فلاسفہ کا ظہور - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فلاسفہ کا ظہور

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 2

فلاسفہ کا ظہور 

پھر اس کے بعد اسلام میں ملحد فلاسفہ اوران کے علاوہ دیگر پیدا ہوئے اور وہ ان زمانوں کے اختتام کے بعد پھیل گئے اورپیدا ہوئے جن کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیر کی گواہی دی تھی اور پھر ہر ایسا زمانہ اور مکان جس میں اسلام کا نور ضعیف ہوتا جاتا تھا تو اس میں ان کو غلبہ حاصل ہوتا اور وہ اس میں ظاہر ہوتے اور ان کے ظہور کے اسباب میں سے یہ ہے کہ انہوں نے یہ گمان کیا کہ دین اسلام تو وہ نہیں جویہ مبتدعین کہتے ہیں اور انہوں نے اس کو عقلی فساد سمجھ لیا پس انہوں نے معروف دینِ اسلام کو عقلی اعتبار سے فاسد اور غلط سمجھ لیا پس ان کی اولاد نے بھر پور طریقے سے زبان اور ہاتھ دونوں کے ذریعے اسلام کے دین میں طعن اور اعراضات کئے جیسے کہ خرمیہ جو کہ بابک الخرمی کے پیروکار ہیں اور بحرین کے قرا مطہ جو ابو سعید جنابی کے پیروکارہیں اور ان کے علاوہ دیگر۔

رہے وہ لوگ جو ان میں سے اعتدال پسند تھے وہ ان کے عقلاء تھے انہوں نے یہ خیال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو خیر اور صلاح لے کر آئے ہیں یہ ایسے امور ہیں کہ ان میں اندر قدح اور اعتراض ممکن نہیں بلکہ ان کے ماہرین اور عقلمندوں نے تو اس بات کا اعتراف کیا جس کا ابن سینا اور ان کے علاوہ دیگر نے بھی اعتراف کیا ہے یعنی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی اور شخص نے پورے عالم کو نہیں کھٹکایا یعنی اس میں انقلاب نہیں پیدا کیا اور یہ ان کے عقل اور فلسفہ کے بسبب تھا پس بے شک انہوں نے یونان کی بڑی شخصیات میں غور کیا تو انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ وہ دین جس کو موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام لے کر آئے ہیں ان لوگوں کے ادیان اور ان کی دین سے بہت بڑھ کر ہے اور اسی وجہ سے جب عیسیٰ علیہ السلام کا علم روم پہنچا تو وہ یونانی فلسفہ سے دین مسیح کی طرف منتقل ہوئے اور ارسطودین مسیح سے تین سو سال پہلے گزر ا تھا اور وہ اس اسکند بن فیلبس مقدونی کا وزیر تھاجو اہل فارس پر غالب آیا تھا اور یہ وہی ہے جس کی وجہ سے آج رومِ تاریخ (شمسی حساب )سے حساب کیا جاتا ہے اور یہود و نصاریٰ اس سے حساب کرتے ہیں اوریہ وہ اسکندر نہیں ہے جو ذوالقرنین ہے جس کا ذکر قرآن میں ہے جس طرح کہ ایک گروہ کا گمان ہے کیوں کہ وہ تو اس سے مقدم ہے یہ متقدم یعنی سکندر قدیم وہی ہے جس نے یاجوج اور ماجوج کا سد بنایا تھا یعنی اس کی دیوار کو بنایا تھا اور یہ (مقدونی ذوالقرنین)اس سد تک پہنچا نہیں اور یہ تو مسلمان موحد تھا اور مقدونی تو مشرک تھا یہ اور اس کے علاقے کے لوگ یونانیین مشرک تھے جوستاروں اور بتوں کی عبادت کرتے تھے ۔

بتحقیق کہا گیا ہے کہ ان کا آخری بادشاہ بطلیموس جو مجوسی تھا ؛ اس کے بعدلوگوں نے دین مسیح اختیار کرلیا ؛ اس لیے کہ وہ علم جس کے ساتھ مسیح یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو مبعوث کیا گیا تھا وہ زیادہ عظیم اور زیادہ جلیل الشان تھا بلکہ نصاریٰ تو دین مسیح کو بدلنے کے باوجود ہدایت اور دین ِ حق کے نسبتاًزیادہ قریب تھے ان فلاسفہ کی بہ نسبت جو مشرکین تھے اور ان لوگوں کا شرک ایسا تھا جس نے دینِ مسیح کو فاسد اور خراب کر دیاتھا جس طرح کہ اہل علم میں سے ایک گروہ نے ذکر کیا ہے انہوں نے کہا کہ وہ لوگ اصنام کی عبادت کرتے تھے ،شمس ،قمر اور کواکب کی عبادت کرتے تھے ،ان کے سامنے سجدہ لگاتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے مسیح کو دینِ اسلام دے کر بھیجا ہے جس طرح کے باقی رسول کو دین اسلام دے کر بھیجا ہے اور وہ اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت ہے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :

﴿ واسْأَلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِکَ مِن رُّسُلِنَا أَجَعَلْنَا مِن دُونِ الرَّحْمَنِ آلِہَۃً یُعْبَدُونَ ﴾ (زخرف :۴۵)

’’اور ان سے پوچھ جنھیں ہم نے تجھ سے پہلے اپنے رسولوں میں سے بھیجا، کیاہم نے رحمان کے سوا کوئی معبود بنائے ہیں ، جن کی عبادت کی جائے؟۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِکَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِیْ إِلَیْْہِ أَنَّہُ لَا إِلَہَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ﴾ (انبیاء :۲۵)

’’اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی طرف یہ وحی کرتے تھے کہ بے شک حقیقت یہ ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ، سو میری عبادت کرو۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ کُلِّ أُمَّۃٍ رَّسُولاً أَنِ اعْبُدُواْ اللّہَ وَاجْتَنِبُواْ الطَّاغُوتَ فَمِنْہُم مَّنْ ہَدَی اللّہُ وَمِنْہُم مَّنْ حَقَّتْ عَلَیْْہِ الضَّلالَۃُ....﴾ [نحل: ۳۶ ]

’’اوریقیناً ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو، پھر ان میں سے کچھ وہ تھے جنھیں اللہ نے ہدایت دی اور ان میں سے کچھ وہ تھے جن پر گمراہی ثابت ہوگئی۔‘‘

بالتحقیق اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح ابرہیم موسیٰ اور عیسیٰ بن مریم علیہم السلام اور ان کے علاوہ دیگر رسولوں اور مومنین کے بارے میں جو کہ حوارین کے زمانے تک گزرے ہیں ان کے بارے میں یہ خبر دی کہ ان کا دین تو اسلام تھا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ۔ حضرت نوح علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:

﴿[ وَاتْلُ عَلَیْْہِمْ نَبَأَ نُوحٍ إِذْ قَالَ لِقَوْمِہِ یَا قَوْمِ ] إِن کَانَ کَبُرَ عَلَیْْکُم مَّقَامِیْ وَتَذْکِیْرِیْ بِآیَاتِ اللّہِ فَعَلَی اللّہِ تَوَکَّلْتُ فَأَجْمِعُواْ أَمْرَکُمْ وَشُرَکَاء کُمْ ثُمَّ لاَ یَکُنْ أَمْرُکُمْ عَلَیْْکُمْ غُمَّۃً ثُمَّ اقْضُواْ إِلَیَّ وَلاَ تُنظِرُونِ 0فَإِن تَوَلَّیْْتُمْ فَمَا سَأَلْتُکُم مِّنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِیَ إِلاَّ عَلَی اللّہِ وَأُمِرْتُ أَنْ أَکُونَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ ﴾( یونس: ۷۱،۷۲) 

صفحہ 1 از 2