ارادے کے ساتھ مراد کی مقارنت کے بارے میں تین تقدیرات - ردِ…

ارادے کے ساتھ مراد کی مقارنت کے بارے میں تین تقدیرات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 5

ارادے کے ساتھ مراد کی مقارنت کے بارے میں تین تقدیرات

یہاں مقصود یہ ہے کہ جب ارادے کے بارے میں یہ کہا جائے کہ ارادے کے ساتھ اس کی مراد مقارنت واجب ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے ماسوا تمام چیزوں کے حدوث پر دلیل ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ (یہاں تین صورتیں ممکن ہیں )

اول:.... یہ امرممکن اور جائز ہے کہ ارادے کے ساتھ اس کی مراد مقارن ہو ۔

دوم:.... یہ ارادے کے ساتھ اس کی مراد مقارن نہ ہو ۔

سوم:.... یہ کہا جائے کہ ارادے کے ساتھ اس کی مراد کی مقارنت ممتنع ہے تو ان تینوں تقدیرات پراللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا تمام چیزوں کا حدوث واجب ہے ۔

پہلی تقدیر پر تو اس لئے کہ اگر وہ ارادہ ازلی ہے تو یہ بات لازم آئی کہ تمام کے تمام مرادات ازلی ہوں پس عالم میں کوئی بھی شے حادث نہیں ٹھہرے گی حالانکہ یہ مشاہدہ اور حس کے خلاف ہے اور ہمارے اس قول کی مثال ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے اعتبار سے ازل میں اشیاء کے لیے موجب اور محدث ہیں یا وہ اپنے معلول کی علت ِ تامہ ہے تو یہ بات لازم آئے گی کہ اس کے تمام موجبات اور اس کے تمام معلولات ازل میں اس کے ساتھ مقارن ہوں پس کسی بھی شے کا حدوث ممتنع ٹھہرے گا اگرچہ وہاں کوئی ارادہ حادثہ بھی پایا جائے اس لیے کہ اس میں کلام بالکل اُسی طرح ہے جس طرح کہ دوسرے حوادث میں کلام ہے کہ اگر وہ اس ارادہ ازلیہ سے حادث ہوتے ہیں جس کی اپنی مراد کے ساتھ مقارنت واجب ہے تو وہ ممتنع ٹھہرے گا اور اگر وہ بغیر کسی ارادے اور سببِ حادث کے حادث (پیدا )ہیں تو وہ ممتنع ٹھہرے گا پس واضح طور پر یہ بات ثابت ہو گئی کہ ارادے کے ساتھ مراد کی مقارنت کے وجوب کے قول پر عالم میں سے کسی بھی شے کا قدم ممتنع ٹھہرے گا خواہ ارادے کے قدم کے قول کو اختیار کیا جائے یا اس کے قدم کے قول کو۔

یا بعض اشیاء کے قدم اور بعض کے حدوث کا اور اگر یہ کہا جائے کہ ارادے کیساتھ مراد کی مقارنت جائز اور ممکن ہے اور اس سے اس کاتاخر بھی ممکن ہے تو اس تقدیر پر پورے عالم کا ایک ایسے ارادہ قدیمہ ازلیہ کے ذریعے حدوث ممکن ٹھہرے گا جس میں بالکل تجدد نہ ہو جس طرح کہ کلابیہ کا یہ قول ہے اور ان لوگوں کا جو ان کے موافق ہیں یعنی اشعریہ کرامیہ میں سے اور ان فقہاء میں سے جو ائمہ اربعہ کی طرف منسوب ہیں اور اس تقدیر پر تو حوادث کا حدوث بغیر کسی سببِ حادث کے ممکن ٹھہرا ؛ایسے ہی دو متماثلین میں سے ایک کا دوسرے پر محض ایک ارادہ قدیمہ کے ذریعے ترجیح لازم آئی اور اس تقدیر پر عالم کے قدم کے قائلین کی حجت باطل ہو گئی اور ان لوگوں نے یہ بات اس وجہ سے کہی کہ یہ آثار میں تسلسل کے بطلان کا عقیدہ رکھتے ہیں اورایسے حوادث کے امتناع کا عقیدہ رکھتے ہیں جس کے لیے کوئی اول نہ ہو پس اگر ان کا یہ اعتقاد اور الزام حق ہے اور یہ کہ ایسے حوادث کا وجود ممتنع ہے جس کے لیے کوئی اول نہ ہو یعنی وہ ازلی ہوں تو ایسی صورت میں عالم کا حدوث لازم آئے گا اور قدم کا قول ممتنع ٹھہرے گا اس لیے کہ بے شک ان میں سے کوئی شے بھی حوادث کی مقارنت سے خالی نہیں ہوگی یہاں تک کہ عقول اور نفوس بھی ان لوگوں کے نزدیک جو اس کے اثبات کے قائل ہیں اسی لیے کہ یہ عقول اور نفوس کے قائلین کے نزدیک ان کا حوادث کے ساتھ مقارنت ضروری ہے پس ایسے حوادث کا وجود ممتنع ہے جو ازلی ہوں تو جو شے حوادث سے سابق نہیں ہے وہ اس کے بمنزلہ ٹھہرا پس اِس(مسبوق) کا قدم بھی ممتنع ہوا جس طرح کہ ُاس(سابق) کا قدم ممتنع ہے ۔

اگر ان لوگوں کایہ اعتقاد اور الزام باطل ہے تو پھر حوادث کا دوام ممکن ٹھہرا اور اس تقدیر پر مراد کا اپنے ارادے کے ساتھ مقارنت بھی ممکن ہوا اصل میں اور کسی بھی شے کا حدوث ممتنع ہوا الا یہ کہ کوئی سببِ حادث پایا جائے اور اسی صور ت میں عالم میں سے کسی بھی شے کاازلی ہونا ممتنع ٹھہرا ۔

اگر یہ بات ممکن مان لی جائے کہ صرف نوعِ حوادث کے لیے دوام ثابت ہے یعنی وہ ازلی ہیں تو بے شک ازل کسی شے معین سے عبارت نہیں بلکہ کوئی بھی وقت ایسا نہیں جس کو فرض کر لیا جائے مگر یہ کہ اس سے پہلے ایک اور وقت پایا جاتا ہے پس نوع کے دوام سے کسی شے معین کا قدم لازم نہیں آتا

بے شک یہ کہا جاتاہے کہ کسی شے معین کا قدم ممتنع ہے اس لیے کہ جب ازل میں مراد کے ساتھ اس کی مقارنت ممکن اورجائز ہے تو یہ بات واجب ہے کہ وہ مراد کے ساتھ مقارن ہو اس لیے کہ وہ ارادہ جس کا اپنی مراد کے ساتھ مقارنت ممکن ہو اپنی مراد سے متخلف اور الگ نہیں ہوتا مگر قدرت میں کسی نقص اور کمی کی وجہ سے ورنہ تو اگر قدرتِ تامہ ہو اوروہ ارادہ جس کا اپنی مراد کے ساتھ مقارنت ممکن ہے وہ حاصل اور موجود ہو تو مراد کا حصول لازم ہے بوجہ اُس مقتضی کے پائے جانے کے جو فعل کے وجود کا تقاضا کرتا ہے اور وہ تام بھی ہے کیوں کہ اگر یہ بات لازم نہ ہو باوجود یکہ مراد ممکن ہے تو پھر اس کے بعد اس کے حصول سے یہ لازم آئے گا کہ دونوں متماثلین میں سے ایک کو دوسرے پر بغیر کسی مرجح کے ترجیح دے دی جائے اور اس تقدیر پر یہ امرباطل ہے اس لیے وہ لوگ جو ازل میں حوادث میں سے کسی معین حادث کے امتناع کے قائل ہیں (یعنی کسی ایسے خاص ممکن کا وجود نہیں ہے جو ازل میں پایا جاتا ہو )وہ یہ کہتے ہیں کہ ارادے میں سے کسی شے کا حصول ازل میں ممتنع ہے وہ یہ نہیں کہتے کہ یہ ممکن ہے اور یہ کہ اس ارادے کا اپنے مراد کے ساتھ مقارنت ممکن ہے لیکن لوگوں نے ان پر یہ اشکالات وارد کئے ہیں :

صفحہ 1 از 5