مسلمانوں میں بدعات اور اہل کلام کے مذاہب کی تاریخ - ردِ…

مسلمانوں میں بدعات اور اہل کلام کے مذاہب کی تاریخ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 4

رہے جمہورِ عقلاء تو وہ اس بات کا انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان لوگوں کا یہ قول تو معلول الفساد ہے بداہۃاور یقیناً ،ترتیب اور تقدم وتاخر تو صرف اور صرف اِسی سے عبارت ہے کہ ایک شے دوسرے کے بعد موجود ہوتا ہے اور یہ اس صورت میں ممکن نہیں کہ اس کو اس کے ساتھ حسی طور پر معیت حاصل ہو الا یہ کہ وہ اس کے بعد ہی ہو تب تو تقدم وتاخر متحقق ہوگا جس طرح کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ معلول صرف علت کے بعد ہی موجود ہوتا ہے اور وہ اس کے ساتھ ملا ہوا نہیں ہوتا یعنی اس کی اس کے ساتھ معیت نہیں ہوتی اور یہ امور اس مقام کے علاوہ تفصیل سے بیان ہوئے ہیں لیکن یہاں پر اس میں سے صرف اتنی بات ذکر کر دی گئی ہے جو آسانی سے سامنے آئی اور مقصود تو یہ ہے کہ یہ کلامی طریقہ جس کو جہمیہ اور معتزلہ نے عقل سے بنا کرنکالا ہے اور امت کے سلف نے اور آئمہ نے اس کا انکار فرمایا ہے تو یہ بہت سے متاخرینِ اہل نظر کے نزدیک دینِ اسلام ہی ٹھہرا بلکہ وہ تو اس بات کا عقیدہ رکھتے ہیں کہ جو اس کی مخالفت کرے تو دینِ اسلام کی مخالفت کرنے والا ہے باوجود یکہ اس نے اس میں موجود حکمتوں میں سے کوئی حکمت نہیں بیان کی اور نہ کوئی کتاب اللہ اورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کی طرف سے منقول خبر کی کوئی دلیل ،پس وہ کیسے دینِ اسلام ٹھہرے گا بلکہ دینِ اسلام کے اصولوں میں سے کوئی اصل بھی ایسی نہیں جس پر کوئی کتاب یا سنت یا سلف میں سے کسی کا قول دلیل ہو ۔


صفحہ 4 از 4