حضرت خالد بن ولید اور ابوعبیدہ رضی اللہ عنہما کے درمیان گفتگو
علی محمد الصلابیجب خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو اپنی معزولی کا علم ہوا تو حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: اللہ آپ کو معاف فرمائے، امیرالمومنینؓ کی طرف سے آپ کی امارت کی نامزدگی کا خط جب آپ کے پاس آیا تو آپ نے مجھے کیوں نہیں بتایا اور میرے پیچھے نماز پڑھتے رہے، حالانکہ قیادت آپ کی ہے؟ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: آپ کو بھی اللہ معاف فرمائے۔ میں آپ کو اس وقت تک خود نہیں بتانا چاہتا تھا جب تک کہ کوئی دوسرا آپ کو نہ بتا دے۔ آپ کے ہاتھوں جنگی فتوحات کا جو سلسلہ چل رہا تھا میں اسے منزل تک پہنچنے سے پہلے منقطع نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس کے بعد میں آپ کو بتاتا، میں دنیا کا اقتدار نہیں چاہتا اور نہ دنیا کے لیے یہ سب کر رہا ہوں، جو کچھ آپ دیکھ رہے ہیں سب کا انجام زوال و خاتمہ ہے۔ ہم سب آپس میں بھائی ہیں اور اللہ کے دین کو قائم کرنے والے ہیں، ایک انسان کے لیے اس میں کوئی نقصان نہیں ہے کہ اس کا بھائی دین و دنیا میں اس کے قریب رہے۔ ہر حاکم اچھی طرح جانتا ہے کہ دین و دنیا دونوں میں وہ فتنہ کے زیادہ قریب اور غلطیوں میں زیادہ واقع ہونے والا ہے۔ اس لیے کہ اس کے سامنے اسباب ہلاکت بار بار آتے ہیں۔ اس مصیبت سے وہی بچ سکتا ہے جسے اللہ اپنی رحمت خاص سے بچا لے اور ایسے لوگ بہت تھوڑے ہیں۔ اس کے بعد حضرت ابوعبیدہؓ نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا خط حضرت خالد بن ولیدؓ کے ہاتھوں میں دے دیا۔
(تاریخ دمشق: جلد 2 صفحہ 126)