Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

فتح دمشق کے اہم دروس و عبر اور فوائد

  علی محمد الصلابی

فتح دمشق بذریعہ صلح یا جنگ؟

دمشق کیسے فتح ہوا تھا، بذریعہ صلح یا بذریعہ جنگ؟ اس سلسلہ میں مؤرخین کا اختلاف ہے۔ اکثر مؤرخ اس بات کے قائل ہیں کہ صلح پر معاملہ رفع دفع ہو گیا تھا، کیونکہ انہیں اس بات کا کوئی علم نہیں کہ پہلے کیا ہوا اور بعد میں کیا؟ یعنی کیا شروع میں بذریعہ جنگ فتح کا دروازہ کھلا اور بعد میں رومیوں نے مصالحت کر لی یا شروع ہی سے وہ صلح جو تھے؟ یا فریق ثانی کے دباؤ میں آکر بدرجہ مجبوری صلح کی؟ چنانچہ اس شک کی بنا پر اس صلح کو وقتی و احتیاطی صلح کا نام دیا ہے۔

اور بعض مؤرخین کے نزدیک دمشق کا نصف حصہ بذریعہ صلح اور نصف حصہ بذریعہ جنگ فتح ہوا۔ اس قول کی تائید صحابہ کرامؓ کے اس عمل سے ہوتی ہے کہ انہوں نے جب مسیحیت کے سب سے بڑے کنیسہ پر قبضہ کیا تو نصف اپنے حصہ میں رکھا اور نصف نصرانیوں کے لیے چھوڑ دیا۔

(ترتیب وتہذیب البدایۃ والنہایۃ: صفحہ 56)

واللہ اعلم