فلاسفہ کا ظہور - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فلاسفہ کا ظہور

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 2

’’اور ان پر نوح کی خبر پڑھ، جب اس نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم! اگر میرا کھڑا ہونا اور اللہ کی آیات کے ساتھ میرا نصیحت کرنا تم پر بھاری گزرا ہے تو میں نے اللہ ہی پر بھروسا کیا ہے، سو تم اپنا معاملہ اپنے شرکا کے ساتھ مل کر پکا کر لو، پھر تمھارا معاملہ تم پر کسی طرح مخفی نہ رہے، پھر میرے ساتھ کرگزرو اور مجھے مہلت نہ دو۔پھر اگر تم منہ موڑ لو تو میں نے تم سے کوئی مزدوری نہیں مانگی، میری مزدوری نہیں ہے مگر اللہ پر اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں فرماں برداروں سے ہوجاؤں ۔‘‘

اور حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ وَمَن یَرْغَبُ عَن مِّلَّۃِ إِبْرَاہِیْمَ إِلاَّ مَن سَفِہَ نَفْسَہُ وَلَقَدِ اصْطَفَیْْنَاہُ فِیْ الدُّنْیَا وَإِنَّہُ فِیْ الآخِرَۃِ لَمِنَ الصَّالِحِیْنَ oإِذْ قَالَ لَہُ رَبُّہُ أَسْلِمْ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِیْنَ oوَوَصَّی بِہَا إِبْرَاہِیْمُ بَنِیْہِ وَیَعْقُوبُ یَا بَنِیَّ إِنَّ اللّہَ اصْطَفَی لَکُمُ الدِّیْنَ فَلاَ تَمُوتُنَّ إَلاَّ وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ oأَمْ کُنتُمْ شُہَدَاء إِذْ حَضَرَ یَعْقُوبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِیْہِ مَا تَعْبُدُونَ مِن بَعْدِیْ قَالُواْ نَعْبُدُ إِلَـہَکَ وَإِلَـہَ آبَائِکَ إِبْرَاہِیْمَ وَإِسْمَاعِیْلَ وَإِسْحَاقَ إِلَـہاً وَاحِداً وَنَحْنُ لَہُ مُسْلِمُونَ ﴾( البقرہ :۱۳۰۔۱۳۳ )

’’اور ابراہیم کی ملت سے اس کے سوا کون بے رغبتی کرے گا جس نے اپنے آپ کو بے وقوف بنا لیا، اور بے شک ہم نے اسے دنیا میں چن لیا اور بلا شبہ وہ آخرت میں یقیناً صالح لوگوں سے ہے۔جب اس سے اس کے رب نے کہا فرماں بردار ہو جا، اس نے کہا میں جہانوں کے رب کے لیے فرماں بردار ہوگیا۔اور اسی کی وصیت ابراہیم نے اپنے بیٹوں کو کی اور یعقوب نے بھی۔ اے میرے بیٹو! بے شک اللہ نے تمھارے لیے یہ دین چن لیا ہے، تو تم ہر گز فوت نہ ہونا مگر اس حال میں کہ تم فرماں بردار ہو۔‘‘

اور حضرت موسی کلیم اللہ علیہ السلام کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَقَالَ مُوسَی یَا قَوْمِ إِن کُنتُمْ آمَنتُم بِاللّہِ فَعَلَیْْہِ تَوَکَّلُواْ إِن کُنتُم مُّسْلِمِیْنَ﴾( سورۃ یونس :۸۴) 

’’اور موسیٰ نے کہا اے میری قوم! اگر تم اللہ پرایمان لائے ہو تو اسی پر بھروسا کرو اگر تم فرمانبردار ہو۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿إِنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرَاۃَ فِیْہَا ہُدًی وَنُورٌ یَحْکُمُ بِہَا النَّبِیُّونَ الَّذِیْنَ أَسْلَمُواْ لِلَّذِیْنَ ہَادُوا﴾ ( مائدہ :۴۴)

’’بے شک ہم نے تورات اتاری، جس میں ہدایت اور روشنی تھی، اس کے مطابق فیصلہ کرتے تھے انبیاء جو فرماں بردار تھے، ان لوگوں کے لیے جو یہودی بنے ....۔‘‘

اور بلقیس کے بارے میں فرمایا:

﴿ قَالَتْ رَبِّ إِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَأَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْْمَانَ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ﴾(نمل :۴۴) 

’’ بولی: اے میرے رب! بے شک میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور میں سلیمان کے ساتھ اللہ رب العالمین کے لیے فرماں بردار ہو گئی۔‘‘

اور حوارین سے ان کا قول حکایت کرتے ہوئے فرمایا:

﴿ وَإِذْ أَوْحَیْْتُ إِلَی الْحَوَارِیِّیْنَ أَنْ آمِنُواْ بِیْ وَبِرَسُولِیْ قَالُوَاْ آمَنَّا وَاشْہَدْ بِأَنَّنَا مُسْلِمُونَ ﴾ ( مائدہ: ۱۱۱)

’’اور جب میں نے حواریوں کی طرف وحی کی کہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لاؤ، انھوں نے کہا ہم ایمان لائے اور گواہ رہ کہ بے شک ہم فرماں بردار ہیں ۔‘‘

چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وہی تعلیمات کو دے کر بھیجے گئے تھے جو دوسرے انبیاء اور رسل کو دیئے گئے تھے ان سے پہلے یعنی اللہ تعالیٰ کی وحدہ لا شریک کی عبادت اور ان کے لیے ان بعض چیزوں کو اس نے حلال قرار دیا جو ان پر تورات میں پہلے حرام کر دیے گئے تھے اور ان کی ملت ایک مدت تک اس کی اتباع پررہے کہا گیا کہ سو سال سے کم مدت تک پھر ان میں بھی یہود کے ساتھ دشمنی کے سبب بدعتیں پیدا ہو گئیں پس وہ ان کے ساتھ اختلاف کا انہوں نے ارادہ کیا پس مسیح کے بارے میں انہوں نے غلو اور حد سے تجاوزاختیار کیا اور انہو ں نے ان بعض اشیاء کو حلال قرار دیا جو ان پر حرام کر دئے گئے تھے یعنی خنزیر اور اس کے علاوہ دیگر حرام چیزوں کو مباح کر دیا اور ایسے شرکاء کے قائل ہو گئے جو دوسری امم اور دوسری ملتوں میں اللہ سے شریک ٹھہرائے جاتے تھے اس لیے کہ یونان اوروم کے مشرکین شمس اور قمر اور بتوں کے سامنے سجدہ کرتے تھے تو نصاریٰ نے اپنی عبادت کو ان مجسم بتوں کی عبادت سے جن کے لیے سایہ اور ظل ہوتا ہے سے منتقل کر کے ان تماثیل کی عبادت کی طرف لے کر آئے جن کی عبادت خانوں میں تصاویر بنی ہوتی تھیں ۔ اور مشرق کی طرف نماز پڑھنے کی بدعت انھوں نے رائج کی۔ پس انہوں نے اس جہت کی طرف نماز پڑھنی شروع کی جس طرف سے سورج ،چاند اور کواکب ظاہر ہوتے ہیں ۔اور انہوں نے ان مخلوقات کی طرف یعنی شمس و قمر اور کواکب کی طرف نماز پڑھنے کو ان کے لیے نماز پڑھنے اور ان کے لیے سجدہ کرنے کے عوض قرار دیا۔

مقصود ہے کہ نصاریٰ کادین تحریف شدہ ہونے کے باوجود ان لوگوں کے دین سے بہتر تھا جو اہل یونان تھے اور فلاسفہ کی اتباع کرنے والے تھے اسی وجہ سے وہ فلاسفہ جنہوں نے دین اسلام کو دیکھا تھا وہ کہتے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دین تمام ادیان سے بہتر ہے اور ان کا خیال یہ تھا کہ وہ نصاریٰ اور مجوس اور ا ن کے علاوہ دیگر ادیان سے بھی بہتر ہے پس انہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین میں کوئی طعن واعتراض نہیں کیا جس طرح کہ ان لوگوں نے طعن کیا جو فلاسفہ میں سے زنادقہ ہیں اور ان کا خیال یہ تھا کہ اس دین کے بارے میں متکلمین جواعتراضات کرتے ہیں وہ صریح معقول کے خلاف ہیں پس اس کے بسبب انہوں نے ان پرطعن کیا اور کہنے لگے کہ جوشخص متعصب نہ ہو اور وہ خواہشات کا اتباع کرنے والا نہ ہو تو وہ وہ بات نہیں کہے گا جو یہ لوگ مبدأ اور معاد کے بارے میں کہتے ہیں ۔


صفحہ 2 از 2