Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

طرفین کی افواج

  علی محمد الصلابی

 رومی افواج

سالار اعظم: ہرقل

امیر دمشق: نسطاس بن نسطورس

دمشق کی فوج کا کمانڈر جنرل: باہان، جس نے یرموک میں شرکت کی تھی اور وہاں سے بھاگ کر یہاں آیا تھا، اس کا نام وردیان تھا۔

دمشق میں موجود رومی افواج کی تعداد ساٹھ ہزار (60،000) جنگجو اور ’’حمص‘‘ سے مزید بیس ہزار (20،000) احتیاطی فوج کی آمد کی توقع، جن کا مقصد ہوگا دفاعی پٹی کو مستحکم بنانا اور چالیس ہزار (40،000) جنگجو جنگ کے ابتدائی مرحلے میں پیش پیش رہنے والے۔ اسی طرح انہوں نے اپنی جنگی پالیسی کو نہایت مفید ومستحکم بنانے کے لیے دمشق کو نہ چھوڑا، تا کہ اس کی عظیم الشان عمارتوں، قلعوں اور بلند و مضبوط فصیلوں سے فائدہ اٹھاسکیں۔ ساتھ ہی اس امدادی فوج کے منتظر تھے جو ہرقل کی طرف سے آکر آغاز جنگ کی ابتدائی کارروائی کرتی۔

فحل میں رومی فوج کو اپنوں کا تعاون مل ہی رہا تھا، مزید ان کے ساتھ یرموک کی ہزیمت خوردہ وہ فوج بھی تھی جس کی معنوی قوت جواب دے چکی تھی، اعصاب شکست خوردہ تھے اور فرار کے علاوہ ان کے سامنے کوئی راستہ نہ تھا، گویا وہ پست ہمت اور بہت گھبرائے ہوئے تھے۔