Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی طرف سے حضرت ابوعبیدہ اور معاذ رضی اللہ عنہما کے مشترکہ خط کا جواب

  علی محمد الصلابی

جب حضرت حسان بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے بھتیجے حضرت شداد بن اوس بن ثابت رضی اللہ عنہ، ابوعبیدہ اور معاذ رضی اللہ عنہما کا مشترکہ خط لے کر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے تو آپؓ نے ان کے خط کا اس طرح جواب دیا:

’’میں اس اللہ کا شکر گزار ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں، تم دونوں کو اللہ کے تقویٰ کی نصیحت کرتا ہوں، کیونکہ اسی سے تمہارے رب کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے، اسی میں تمہاری خوش نصیبی مضمر ہے اور اسی کو ارباب ہوش اپنے لیے گراں قدر نعمت تصور کرتے ہیں۔ تمہارا خط موصول ہوا، تم نے لکھا ہے کہ خلافت سے پہلے مجھے اصلاح نفس کی فکر رہا کرتی تھی۔ یہ تم نے کیسے جانا؟ یہ تو تم دونوں کی طرف سے میرا تزکیہ ہے، تم نے لکھا ہے کہ میں مسلمانوں کا حاکم اعلیٰ ہوگیا ہوں اور اب بڑے چھوٹے، دشمن و دوست، قوی و ضعیف سب میرے پاس آتے ہیں اور سب کے لیے میری میزان عدل میں حصہ ہے۔ تم دونوں نے مجھے اس بات کہ عمر! انصاف کے وقت آپ کی طرف سے ان کے ساتھ کوئی نا انصافی نہ ہو، بلاشبہ اللہ کی مدد کے بغیر کوئی کام ٹھیک ٹھیک انجام نہیں دیا جا سکتا۔ تم نے مجھے آنے والے دن سے ڈرایا ہے، جسے شب و روز کی گردش لا کر رہے گی، یہ گردش ہر نئے کو پرانا اور ہر بعید کو قریب تر کر دیتی ہے، ہر موعود کو لے کر آتی ہے، اس کی بدولت ایک دن قیامت آجائے گی جب سارے راز کھل جائیں گے اور چھپی ہوئی برائیاں ظاہر کر دی جائیں گی۔ جب ایک طاقتور بادشاہ کے سامنے لوگ تصویر اطاعت بنے کھڑے ہوں گے۔ امید و بیم کے ساتھ اس کے فیصلہ کے منتظر ہوں گے اور اس کی رحمت کے متلاشی ہوں گے۔ تم دونوں نے لکھا ہے کہ تمہیں یہ بات پہنچی ہے کہ اس قوم میں ایسے لوگ ہوں گے جو بظاہر دوست اور اندر سے دشمن ہوں گے، سو ابھی وہ زمانہ نہیں آیا۔ یہ منافقت قیامت کے قریب رونما ہوگی جب دنیوی نقصانات کے خوف یا فائدہ کی خواہش سے لوگ سرگرم عمل ہوا کریں گے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہارا حاکم اعلیٰ بنایا ہے، میں اس ذمہ داری کو نبھانے کے لیے ہمیشہ اللہ سے مدد کا طالب ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ جیسے اور چیزوں سے محفوظ رکھا ہے مجھے اس میں لغزش سے محفوظ رکھے۔ میں ایک مسلمان آدمی اور اللہ کا کمزور بندہ ہوں مگر یہ کہ وہ مجھے مدد سے نواز دے۔ خلافت کی باگ ڈور ان شاء اللہ میرے اخلاق میں کوئی تبدیلی نہیں پیدا کرے گی۔ عظمت و بڑائی صرف اللہ کے لیے ہے، بندوں کا اس میں کوئی حصہ نہیں۔ یہ نہ کہو کہ جب سے عمر نے حکومت سنبھالی ان کے اخلاق و عادات بدل گئے۔ میں حق کو خود سمجھتا ہوں اور اسی کی لڑائی لڑتا ہوں اور تمہارے سامنے اپنے معاملات کھول کھول کر رکھتا ہوں۔ جس شخص کو کوئی بھی ضرورت ہے یا اس پر کسی نے ظلم کیا ہو، تو اس کے بارے میں میرا اعلان عام ہے کہ اس سے متعلق میرے اور کسی مسلمان کے درمیان کوئی رواداری نہیں۔ تمہاری درستی مجھے محبوب اور بے راہ روی باعث تکلیف ہے۔ میں اپنی امانت اور فرائض کا ذمہ دار ہوں۔ جو چیز میرے لیے ضرر رساں ہے ان شاءاللہ میں اسے اچھی طرح جانتا ہوں، اسے کسی دوسرے کو نہیں سونپتا۔ اس سلسلہ میں امانت دار اور امت کے بہی خواہ لوگوں کی ضرورت ہے ایسے ہی لوگوں کو منتخب کرتا ہوں اور انہی کو ذمہ داریاں دیتا ہوں اور ان شاءاللہ کبھی ان کے علاوہ دوسروں کو اپنا مشیر و ذمہ دار نہ بناؤں گا۔ رہی دنیا کی حکومت و سلطنت، تو سچ ہے کہ جو کچھ تم دیکھ رہے ہو وہ بالآخر فنا ہو جائے گا اور ہم سب آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ ہم میں سے کوئی کسی پر حاکم یا امیر بنے اس سے ایک دوسرے کے دین و دنیا کا کچھ نقصان ہونے والا نہیں ہے بلکہ حاکم ہی دین ودنیا میں فتنہ کے زیادہ قریب اور ہلاکت میں واقع ہوتا ہے۔ سوائے ان حکام کے جن کو اللہ تعالیٰ اپنے فضل خاص سے بچا لے اور ایسے لوگ بہت کم ہیں۔‘‘

(فتوح الشام، صفحہ 99 تا 102)