد رکھی تھی وہ منقوض ہو جائے گا اور وہ یہ ہے کہ اجسام حواد ث سے خالی نہیں ہوتے یہی وہ اصل ہے جس پر ہشام بن عقیل ،ہشام بن سالم الجوالیقی اور ان کے علاوہ دیگر وہ لوگ جو مجسمہ اور رافضہ میں سے ہیں اور غیر رافضہ میں سے کرامیہ نے بھی اپنے مذہب کی بنیاد اس پررکھی ہے ۔

پس ان کا عقیدہ ہے کہ ایک ایسے جسم قدیمِ ازلی کا ثبوت بالکل ممکن جس کے وجود کے لیے کوئی اول نہ ہو اور وہ تمام حوادث سے خالی ہو۔ اور ان لوگوں کے نزدیک جسم قدیمِ ازلی حوادث سے خالی ہو سکتا ہے ۔رہے وہ اجسام جو مخلوق ہیں تو وہ حوادث سے خالی نہیں ہوتے اور وہ یہ کہتے ہیں کہ جو شے حوادث سے خالی نہ ہو وہ حادث ہوتی ہے لیکن وہ یہ نہیں کہتے کہ ہر جسم حوادث سے خالی نہیں ہوتا ۔

پھر یہ جہمیہ جو ایسے اصل کو اختیار کرنے والے ہیں جو ایک مبتدع اور انوکھا اصل ہے یہ اس بات کی طرف محتاج ہیں کہ وہ اس اصل کو چھوڑ دیں پس انہوں نے یہ کہا کہ رب تعالیٰ کی ذات کے ساتھ صفات قائم نہیں نہ افعال اس لیے کہ وہ اعراض اور حوادث ہیں اور یہ تو صرف کسی جسم کے ساتھ قائم ہو سکتے اور اجسام تو محدث ہوتے ہیں پس لازم آئے گا کہ رب تعالیٰ کے ساتھ اس کی علم اوراس کی قدرت اوراس کی مشیت اور اس کی رحمت اور اس کی غضب اور اس کے علاوہ دیگر صفات قائم نہ ہوں بلکہ سارے کے سارے وہ صفات جس سے اس کی ذات کو موصوف کیا جاتا ہے وہ ساری صفات مخلوق اور اس کی ذات سے منفصل ٹھہریں گی ۔

جہمیہ تو یہ کہتے ہیں کہ ہمارا قول تو یہ ہے کہ بے شک اللہ تعالیٰ متکلم ہے لیکن یہ مجاز ہے اور معتزلہ نے کہا کہ وہ متکلم بالمعنی الحقیقی ہے لیکن معنی ان دونوں کا ایک ہی ہے دونوں فرقوں کی بات کامحل ایک ہی ہے پس ان لوگوں کی اصل وہی مادہ ہے جس کی بنیاد پر یہ بدعت پیدا ہوئی ہیں پس ابن کلاب ان کے بعد آیا جب کہ محنت کا فتنہ ظاہر ہوا جو مشہور فتنہ ہے اور اس میں امام احمد اور اس کے علاوہ آئمہ سنت میں سے ان کو انتہائی مشقت اور تکالیف سے ان کو آزمایا گیا اور اللہ تعالیٰ نے امام احمد بن حنبل کو ثابت قدم رکھا اور اس کے علاوہ بھی بہت سے امور کثیرہ اور واقعاتِ کثیرہ پیش آئے جو معروف ہیں اور امت میں ان مسائل میں نزاع اور اختلاف پیدا ہوا پس ابو محمد عبد اللہ بن سعید بن کلا ب بصری کھڑا ہوا اور انہوں نے جہمیہ اور معتزلہ کے اوپر رد میں کئی تصنیفیں لکھیں اور ان کے تناقض کو بیان کیا اور ان کی بہت سی پوشیدہ باتوں سے پردہ چاک کیا لیکن اس شخص نے رد کرنے کے باوجود ان کے اس اصل اور بنیاد کو نہیں چھیڑا اور نہ اس کو رد کیا جو بدعات کا سرچشمہ ہے پس اس بنیاد پر یہ شخص یعنی عبد اللہ بن سعید بصری اس بات کی طرف محتاج ہوا کہ وہ یہ کہے کہ رب تعالیٰ کی ذات کیساتھ امورِ اختیاریہ قائم نہیں ہوتے اور نہ وہ اپنے مشیت اور قدرت کے ساتھ کلام کرتا ہے اور نہ اللہ تعالیٰ نے طور میں موسیٰ علیہ السلام کو آواز دی ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی ندائے حقیقی قائم ہوتی ہے اور بندوں کا ایمان اور ان کا عملِ صالح اُس کی رضا مندی اور محبت کا سبب بنتا ہے۔

نہ ان لوگوں کا کفر اللہ کی ناراضگی اور غضب کا سبب ہے پس ان کے اعمال کے بعد تو نہ کوئی محبت اور رضا ہے اور نہ کوئی ناراضگی اور نہ کوئی خوشی اور نہ اس کے علاوہ وہ امور ہیں جن کا نصوصِ قرآن و سنت نے خبر دی ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ :

صفحہ 2 از 4