مسلمانوں میں بدعات اور اہل کلام کے مذاہب کی تاریخ - ردِ…

مسلمانوں میں بدعات اور اہل کلام کے مذاہب کی تاریخ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 4

﴿قُلْ إِن کُنتُمْ تُحِبُّونَ اللّہَ فَاتَّبِعُونِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّہُ﴾(آل عمران ۳۱)

’’کہہ دے اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمھیں تمھارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔‘‘

نیز اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿ ذَلِکَ بِأَنَّہُمُ اتَّبَعُوا مَا أَسْخَطَ اللَّہَ وَکَرِہُوا رِضْوَانَہُ فَأَحْبَطَ أَعْمَالَہُمْ﴾( محمد ۲۸)

’’یہ اس لیے کہ بے شک انھوں نے اس چیز کی پیروی کی جس نے اللہ کو ناراض کر دیا اور اس کی خوشنودی کو برا جانا تو اس نے ان کے اعمال ضائع کر دیے۔‘‘

سورۃزخرف میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :

﴿ فَلَمَّا آسَفُونَا انتَقَمْنَا مِنْہُمْ فَأَغْرَقْنَاہُمْ أَجْمَعِیْنَ ﴾( زخرف۵۵) 

’’پھر جب انھوں نے ہمیں غصہ دلایا تو ہم نے ان سے انتقام لیا، پس ہم نے ان سب کو غرق کر دیا۔‘‘

سورۃ زمرمیں ارشاد ہے :

﴿ إِن تَکْفُرُوا فَإِنَّ اللَّہَ غَنِیٌّ عَنکُمْ وَلَا یَرْضَی لِعِبَادِہِ الْکُفْرَ وَإِن تَشْکُرُوا یَرْضَہُ لَکُمْ﴾(زمر ۷)

’’ اگر تم نا شکری کر و تو یقیناً اللہ تم سے بہت بے پروا ہے اور وہ اپنے بندوں کے لیے ناشکری پسند نہیں کرتااوراگر تم شکر کرو تووہ اسے تمھارے لیے پسندکرے گا۔‘‘

سورۃ آل عمران میں ارشادہے :

﴿إِنَّ مَثَلَ عِیْسَی عِندَ اللّہِ کَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَہُ مِن تُرَابٍ ثِمَّ قَالَ لَہُ کُن فَیَکُونُ ﴾( آل عمران ۵۹)

’’ بے شک عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک آدم کی مثال کی طرح ہے کہ اسے تھوڑی سی مٹی سے بنایا، پھر اسے فرمایا ہو جا، سو وہ ہو جاتا ہے۔‘‘

سورۃ الأعراف میں ارشادہے :

﴿وَلَقَدْ خَلَقْنَاکُمْ ثُمَّ صَوَّرْنَاکُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلآئِکَۃِ اسْجُدُواْ لآدَمَ﴾ [الاعراف:۱۱]

’’اور بلاشبہ یقیناً ہم نے تمھارا خاکہ بنایا، پھر ہم نے تمھاری صورت بنائی، پھر ہم نے فرشتوں سے کہا آدم کو سجدہ کرو۔‘‘

اس کے علاوہ کتاب و سنت کے وہ نصوص جو شمار سے باہر ہیں اور قرآن و حدیث میں تقریباً دو سو تک ان کا عدد پہنچتا ہے جس طرح کہ اس مقام کے علاوہ کسی اورجگہ پر ہم نے اس کا ذکر کیا ہے اور ہم نے وہاں سلف اور خلف کا اس اصل کے بارے میں کلام کو ذکر کیا ہے اور ہم نے فلاسفہ میں قدماء کا مذہب بھی ذکر کیا ہے اور اس اصل کے بارے میں ان کے بڑے بڑے عالموں کی موافقت کو بھی بیان کیا ہے۔

پھر اسی کی وجہ سے قرآن کے مسئلے میں بھی لوگوں میں اختلاف ہوا پس ابن کلاّب اور اس کے متبعین اس بات کی طرف محتاج ہوئے کہ وہ یہ کہیں کہ وہ قدیم ہیں اور اللہ کی ذات کے ساتھ لازم ہیں اور یقیناً اللہ تعالیٰ نے اپنی مشیت اور قدرت کے ساتھ کلام نہیں کیا اور انہوں نے اس تمام کلام کو جس پراللہ تعالیٰ متکلم ہیں اس کو قدیم العین قرار دیا اور انہوں نے یہ نہیں کہا کہ وہ اپنی مشیت اور قدرت کے ساتھ ازلاً اور ابداً متکلم ہیں اور یقیناً اس کا کلام اس معنی پر قدیم ہے کہ وہ ازل سے قدیم النوع ہے اللہ تعالیٰ اپنی مشیت کے ساتھ متکلم ہیں جس طرح کہ سلف اور ائمہ نے فرمایا ۔

پھر انہوں نے یہ کہا کہ وہ تو قدیم العین ہے اور پھر وہ دو جماعتوں میں بٹ گئے :

ایک جماعت نے کہا کہ یہ بات ممتنع ہے کہ وہ (اللہ کا کلام )حروف اور اصوات قدیم ہوں باوجود اس کے کہ ان کی بقا ممتنع ہے اور ان کا دھیرے دھیرے موجود ہونا بھی اس لیے ہے کہ جو شے مسبوق بالغیر ہو وہ قدیم نہیں ہوسکتی وہ تو معنی ہے اور ایسے معانی کا وجود بھی ممتنع ہے جس کے لیے کوئی انتہانہ ہو آنِ واحد میں یعنی آن واحد میں وجود ممتنع ہے اور ایک عدد کو چھوڑ کر دوسرے عدد کے ساتھ تخصیص کے لیے کوئی موجِب نہیں (یعنی کوئی سبب نہیں )پس قدیم تو ایک معنی واحد ہے جوہر مامور کو امر دینا اور مخبر کے بارے میں خبر دینا ہے اور وہی معنی تورات انجیل اور قرآن کا ہے اور وہی آیت الکرسی کا معنی ہے اور دین کی آیت (یعنی دین کے احکام پر مشتمل آیت )کا معنی ہے اور قل ھو الاحد کا بھی ایک معنی ہے اور سورۃ فلق کا معنی ہے ۔

انہوں نے اس بات کا انکار کیا کہ وہ کلامِ عربی جو ہم پڑھتے ہیں یہ کلام اللہ ہو دوسری جماعت نے کہا کہ حروف یا حروف اور اصوات دونوں قدیم اور ازلیۃ الاعیان ہیں یعنی اپنی ذات کے اعتبار سے ازلی ہیں ،انہوں نے کہا کہ ان کی ذات میں ترتیب ہے وجود میں ترتیب نہیں اور انہوں نے حقیقت اور وجودِ حقیقت کے درمیان فرق کر دیا جس طرح کہ اہل کلام میں سے بہت سے لوگ اللہ کے وجود اور اس کی حقیقت کے درمیان فرق کرتے ہیں اوربہت سے ان میں سے اورفلاسفہ میں سے بھی ممکنات کے وجود اور ان کی حقیقتوں کے درمیان فرق کرتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ ترتیب ان کی حقائق میں ہے نہ کہ ان کے وجود میں بلکہ وہ تو ازلاً و ابداً موجود ہیں اور ان میں سے کوئی شے بھی ایسی نہیں جو دوسرے سے سابق ہو یعنی سب آنِ واحد میں موجود ہیں اگرچہ ان کے حقائق ترتیبِ عقلی کے ساتھ مرتب ہیں جس طرح کہ ذا ت کی صفات پر ترتیب اور تقدیم ہے اور جیسے کہ معلول کی علت پر تقدیم ہے جس طرح کہ وہ فلاسفہ اس کے قائل ہیں جو قدمِ عالم کے قائلین ہیں چنانچہ انہوں نے کہا کہ رب تعالیٰ پورے عالم پر اپنی ذات اور حقیقت کے اعتبار سے متقدم ہیں اور وہ عالم پر تقدمِ زمانی کے اعتبار سے متقدم نہیں اور انہوں نے اللہ کے بعض کلام پر بعض کے تقدم کے بارے میں اُسی طرح بات کہی جس طرح کہ لوگوں نے اس کے معلول پر تقدم کے بارے میں کہی اور یہ لوگ تقدم اور تاخر اور ترتیب کو دو قسم پر قرار دیتے ہیں :ایک عقلی دوسرا وجودی ۔اور وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے جس ترتیب سے تقدم او ر تاخر کو ثابت کیا ہے وہ عقلی ہے وجودی نہیں ۔

صفحہ 3 از 4