رفتار جنگ
علی محمد الصلابیسیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے اپنی فوج کو ترتیب دیا اور دمشق کی طرف آگے بڑھے۔ فوج کی ترتیب اس طرح تھی:
قلب میں: سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ
میمنہ اور میسرہ میں: عمرو بن عاص اور ابو عبیدہ رضی اللہ عنہما ۔
گھوڑ سواروں کا جرنیل: حضرت عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ
پیدل فوج کے سپہ سالار: حضرت شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ
چونکہ دمشق کی فصیلوں میں کافی مضبوط اور بڑے بڑے دروازے لگے ہوئے تھے، جن کی وجہ سے نہ شہر کے لوگ باہر نکل سکتے تھے اور نہ باہر کے لوگ اندر جا سکتے تھے۔ اس لیے اسلامی افواج نے حصار کی قوت کو اس طرح منظم کیا
مشرقی دروازہ کا علاقہ، سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قیادت میں۔
باب جابیہ کا علاقہ سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کی قیادت میں۔
باب تو ما کا علاقہ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی قیادت میں۔
باب فرادیش کا علاقہ حضرت شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں۔
باب صغیر کا علاقہ یزید بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما کی قیادت میں۔
رومیوں کا خیال تھا کہ مسلمان طویل محاصرہ کی تکلیفوں کو نہیں برداشت کر سکیں گے، خاص طور پر سردی کے اس موسم میں، لیکن پختہ عقیدہ اور صبر جمیل کے حامل ان نمائندہ مسلمانوں نے بدلتے ہوئے حالات کا نہایت پامردی سے مقابلہ کیا۔ مسلم قائدین نے غوطہ دمشق کے ویران کنیسوں اور خالی مکانات کو مسلمانوں کی راحت و آرام کے لیے استعمال کیا، ہفتہ واری نظام کے مطابق باری باری جو فوج محاذ پر ہوتی وہ آکر آرام کرتی اور جب وہ چلی جاتی تو دوسری فوج آکر آرام کرتی اور دروازوں پر متعین ان فوجی دستوں کے پیچھے ان کی حمایت و نگرانی کے لیے دوسری فوج مقرر ہوتی۔ اس طرح طویل سے طویل محاصرہ پر بھی قابو پانا بالکل آسان ہوگیا تھا۔
(الہندسۃ العسکریۃ: صفحہ 192)
لیکن مسلمانوں نے اسی پر بس نہ کیا، بلکہ دشمن کی منظم رکاوٹوں کو توڑنے کے لیے ان کی میدانی تحقیقات اور جنگی چالیں اپنا کام کرتی رہیں اور رکاوٹوں کے اس منظم و طویل سلسلہ میں ایک ایسے مناسب مقام کے انتخاب میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کامیاب ہوگئے، جہاں سے دمشق میں داخل ہوا جا سکتا تھا۔ وہ دمشق کا سب سے بہتر خطہ تھا، اس مقام پر پانی کافی گہرا تھا اور وہاں سے داخل ہونا کافی دشوار طلب تھا۔
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 259)
سیدنا ابو عبیدہؓ نے دمشق میں داخل ہونے کی تدبیر یہ نکالی کہ چند رسیوں کو اکٹھا کیا تاکہ فصیل پر چڑھنے اور دمشق میں اترنے کے لیے ان میں پھندا لگا کر سیڑھیوں کا کام لیا جا سکے۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو کسی ذریعہ سے یہ خبر مل گئی تھی کہ دمشق کے بطریق (رومیوں کا جرنل) کے یہاں بچے کی ولادت ہوئی ہے اور سارے لوگ، جن میں اس کے محافظ سپاہی بھی تھے، دعوت میں مشغول ہیں، چنانچہ وہ سب کھا پی کر فارغ ہوئے اور خوب مست ہو کر سوگئے اور اپنی اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہوگئے۔ شام ہوئی تو حضرت خالد بن ولیدؓ نے اپنے ساتھ رومی مخبر کو لیا، حضرت قعقاع بن عمرو اور مذعور بن عدی رضی اللہ عنہما کو بھی ساتھ لے کر آگے بڑھے اور باقی فوج سے کہا کہ جب تم فصیل پر نعرہ تکبیر سننا تو ہماری طرف چڑھ آنا اور لپک کر دروازے کھول دینا۔
(الہندسۃ العسکریۃ: صفحہ 192 البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 20)
اس طرح سیدنا خالد رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے چمڑے کے دو مشکیزوں کے سہارے پانی سے لبریز خندق کو عبور کیا
(الہندسۃ العسکریۃ: صفحہ 92، 193)
اور فصیل تک پہنچ گئے اور رسیوں میں پھندا لگا کر انہیں سیڑھی کے کام لانے کے لیے فصیل کی بالائی سطح سے پھنسا دیا، جب رسی کا پھندا اچھی طرح پھنس گیا تو قعقاع اور مذعور رضی اللہ عنہما پھندوں کے ذریعہ اوپر چڑھ گئے اور دوسری جتنی رسیاں اس مقصد کے لیے تیار کی گئی تھیں سب کو فصیل سے نیچے لٹکا دیا، تاکہ ہمارے پیچھے کے دیگر فوجی اس کے سہارے فصیل پر چڑھ جائیں پھر جو لوگ پہلے چڑھے تھے وہ خاموشی سے فصیل کے اندر اتر کر دروازے تک پہنچ گئے اور حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے ساتھ کافی لوگ جمع ہوگئے۔ آپؓ جب فصیل کی بلندی پر چڑھے تب زور سے نعرہ تکبیر بلند کیا، یہاں تک کہ دوسری جماعت بھی وہاں تک پہنچ گئی اور پھر سب لوگوں نے نیچے اتر کر فصیل کے دروازے کا رخ کیا اور اس کی کنڈیوں کو تلوار سے کاٹ کاٹ کر الگ کر دیا، اس طرح اسلامی فوج دمشق میں داخل ہوگئی۔
(الہندسۃ العسکریۃ: صفحہ 192)