شان امیر معاویہ رضی اللہ عنہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ…

شان امیر معاویہ رضی اللہ عنہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ مومن ہیں۔(صحیح حدیث نبویﷺ)

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 2
نبی کریمﷺ کے اس مشہور فرمان سے سیدنا حسن اور سیدنا امیرِ معاویہؓ کے بیچ ہونے والی اس تاریخی صلح کا ذکر ہے جس سے مسلمانوں کے درمیان کئی سالوں سے جاری جنگوں کا خاتمہ ہوا اور مکمل راضی و خوشی سے اتحاد قائم ہوگیا تھا۔
اس تاریخی صلح سے دشمنانِ اسلام کو عبرتناک شکست ہوئی اور فتنہ و فساد کے دور کا خاتمہ ہوگیا۔
صحیح بخاری کی اس حدیث کے مطابق نبی کریمﷺ سیدنا حسنؓ کی اس صلح کو اور دونوں جماعتوں کو سخت اختلافات اور جنگوں کے باوجود مسلمانوں کی جماعت قرار دے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ یہ صلح جنگِ جمل اور جنگِ صفین کے بعد یعنی سنہ 41 ہجری کا واقعہ ہے۔
بحیثیتِ مسلمان ہمارہ ایمان ہے کہ نبی کریمﷺ کی طرف سے کسی غلط بات کا ارشاد ہونا ممکن نہیں ہے بلکہ نبی کریمﷺ کا فرمان بھی وحی الہٰی ہوتا ہے۔
سیدنا حسنؓ کی طرف سے مسلمانوں کی دو عظیم جماعتوں کے بیچ صلح کی پیشیں گوئی بزبانِ نبویﷺ‎ کا ذکر نہ صرف صحیح بخاری بلکہ اہلِ سنت اور شیعہ مسلک کی کئی معتبر کتب میں موجود ہے۔
اہلِ سنت کتب:
1: صحیح ترمذی: جلد، 5 حدیث: 3773
2: مسند احمد: جلد، 5 حدیث: 44
3: تاریخ بغداد: جلد، 3 صفحہ، 215
4: کنز العمال: صفحہ، 12 13 حدیث: 34301، 34304۔
5: سنن نسائی: جلد، اوّل حدیث:1411
6: سنن ابی داؤد: جلد، چہارم حدیث: 4662
شیعہ کتب:
1: کشف الغمہ: جلد، اوّل صفحہ، 546 مطبوعہ تبریز
2: چودہ ستارے: صفحہ، 180
نبی کریمﷺ کا یہ فرمان عالیشان سنی و شیعہ کتب دونوں میں فضائل سیدنا حسنؓ میں موجود ہے۔
فرمانِ رسالت مآبﷺ میں یہ الفاظ ہیں کہ مسلمانوں کے دو عظیم گروہوں کے درمیان صلح کرائے گا۔
یہ ایسے الفاظ ہیں جن سے:
سیدنا حسنؓ والے گروہ 
سیدنا امیرِ معاویہؓ والے گروہ
یعنی دونوں گروہوں کے ایمان و مسلمان ہونے کی خود زبانِ نبوی نے تصدیق فرمادی ہے۔
حسنینِ کریمینؓ نے صلح اور بیعتِ سیدنا امیرِ معاویہؓ کر کے اس پیشیں گوئی کی تائید فرما دی۔
اب کس کی جرأت ہے کہ اللہ کے محبوب جسے مؤمن فرمائیں! وہ اسے دائرہ ایمان سے نکال سکے!
جب کہ حقیقت یہ ہے کہ زبانِ نبوت کا انکار کر کے ایسا بدبخت خود ہی مؤمن نہ رہا!
حسنینِ کریمینؓ جس ہستی کی بیعت فرما لیں اور تادم آخر بیس سال تک 41 سے 60 ہجری اس بیعت پر قائم بھی رہے ہوں! کیا یہ دونوں ہستیاں غیر مؤمن کی بیعت کر سکتی تھیں؟
سیدنا حسنؓ کی طرف سے سیدنا امیرِ معاویہؓ سے صلح کرنا تاریخ کی ناقابلِ تردید حقیقت ہے۔
جوانانِ جنت کے سرداروں نے یہ صلح اور سیدنا امیرِ معاویہؓ کی بیعت کر کے پوری دنیا کو یہ پیغام دیا کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ اور اس کی جماعت مؤمن اور سچے پکے مسلمان ہیں۔
اسلامی تعلیمات کے مطابق کسی مرتد، کافر یا مشرک کے آگے سر جھکانا، یا پوری اسلامی ریاست کی سربراہی دینا یا بعد میں 20 سال مسلسل ان کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
حسنین کریمینؓ کی طرف سے اس طرح کے غیر اسلامی فعل کا ہونا ممکن نہیں بلکہ ان کی شان کے خلاف ہے۔
کتبِ شیعہ میں بھی صاف لفظ بیعت موجود ہے۔ جس کے بعد شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔
1: مروج الذہب للمسعودی: جلد، سوم صفحہ، 7 مطبوعہ بیروت۔
2: رجال کشی: صفحہ، 102مطبوعہ کربلا ذکر قیس بن سعد۔
3: احتجاج طبرسی: جلد، دوم صفحہ، 9 مطبوعہ نجفِ اشرف جدید۔
4: جلاء العیون: جلد، اوّل صفحہ، 403 مطبوعہ تہران جدید۔
5: مقتل ابی مخنف: صفحہ، 302 مطبوعہ مکتبہ حیدریہ نجفِ اشرف 1375 ہجری۔
6: کشف الغمہ فی معرفتہ الائمہ: جلد، اوّل صفحہ، 571 طبع تبریز۔

صفحہ 2 از 2