اکثر فلاسفہ کا قول:عالم کا مادہ اس کی صورت پر متقدم ہے -…

اکثر فلاسفہ کا قول:عالم کا مادہ اس کی صورت پر متقدم ہے

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 2

’’ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبا خطبہ دیا جس میں آپ نے ابتدائے تخلیق کا ذکر کیا۔ یہاں تک لمبا خطبہ دیا اہل جنت کا اپنے جنت میں دخول کا ذکر فرمایا اور اہل نار کا نار کا جہنم کے اندر دخول کا ذکر فرمایا۔‘‘

اسی طرح تورات میں بھی اس باب میں قرآن کی خبر کے موافق باتیں ہے اور یہ بات کہ زمین پانی کے ساتھ معمور تھی اور ہوا پانی کے اوپر ہوا چلتی تھی اور یہ بات کہ اولِ امر میں اللہ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدافرمایا او ریہ کہ اللہ نے اس کو ایام میں پیدا فرمایا ہے اسی وجہ سے علمائے اہل کتاب میں سے وہ بھی ہیں جو اس بات کے قائل ہیں جس کو اللہ نے تورات میں ذکر کیا ہے اور وہ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ اس نے اس عالم کو ایک اور مادے سے پیدا فرمایا ہے ۔

یہ کہ اس نے اس کو ایک ایسے زمانے میں پیدا فرمایا ہے جو کہ شمس و قمر کی پیدائش کے زمانے سے پہلے تھا اور اللہ تعالیٰ نے قرآن اور اس کے علاوہ دیگر کتابوں میں آسمانوں اور زمینوں کی تخلیق سے متعلق جو باتیں ذکر فرمائیں اس میں یہ مذکور نہیں ہے کہ اس نے آسمانوں اور زمنیوں کو بغیر کسی مادے کے پیدا فرمایا اور یہ بھی نہیں کہ اللہ نے انسانوں اور ملائکہ کو ایک مادے سے پیدا فرمایا بلکہ اللہ تعالیٰ خبر دیتے ہیں کہ ان کو ایک مادے سے پیدا فرمایا اگرچہ وہ مادہ ایک اور مادے سے مخلوق تھا جیسے کہ انسان کو آدم سے پیدا فرمایا اور آدم کو مٹی کے گارے اور صحیح مسلم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا :

((خلقت الملائکۃ من نور وخلقت الجان من مارج من نار وخلق آدمم مماوصف لکم۔)) [مسلِم 4؍2294کِتاب الزہدِ والرقائِقِ،؛ المسند 6؍153، 168.]]

’’میں نے ملائکہ کو نور سے پیدا فرمایا؛ اور جنات کو آگ کے شرارے سے اور آدم کو اس چیز سے پیدا فرمایا ہے جو تمہارے سامنے بیان کر دیا گیا ہے۔‘‘

یہاں تو مقصود یہ ہے کہ فلاسفہ قدماء کے آئمہ سے جو بات منقول ہے وہ اُن باتوں کے مخالف نہیں جو انبیاء کرام نے بیان کر دی ہیں یعنی اس عالم کوکسی مادے سے پیدا فرمانا بلکہ ان سے جو منقول ہے وہ یہ ہے کہ یہ عالم تو حادث ہے اورعدم کے بعد موجود ہوا ۔

رہا ان کا مادے کے بارے میں قول کہ وہ قدیم الاعیان ہیں ،حادث ہیں بعد اس کے کہ معدوم تھے یا وہ حادث ہیں کسی اور مادے سے ایک دوسرے مادے کے بعد تو اس باب میں ان سے منقول اقوال مضطرب ہیں اور اللہ تعالیٰ کو تو ان لوگوں میں سے ہر ایک کے قول کی حقیقت کا زیادہ علم ہے اس لیے کہ یہ تو ایک ایسی جماعت ہے کہ جن کی اصل کتابوں کو ایک زبان سے دوسری زبان میں تبدیل کر دیا گیاہے اور ایسی حالت میں بسا اوقات ایسا جھوٹ اور غلطیان پیدا ہوجاتی ہیں جن کی حقیقت کا کچھ پتہ نہیں چلتا یعنی یہ نہیں معلوم ہوتا کہ کتنا اس میں تحریف کیا گیا ہے اور کتنا اس میں صحیح بلفظہ ترجمہ کیا گیا ہے لیکن ان سے جو نقول اور عبارات تواتر کے سااتھ منقول ہیں وہ مثل متواتر کے ہیں اور ان میں سے ہرطائفہ کے قول کے جاننے سے ہمارا کوئی خاص غرض وابستہ نہیں بلکہ ہم تو ان کے بارے میں یہی کہہ کر بات ختم کرتے ہیں :

﴿ تِلْکَ أُمَّۃٌ قَدْ خَلَتْ لَہَا مَا کَسَبَتْ وَلَکُم مَّا کَسَبْتُمْ وَلاَ تُسْأَلُونَ عَمَّا کَانُوا یَعْمَلُونَ ﴾ ( البقرہ ۱۳۴)

’’یہ ایک امت تھی جو گزر چکی، اس کے لیے وہ ہے جو اس نے کمایا اور تمھارے لیے وہ جو تم نے کمایا اور تم سے اس کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔‘‘


صفحہ 2 از 2