دمشق کا محل وقوع اور ماحول
علی محمد الصلابیدمشق اس دور کا ایک بڑا شہر تھا، اس کا نام اس کے موسس ’’دمشاق بن کنعان‘‘ کے نام پر رکھا گیا ہے، یہ شاہان مصر کے اٹھارویں خاندان کے عہد حکومت میں مصر کا محکوم ہوگیا تھا، یہ تاریخ کا ایک قدیم ترین شہر تھا، ابتدا میں یہ بت پرستی کا بہت بڑا مرکز تھا، لیکن جب مسیحیت آئی تو اس کے بت کدے کو کلیسا بنا دیا گیا، اپنے حسن و وقار کے لحاظ سے انطاکیہ کے کلیسا کو چھوڑ کر دنیا کا کوئی دوسرا کلیسا اس کا جواب نہ تھا۔ دمشق کے جنوب میں ’’بلقاء‘‘ کی سبزہ زار زمین اور شمال میں ’’جولان‘‘ کی پہاڑیاں تھیں، جن کے بیچ بیچ شادابیاں، لہلہاتی کھیتیاں اور شور مچاتے چشمے نظر آتے تھے۔ یہ ایک اہم تجارتی مرکز تھا، یہاں عرب آباد تھے اور مسلمانوں کے تجارتی قافلے یہاں آتے تھے اور اسی وجہ سے انہیں یہاں کے بارے میں معلومات حاصل تھیں۔ دمشق ایک فصیل بند شہر تھا، حفاظت و پائیداری کی حیثیت سے اسے امتیازی حیثیت حاصل تھی۔ چنانچہ اس کی فصیل بڑے بڑے پتھروں سے بنائی گئی تھی، فصیل کی بلندی چھ میٹر اونچی تھی، اس میں انتہائی مضبوط دروازے لگائے گئے تھے، اس کی چوڑائی تین میٹر کشادہ تھی۔ ہرقل نے دمشق سے فارسی حکومت کے حملے کے بعد شہر پناہ کو مزید مستحکم کر دیا تھا۔ دروازے مضبوطی کے ساتھ بند کیے جاتے، فصیل کے چاروں طرف گہری تین میٹر چوڑی خندق تھی، جس کو دریائے بردی کے پانی سے ہمیشہ بھرا رکھا جاتا تھا اور یہ دریا اسی کے لیے وقف تھا۔ اس طرح دمشق کافی مضبوط و محفوظ کی حیثیت رکھتا تھا جس میں داخل ہونا آسان نہ تھا۔
(الہندسۃ العسکریۃ: صفحہ 190)
اس مقام پر ہم اچھی طرح یہ بات محسوس کر سکتے ہیں کہ شہر دمشق کی حفاظت کے لیے رومیوں کی دفاعی تدبیریں کس قدر مضبوط و مستحکم تھیں۔ ان کی یہ مستحکم دفاعی تدبیریں ہمیں چند اہم نکات کی طرف اشارہ کرتی ہیں
دمشق کے چاروں طرف کسی جلد بازی میں یہ دفاعی تیاریاں نہیں کی گئی تھیں، بلکہ ایک طویل زمانہ سے اس میں یہ تمام دفاعی اسباب مہیا تھے، کیونکہ زمانہ قدیم ہی سے دمشق کو اپنے محل وقوع اور دیگر کئی اعتبار سے کافی اہم مقام حاصل تھا اور روم کو اس کے ہاتھ سے نکل جانے اور ایرانیوں کے اس پر غالب آجانے کا خطرہ لگا رہتا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ رومیوں نے جنگی نظم و نسق کی مہارت و کوشش سے آزاد و بے فکر ہو کر اور مناسب ترین تعمیری ذرائع کو استعمال کر کے پوری آزادی کے ساتھ اپنی دفاعی تدابیر کو کافی منظم و مستحکم کیا تھا، مزید برآں تعمیری امکانات کی جو آسانیاں رومی فوج کو فراہم تھیں وہ انہی کا حصہ تھیں۔
شہر دمشق کے چاروں طرف مستحکم رکاوٹوں کے وجود سے تعمیری ایجادات و اختراعات میں رومیوں کی صلاحیت نمایاں ہوتی ہے چنانچہ اختراعات کی انہی صلاحیتوں کی وجہ سے رومیوں کے جنگی ماہرین نے منظم (فصیل، خندق اور برجوں) کی ایجاد کے لیے زمین کی طبعی استواری حیثیت سے فائدہ اٹھایا، بالخصوص فصیل کے چاروں طرف کھودی ہوئی نہر کو بھرنے کے لیے دریائے بردی کو وقف کرکے اپنی جنگی فنی مہارت کا ثبوت دیا۔ مزید برآں اسے ان کئی اسباب کے لیے استعمال کیا جن کے ذریعہ سے شمال اور شمال مشرق کے راستے دشمن کے کسی بھی حملہ کو ناکام بنایا جا سکے۔
رومی قیادت کو دمشق کی فصیل بند خندق اور دیگر حفاظتی اسباب پر بہت زیادہ اعتماد تھا اور یہی وجہ تھی کہ وہ مختلف مقامات سے اپنا لشکر وہاں اکٹھا کر رہی تھی اور مکمل دفاعی پوزیشن میں تیار تھی اور دوسری طرف حمص میں بھی اس کی افواج آپسی اختلافات بھلا کر مسلمانوں پر حملہ کی کارروائی کے لیے متحد ہو چکی تھیں۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ دفاع کے سلسلہ میں میدانی جنگی تدابیر رومیوں کو مجبور کر رہی تھیں کہ وہ کسی طرح ان دفاعی پہلوؤں کو اختیار کریں اور بالآخر رومیوں میں جنگی قرارداد پاس ہونے کی یہی چیز اہم سبب بن بھی گئی۔ لہٰذا میدان جنگ کی کارروائیوں سے پیشتر جنگی فنون کی تمام تدبیروں و باریکیوں کا دقت سے جائزہ لینا از حد ضروری ہے۔
اس کے برعکس رومیوں کی میدانی جنگی تدابیر نے مسلمانوں کے لشکر کو دمشق میں گھسنے اور اس پر کسی بھی طرح حملہ کرنے سے روک دیا۔ رومیوں کے مستحکم حفاظتی بندوبست ان کے سامنے پہاڑ بن کر کھڑے ہوگئے اور مجبوراً اسلامی فوج کو اقدامی کارروائی چھوڑ کر ’’محاصرہ‘‘ کا طریقہ اختیار کرنا پڑا۔
تاریخی مصادر بتاتے ہیں کہ دمشق کا محاصرہ (70) ستر دنوں تک جاری رہا اور کافی سخت محاصرہ تھا۔ منجنیق اور منجنیق کا استعمال کیا گیا اور بڑے بڑے پتھروں کو فصیل کے اندر پھینکا گیا۔
(الہندسۃ العسکریۃ: صفحہ 190، 191)